آئین کی بالا دستی

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 08 اگست 2017

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے آج راولپنڈی میں کور کمانڈر کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے ملک میں امن و امان کو یقینی بنانے اور آئین کی بالادستی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پاک فوج کے دفتر تعلقات عامہ کی طرف سے جاری ہونیوالی پریس ریلیز میں آرمی چیف کی طرف سے آئین کی بالا دستی کے حوالے سے رائے کو آخری سطر میں امن و امان کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے لیکن ملک کے میڈیا میں اسے اہم ترین خبر کے طور پر سامنے لایا گیا ہے۔ عدالتی حکم کے تحت نواز شریف کی وزارت عظمیٰ سے برطرفی اور نواز شریف کی طرف سے اسے سازش سے تعبیر کرنے اور سیاسی مستقبل کے لئے عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کے اشاروں سے پیدا ہونے والی صورت حال میں اس بات کو بے حد اہمیت حاصل ہوگئی ہے کہ فوج ملک میں تبدیل ہوتے ہوئے سیاسی حالات کے بارے میں کیا رائے رکھتی ہے۔ اور مستقبل میں اس کا جمہوریت اور آئین کی پاسداری کے حوالے سے کیا کردار ہوگا۔

ملک میں سیاسی تصادم کی صورت حال اطمینان بخش نہیں ہے۔ بد قسمتی سے سیاست میں فیئر پلے کا تصور موجود نہیں ہے ۔ فریقین ہر قیمت پر ایک دوسرے کو چت کرنے اور کسی بھی طرح سیاسی اقتدار حاصل کرنے کے لئے بے چین دکھائی دیتے ہیں۔ بعض تبصرہ نگاروں کے نزدیک یہ وہی حالات ہیں جو ہمیشہ فوجی مداخلت کا سبب بنے ہیں۔ اس لئے یہ بات اہم ہو جاتی ہے کہ فوج ان حالات کے بارے میں کیا سوچتی ہے اور ملکی سیاست میں اٹھنے والے طوفان میں وہ کیا کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ایسے میں اگر فوج کے سربراہ بالواسطہ ہی سہی یہ یقین دلاتے ہیں کہ ان کی کمان میں فوج آئین کی بالا دستی کے لئے کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو یہ ایک مثبت اشارہ ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی پیدا ہو تا ہے کہ فوج کا کام ملک کا دفاع کرنا اور حکومت وقت کی پالیسی کے مطابق امن و امان قائم رکھنا ہے۔ ایسے میں کور کمانڈر کانفرنس کے ذریعے بالواسطہ ہی سہی ، یہ بتانے کی ضرورت کیوں پڑتی ہے کہ فوج آئین کی بالادستی کے لئے کام کررہی ہے۔ کیا یہ بات کسی اعلان کے بغیر طے شدہ نہیں ہے۔

ملکی صورت حال سے قطع نظر پاک فوج کو بھارتی جارحیت اور ٹرمپ حکومت کی افغانستان کے حوالے سے بے چینی کی وجہ سے اندیشوں اور خطرات کا سامنا ہے۔ امریکی صدر کے قومی سلامتی کے مشیر جنرل مک ماسٹر نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ افغانستان کی جنگ جیتنے کے لئے پاکستان کے رویہ میں تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کو دوغلے پن کی پالیسی بدلنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف بہادری سے جنگ کررہا ہے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ ان گروہوں کے خلاف کارروائی کرتا ہے جنہیں وہ اپنے لئے خطرہ سمجھتا ہے جبکہ افغانستان میں سرگرم عمل گروہوں کو پاکستان میں سہولتیں اور پناہ حاصل ہے۔ امریکہ عرصہ دراز اس قسم کے الزامات پاکستان پر عائد کرتا رہا ہے لیکن اتنے ہی تواتر سے پاکستان ان کی تردید کرتا رہا ہے۔ تاہم پہلی مرتبہ امریکی صدر کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی کو امریکی حکمت عملی اور مفادات کے لئے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

امریکہ افغانستان اور پاکستان کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظر ثانی کر رہا ہے ۔ یہ اشارے سامنے آنے لگے ہیں کہ صدر ٹرمپ بھارت کو پاکستان کے ساتھ تنازعات حل کرنے پر مجبور کرنے کی بجائے صرف پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی اختیارکرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے لئے یہ صورت حال تشویشناک اور خطرناک ہونی چاہئے۔ کیوں کہ صدر ٹرمپ کی پارٹی کو کانگرس میں بھی اکثریت حاصل ہے اور وہ خود بھی افغانستان میں جنگ کو سمیٹنے کے لئے پاکستان کے کردار کو اہم سمجھنے کے باوجود ، پاکستان کو ہی مسئلہ کی بنیاد بھی سمجھتے ہیں۔ ایسے میں پاک فوج پر دباؤ بڑھنے کے علاوہ پاکستان کے لئے مالی مشکلات اورسفارتی دباؤ میں اضافہ ہونے کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

ان حالات میں ملک کی سیاسی حکومت کے ساتھ فوجی قیادت کاغیر مشروط اشتراک اور تعاون بے حد ضروری ہے۔ اندرون ملک اور بیرون ملک اس تاثر کو ختم کرنا پاکستان کے سب اداروں ، سیاست دانوں اور فوجی قیادت کے لئے یکساں ضروری ہے کہ اہم خارجہ امور اور ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے سیاسی حکمرانوں اور فوج کے درمیان اختلاف رائے موجود ہے۔ ان حالات میں فوج کو آئین کی بالادستی کی یقین دہانی سے زیادہ اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ملک کی سیاست میں اٹھنے والے طوفان میں وہ ہر قسم کا کردار ادا کرنے سے انکار کرے ۔ سیاسی قوتیں خود ہی ایک دوسرے سے دست و گریبان ہو کر معاملات طے کر لیں گی ۔ لیکن اگر فوجی ادارے اس میں مداخلت کریں گے یا اس بارے میں تاثر قوی ہوتا رہے گا تو بحالی امن کے لئے فوج کی کوششیں اور بھارت کے ساتھ معاملات طے کرنے کے مقاصدپس پشت رہیں گے۔

عالمی اور علاقائی تناظر میں اس وقت پاکستان کو جن خطرات اور مشکلات کا سامنا ہے، ان کا تقاضہ ہے کہ ملک میں ایک مضبوط جمہوری حکومت موجود ہو، آئین کا احترام کسی شک و شبہ سے بالا ہو اور حکومت کی تبدیلی کے لئے غیر منتخب اداروں کے کردار کے بارے میں شبہات ختم کئے جائیں۔ پاک فوج اور اس کے سربراہ کو اس حوالے سے کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...