افغان جنگ

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 07 اگست 2017

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات سے سخت پریشان ہیں کہ افغانستان میں جنگ کیسے جیتی جائے۔ حال ہی میں وہائٹ ہاؤس میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں انہوں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ سترہ برس کی جد و جہد کے باوجود امریکہ افغانستان کی جنگ میں پھنسا ہؤا ہے اور اس میں کامیابی کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ انہوں نے اس کی ذمہ داری افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن پر ڈالتے ہوئے انہیں تبدیل کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا ہے۔ تاہم صدر کے قومی سلامتی امور کے مشیر جنرل مک ماسٹر سمیت فوج کی قیادت افغانستان میں کمانڈر تبدیل کرنے کے بارے میں صدر ٹرمپ کی رائے سے متفق نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ کسی بھی قیمت پر افغان جنگ جیتنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے انہوں نے افغانستان میں امریکی افواج کو کسی پابندی کے بغیر کارروائی کرنے کا اختیار دیا ہے اور یہ پالیسی بنائی گئی ہے کہ فوجی کارروائی اور وہاں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں معلومات نہیں دی جائیں گی۔ 

افغانستان کی جنگ جیتنے کی شدید خواہش کے باوجود امریکی حکومت ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر نظر آتی ہے کہ وہ اس جنگ میں کیوں ملوث ہے۔ سابق صدر جارج بش نے 9/11 کے حملوں کے بعد القاعدہ کو ختم کرنے کے بہانے افغانستان پر چڑھائی کی تھی۔ امریکی افواج شروع میں ہی افغانستان میں القاعدہ کا نیٹ ورک ختم کرنے میں کامیاب ہو گئی تھیں۔ 2011 میں ایبٹ آباد میں چھپے ہوئے اسامہ بن لادن کو مارنے کے بعد یہ عذر بھی ختم ہو گیا تھا کہ جب تک القاعدہ کا بانی لیڈر زندہ ہے اور اسی علاقے میں موجود ہے، اس وقت تک امریکی مفادات کو خطرہ لاحق رہے گا۔ لیکن اس کے بعد بھی امریکہ افغانستان میں اپنی مرضی کے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔ انہی اہداف کے حصول کو دراصل افغانستان کی جنگ میں کامیابی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

امریکی افواج کے خلاف بر سر پیکار افغان طالبان اس وقت تک مذاکرات اور سیاسی حل کے لئے آمادہ نہیں ہیں جب تک امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں مکمل طور سے نکال نہیں لیتا۔ ان کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے ملک پر قابض افواج کے خلاف جنگ کررہے ہیں۔ اور اس جنگ میں دہشت گردی کو جائز ہتھکنڈہ قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ طالبان کی طرف سے دہشت گردی اور شہری نشانوں پر حملوں کو قبول نہیں کیا جا سکتا لیکن اس بنیادی اصول سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ افغانستان کے بارے میں فیصلے کرنے کا اختیار صرف افغان عوام کو ہے۔ امریکہ کسی نہ کسی بہانے افغانستان میں اپنے فوجی اڈے برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ اسی مقصد کے لئے وہ کابل میں قائم حکومت کو مضبوط کرنے اور اسے تسلیم کروانے کا بھی خواہش مند ہے۔ حالانکہ یہ افغان عوام کا حق ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں کو منتخب کرسکیں۔

اس علاقے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ اور وسطی ایشیا کے ملکوں اور وسائل تک رسائی کے حوالے سے بھی امریکہ ، افغانستان پر کنٹرول برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔ یہ کام اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب کابل میں امریکہ نواز حکومت ہو جو اپنی بد انتظامی اور بد عنوانی کے باعث امریکی ایجنڈے پر کام کرنے کے لئے تیا ربھی ہو۔ کابل حکومت ملک کی سیکورٹی فورسز کو مستحکم کرنے کا اعلان کرتی ہے لیکن وہ اربوں ڈالر سالانہ امداد وصول کرنے کے باوجود امریکہ اور دیگر ملکوں سے یہ تقاضہ نہیں کرتی کہ افغان ائر فورس کو مستحکم کرنے میں اس کی مدد کی جائے۔ حیرت انگیز طور پر افغانستان کو مستحکم کرنے کے دعوے کرنے کے باوجود وہاں جنگ کرنے والے ملکوں نے بھی اس طرف توجہ نہیں دی ہے۔ کیوں کہ اس طرح افغانستان کی افواج امریکہ اور نیٹو کی فضائی امداد کی محتاج نہیں رہیں گی۔

امریکہ کے نزدیک افغانستان میں امن کا مقصد یہ ہے کہ وہاں موجود سب گروہ ، قبائل اور سیاسی عناصر اس کی بالادستی اور ملکی معاملات میں مداخلت کو قبول کرلیں۔ اگر امریکہ واقعی امن قائم کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے تو اسے افغان فوج کو خود مختار بنانے کے بعد وہاں سے نکلنے کے پروگرام کا اعلان کرنا چاہئے تھا۔ باقی معاملات افغان عوام خود طے کرلیں گے۔ لیکن اس کے برعکس امریکہ، افغانستان میں طالبان کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے ذریعے اپنی موجودگی کو یقینی بنانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ یہی اس کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

صدر ٹرمپ اگر افغانستان میں جنگ جیتنا چاہتے ہیں تو اس مقصد کے لئے انہیں پاکستان پر دباؤ ڈالنے، نیٹو سے مدد طلب کرنے، فوج کو اختیار دینے اور اس کی کارروائیوں کو خفیہ رکھنے کے فیصلے کرنے کی بجائے افغانستان کے بارے میں امریکہ کی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔ مسئلہ وہاں تعینات کمانڈر کا نہیں ہے بلکہ واشنگٹن میں تیار کی جانے والی حکمت عملی کا ہے۔ جب تک امریکہ، افغانستان پر افغان عوام کے حق کو حقیقی معنوں میں تسلیم نہیں کرے گا، وہ اس جنگ کو جیت نہیں سکے گا۔

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...