امریکہ کی مشکلات

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 10 اگست 2017

امریکہ کے وزیر خارجہ  ریکس ٹلرسن نے اعتراف کیا ہے کہ افغانستان کے مستقبل کے بارے میں حکمت عملی تیار کرنا آسان نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ کی حکومت  افغانستان میں جنگ جیتنا چاہتی ہے اور امریکی حکام اعلان کرتے رہے ہیں کہ افغانستان اور پاکستان کے بارے میں نئی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے۔ اس حوالے سے جو اشارے سامنے آئے ہیں، ان میں پاکستان کے رویہ پر مایوسی کا اظہار  اور اسے تبدیل کروانے کے لئے زور ڈالا جاتا رہا ہے۔ افغانستان کے لئے نئی حکمت عملی تیار کرنے کا کام وہائٹ ہاؤس کی نیشنل سیکورٹی ٹیم کررہی ہے۔ اس مقصد کے لئے اب تک تین اجلاس ہو چکے  ہیں  اور وزارت خارجہ،  وزارت دفاع،  انٹیلی جنس کے اداروں اور کانگرس سے رائے لی گئی ہے  تاکہ جامع اور قابل عمل حکمت عملی تیار ہو سکے۔ تاہم اس حوالے سے سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ کے مختلف حلقوں میں اختلاف رائے موجود ہے اور کسی کے پاس کوئی قابل عمل اور مؤثر منصوبہ  موجود نہیں ہے۔

امریکہ افغانستان میں امن کا خواہاں اور اس مقصد کے لئے طالبان سے مذاکرات کے ذریعے  کسی حل تک پہنچنے  کی خواہش موجود  رہی ہے۔ امریکی حکام جانتے ہیں کہ  افغان طالبان کے ساتھ رابطہ اور مواصلت کے لئے پاکستان کا تعاون بے حد ضروری ہوگا۔ اسی لئے اب تک پاکستان کے ساتھ تعاون اور تنبیہ کی حکمت عملی اختیار کی جاتی رہی ہے۔ اب  امریکی حکومت کے سامنے سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا اس پالیسی کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ امریکہ نے پاکستان کی فوجی امداد محدود کرنے اور اس کے خلاف افغانستان میں دہشت گردی کرنے والے گروہوں  کی سرپرستی کرنے کے حوالے سے سخت رویہ اختیار کیا گیا ہے لیکن اس کے حسب خواہش نتائج سامنے نہیں آئے۔ گزشتہ دنوں صدر ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر مک ماسٹر نے ایک انٹرویو میں واضح کیا تھا کہ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ پاکستان اپنا رویہ تبدیل کرے۔

تاہم اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا امریکی صدر کی خواہش پوری کرنے کے لئے پاکستان اپنے طے شدہ  علاقائی اسٹریجک مفادات کے برعکس کوئی حکمت عملی تیار کرنے کے لئے تیار ہوگا۔ اور کیا امریکہ پاکستان کو اپنے تجویز کردہ طریقہ  کے مطابق تعاون کرنے پر آمادہ کر سکے گا۔ یہ دونوں سوال امریکہ کے پالیسی سازوں کے لئے درد سر بنے ہوئے ہیں۔ اسی لئے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا ہے کہ امریکی حکومت ہر آپشن پر غور کررہی ہے۔  امریکہ سولہ سترہ برس سے افغانستان میں جنگ میں مصروف ہے لیکن اب وہ اس کا حل چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لئے انٹیلی جنس معلومات،  فوجی منصوبہ بندی اور سفارتی پہلوؤں سے صورت حال کا جائزہ  لیا جارہا ہے  اور  اس کے مطابق حتمی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔

ٹرمپ حکومت جون تک یہ پالیسی تیار کرنا چاہتی تھی، پھر اسے جولائی تک ملتوی کیا گیا اور اب کہا جا رہا ہے کہ ستمبر تک اس حوالے سے معاملات طے کر لئے جائیں گے۔ اس کے باوجود یہ بات واضح نہیں ہے کہ اس مدت میں بھی امریکی حکومت کوئی قابل عمل پالیسی وضع کرسکے گی۔ اسی لئے سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئر مین جان مکین نے کہاہے کہ اگر اس وقت تک حکومت کسی نتیجہ پر نہ پہنچی تو سینیٹ کمیٹی بجٹ تجاویز  پر غور کرتے ہوئے خود اپنی سفارشات سامنے لائے گی۔

