قطر بحران

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 18 جون 2017

ترک وزیر خارجہ موویت اوغلو نے کل سعودی عرب کے شاہ سلمان سے ملاقات کے بعد واضح کیا ہے کہ قطر کے خلاف سعودی عرب اور دیگر عرب ملکوں کے سفارتی اور تجارتی بائیکاٹ کا خاتمہ ایک مشکل اور پیچیدہ معاملہ ہے۔ اسے حل کرنے میں وقت صرف ہو سکتا ہے۔ ترک وزیر خارجہ نے کل سعودی شاہ سلمان بن عبد العزیز سے ملاقات کی تھی اور قطر کے معاملہ پر شرائط نرم کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ تاہم لگتا ہے کہ سعودی عرب نے ترکی کی تجویز کو خاص اہمیت نہیں دی۔ کیوں کہ آج سعودی عرب کے سرکاری ذرائع نے اس ترک پیشکش کو مسترد کیا ہے کہ وہ سعودی عرب میں فوجی اڈہ قائم کرنے کے لئے تیار ہے۔ یہ پیشکش 2014 میں ترک صدر طیب اردوآن نے قطر میں فوجی اڈہ قائم کرنے کے لئے کام کے آغاز کے وقت سعودی عرب کو کی تھی۔ اس کا ذکر صدر اردوآن نے کل پرتگال کے ایک ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا تھا۔ جس پر سعودی عرب کی طرف سے اس پیشکش کو مسترد کرنے کا اعلان جاری ہؤا ہے۔

سعودی عرب کی طرف سے یہ درشت جواب  قطر کے معاملہ پر ترکی کے جانبدارانہ رویہ کے خلاف  ناراضگی کا اظہار سمجھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ ترک صدر اردوآن نے 5 جون کو سعودی عرب اور چار دیگر عرب ملکوں کی طرف سے قطر کے خلاف اقدامات کے بعد اس معاملہ میں مصالحت کروانے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ترک پارلیمنٹ نے فوجی دستے قطر بھیجنے کا فیصلہ بھی کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کل ترک وزیر خارجہ اور سعودی شاہ کے درمیان ہونے والی ملاقات بھی سرد مہری کے ماحول میں ہوئی ہے۔ وزیر خارجہ اوغلو نے وطن پہنچ کر اخباری نمائیندوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی اس معاملہ میں کسی فوری پیش رفت کا امکان نہیں ہے۔ ترکی کے علاوہ کئی ممالک مصالحتی کوششوں کا حصہ ہیں لیکن یہ معاملہ پیچیدہ اور الجھا ہؤا ہے۔

اس دوران امریکہ سے قطر بحران پر ملے جلے رد عمل کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے عرب ملکوں کو قطر کا فضائی اور زمینی بلاکیڈ ختم کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان پابندیوں سے شہریوں کو تکلیف پہنچ رہی ہے اور خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا تھا کہ یہ مواصلاتی پابندیاں جاری رہنے کی صورت میں داعش کے خلاف اتحادی فضائیہ کی کارروائیاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ تاہم اس کے فوری بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے قطر سے کہا تھا کہ اسے دہشت گردوں کی مالی امداد بند کرنا ہوگی۔ اس کے بعد سرکاری طور پر امریکہ نے کوئی بیان جاری نہیں کیا لیکن گزشتہ روز امریکہ اور قطر کے درمیان 36 ایف 15 طیارے فروخت کرنے کے معاہدہ پر دستخط ہوئے ہیں۔ واشنگٹن میں 12 ارب ڈالر مالیت کے اس معاہدہ پر امریکی وزیر دفاع جیمز ماتھیس اور قطر کے وزیر دفاع خالد العطیہ نے دستخط کئے ۔ اس معاہدہ کی وجہ سے امریکہ کی دفاعی صنعت میں ہزاروں لوگوں کو کئی برس تک روزگار حاصل رہ سکے گا۔ واشنگٹن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق وزیر خارجہ ٹلرسن نے قطر بحران کی وجہ سے میکسیکو کا دورہ منسوخ کردیا ہے اور اب وہ واشنگٹن سے ہی اس معاملہ کو حل کروانے کے لئے متعلقہ ملکوں کے لیڈروں سے رابطہ کررہے ہیں۔

سعودی عرب اور متحدہ امارات کی طرف سے یہ واضح کیا جارہا ہے کہ قطر کو تعلقات بحال کرنے کے لئے اپنا رویہ تبدیل کرنا پڑے گا۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے آج صبح لندن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ یہ نہیں ہو سکتا کہ قطر دہشت گردوں کی مالی امداد بھی کرتا رہے اور اس کے ہمسایہ ملکوں سے تعلقات بھی معمول کے مطابق رہیں ۔ یہ مطالبہ صرف سعودی عرب یا دیگر خلیجی ملکوں کا نہیں ہے بلکہ پوری دنیا یہ مطالبہ کررہی ہے۔ ‘ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب اور اس کے حلیف ممالک قطر کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لئے ان معاملات کی فہرست تیار کررہے ہیں جن پر انہیں پریشانی ہے۔ عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ یہ کوئی مطالبہ نہیں بلکہ ان پہلوؤں کی نشاندہی ہوگی جن کی وجہ سے خطے میں حالات خراب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فہرست جلد ہی قطر کے حوالے کردی جائے گی۔ اس سے قبل متحدہ عرب امارات کے ذرائع نے بتایا تھا کہ قطر سے کئے جانے والے مطالبات کے تین پہلو ہیں۔ 1) دہشت گردوں کی مالی امداد بند کی جائے 2) ہمسایہ ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کی جائے 3 ) قطر کی ملکیت میں کام چلنے والے میڈیا سے عرب ملکوں اور ان کی حکومتوں کے خلاف منفی پروپیگنڈا ختم کیا جائے۔

واضح رہے کہ یہ باتیں پہلے بھی سامنے آتی رہی ہیں تاہم قطر نے اعلان کیا تھا کی وہ ہمسایہ ملکوں کے دباؤ میں اپنی خارجہ پالیسی تبدیل نہیں کرے گا۔ موجودہ حالات میں قطر اور اس سے متصاد م عرب ملکوں کے درمیان اختلافات برقرار ہیں ۔ اور امریکہ سمیت کئی ملکوں کی کوششوں کے باوجود انہیں حل کرنے کی طرف پیشرفت کا بھی امکان نہیں ہے۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...