مشترکہ ذمہ داری

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 17 جون 2017

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے سب کو اپنی ذمہ داری پورا کرنا ہوگی۔ اس جنگ میں دوسروں پر تنقید کرتے ہوئے اپنی کوتاہیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ آج اسلام آباد میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے نیشنل سیکورٹی اینڈ وار کورس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بھرپور جنگ کی ہے ۔ اب آپریشن رد الفساد کے ذریعے ملک کے شہری اور رہائشی علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تلاش کرکے ختم کیا جارہا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ علاقے میں بعض ممالک صرف دوسروں پر الزام تراشی کے ذریعے دہشت گردی ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے اس رویہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب کو اپنی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ پاکستان کو اس وقت بھارت کے علاوہ افغانستان کی طرف سے ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہے۔

بھارت یا افغانستان میں ہونے والے کسی بھی واقعہ کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کی جاتی ہے۔ بھارت نے صرف اس عذر کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے سے انکار کیا ہے کہ وہاں پر ایسے دہشت گرد پناہ گزین ہیں جو بھارت میں حملوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ حالانکہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر کے علاوہ دیگر علاقوں میں تصادم اور بے چینی کی جس صورت حال کا سامنا ہے ، اس میں مقامی طور پر بھی ایسے گروہ سامنے آتے رہتے ہیں جو سیاسی طریقہ سے مایوس ہو کر مسلح جد و جہد کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ خاص طور سے گزشتہ چند برسوں کے دوران مقبوضہ کشمیر میں یہ صورت حال دیکھنے میں آئی ہے۔ وہاں بھارتی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف شدید ردعمل پایا جاتا ہے۔ بھارتی حکام کشمیریوں کے اصل لیڈروں کو اعتماد میں لے کر تنازعہ کا کوئی قابل قبول سیاسی حل تلاش کرنے کی بجائے ، فوجی طاقت کے زور پر عوام کی آواز کو دبانا چاہتے ہیں۔ انہیں مظاہرے یا احتجاج کرنے اور حتیٰ کہ مذہبی رسومات کے لئے اجتماعات تک سے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس توہین آمیز صورت حال میں نوجوان کشمیری نسل ریاست سے بغاوت پر آمادہ ہے اور بعض نوجوان ریاستی ظلم و ستم سے تنگ آکر مسلح گروہوں میں شامل ہو کر بھارتی افواج سے نبرد آزما ہو رہے ہیں۔ ان عناصر کو سیاسی اقدامات کے ذریعے راضی کیا جا سکتا ہے لیکن جب بات چیت اور مصالحت کا دروازہ بند کرلیا جائے تو حکومتیں خود کو بند گلی میں محصور کرلیتی ہیں۔ بھارتی حکومت کشمیر میں اس وقت ایسی ہی صورت حال کا سامنا کررہی ہے۔

مقبوضہ کشمیر کے عوام کے احتجاج کو دہشت گردی کا نام دے کر اکثر پاکستان کے خلاف الزام تراشی کی جاتی ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کی سفارتی اور سیاسی حمایت کرتا ہے۔ یہ ویسی ہی حمایت ہے جو دنیا کا ہر انسان دوست اور آزادی کا حامی شخص کشمیری عوام کو فراہم کرنا چاہتا ہے۔ گزشتہ دنوں ناروے کی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر بحث کے دوران وہاں کی انسانی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ اس مسئلہ کا سیاسی حل تلاش کرے۔ پاکستان بھی یہی بات کرتا ہے اور بھارت کو یاد د لوایا جاتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت مقبوضہ کشمیر میں استصواب رائے کروانے کا پابند ہے۔ بھارت اس یاد دہانی کو مسترد کرتے ہوئے کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دینے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔

انہیں کوششوں کے نتیجہ میں پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگاتے ہوئے، مقبوضہ کشمیر یا بھارت میں کسی بھی جگہ پر ہونے والے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی ذمہ داری پاکستان پر تھوپنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اب پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت نے الزام تراشی سے بڑھ کر افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی کا باقاعدہ سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس تناظر میں جنرل باجوہ کی باتیں معقول اور قابل غور ہیں۔ دہشت گردی ایک عالمی چیلنج بن چکی ہے۔ اس کے اثرات اس وقت دنیا کے کئی ممالک میں محسوس کئے جا سکتے ہیں جبکہ دہشت گرد گروہ مغربی ممالک میں بھی مسلمان نوجوانوں کو گمراہ کرکے اپنا آلہ کار بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس صورت حال میں عہد حاضر کے اس سب سے بڑے خطرہ سے نمٹنے کے لئے ہر ملک اور فرد کو اپنی ذمہ داری محسوس کرنی چاہئے۔ اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ باہمی تعاون اور احساس ذمہ داری کے بغیر دہشت گردی کا مقابلہ ممکن نہیں ہے۔ لیکن بھارت اور اب اس کی تقلید میں افغانستان، اپنے مسائل کا الزام پاکستان پر عائد کرکے دہشت گردی کے مقابلہ کے لئے اپنی ذمہ داری سے گریز کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس رویہ سے ہی عدم تعاون اور اشتعال انگیزی کا ماحول پیدا ہو تا ہے۔ بھارت اور افغانستان کو سمجھنا ہوگا کہ دہشت گرد عناصر اسی ماحول میں اپنے لئے جگہ بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اگر پاکستان کے یہ دونوں ہمسایہ ملک تعاون اور مصالحت کا راستہ اختیار کریں تو اس پورے خطے میں دہشت گردوں کا راستہ روکا جا سکتا ہے۔

loading...
آپ کا تبصرہ

Conflicts in Conflict

The conflict of Jammu and Kashmir (J&K) is one of the long standing issues of the world. The unfortunate but this unique multi-ethnic, multilingual and multi-religious po

Read more

loading...