افغانستان کے مسئلہ کا حل تلاش کرنے کے لئے پاکستان کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی لئے افغانستان کی حکمت عملی بناتے ہوئے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو زیر بحث لایا جارہا ہے۔ دراصل یہ حکمت عملی پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کا تعین کرے گی۔ لیکن کیا امریکہ یہ خطرہ مول لے سکتا ہے کہ وہ پاکستان کو تنہا کرکے مکمل طور سے چین اور روس کے کیمپ میں دھکیل دے۔  اس اندیشے سے بچنے کے لئے پاکستان سے تقاضہ کیا جاتا ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف اقدامات کرے۔ اس مطالبہ  کا اصل مقصد یہی ہوسکتا ہے کہ اس طرح طالبان پر دباؤ میں اضافہ کرتے ہوئے انہیں ہتھیار پھینکنے اور سیاسی مذاکرات  شروع کرنے پر آمادہ کیا جاسکے۔  طالبان بظاہر  غیر ملکی فوجوں کی افغانستان میں موجودگی کے دوران کسی بھی قسم کی مفاہمت پر آمادہ نہیں ہیں۔ اس حوالے سے یہ سوال بھی اہمیت رکھتا ہے کہ کیا پاکستان افغان طالبان پر مذاکرات کے لئے اپنا ہر قسم کا اثر و رسوخ استعمال کررہا ہے۔ امریکیوں کا خیال ہے کہ پاکستان ایسا نہیں کرتا۔ یہی دونوں ملکوں کے درمیان اختلاف کی بنیادی وجہ  بھی ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس نے نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ کرتے ہوئے مالی اور جانی نقصان برداشت کیا ہے بلکہ اس کے خاتمہ کے لئے کسی بھی ملک سے زیادہ کامیابی حاصل کی ہے۔ جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ کامیابیاں صرف پاکستان میں  حملے کرنے والے گروہوں کے خلاف  حاصل کی گئی ہیں اور افغان طالبان اور ان کے حامیوں کو پاکستان میں تحفظ حاصل ہے۔ پاکستان ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

پاکستان کو اس حوالے سے یہ گلہ بھی ہے کہ امریکہ کی سرپرستی میں بھارت کو افغانستان میں رسائی حاصل ہوئی ہے اور وہ اس اثر و رسوخ کو پاکستان میں دیہشت گردی اور عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے استعمال کر رہا ہے۔  امریکہ کے لئے بھارت تجارتی مفادات کے علاوہ بحر ہند اور بحر جنوبی چین میں اسٹریجک حوالے سے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی لئے  پاکستان کے ساتھ کئی دہائیوں پر استوار دوستی کو تبدیل کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ  جوہری تعاون اور دفاعی معاہدہ کا راستہ ہموار کیا گیا ہے۔ امریکہ کی خواہش ہے کہ پاکستان طالبان پر اپنا پورا اثر و رسوخ اور دباؤ کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے سیاسی مفاہمت کا راستہ ہموار کروائے جبکہ پاکستان کو امریکہ سے یہ توقع رہی ہے کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈال کر  مقبوضہ کشمیر  کا مسئلہ حل کروانے  میں تعاون کرے گا۔ دونوں ملک ایک دوسرے کی  توقعات پر پورا اترنے کے لئے تیار نہیں۔

اس بارے میں پاکستان اور امریکہ کے رہنماؤں کو  یک دوسرے کی مجبوریوں اور خواہشات کا اچھی طرح علم ہے۔  امریکہ کو افغانستان میں حالات  کی  تبدیلی کے لئے پاکستان   کی ضرورت اور خواہش کے مطابق بھارت کو مذاکرات  کی میز پر واپس لانا ہوگا۔ بھارت میں نریندر مودی کی سخت گیر حکومت اور پاکستان میں سیاسی حکمت عملی پر فوج کی دسترس کی وجہ سے  اس مقصد  کا حصول بدستور مشکل ہے۔
 

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...