مصالحتی کوششیں

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 16 جون 2017

پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا ہے پاکستان بھارت کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے کے لئے روس کی طرف سے ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کرے گا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے ایک اخباری نمائیندے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی ہے۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ گزشتہ ہفتہ کے دوران قازقستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے دوران روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے وزیر اعظم نواز شریف سے بات کرتے ہوئے ثالثی کی پیش کش کی تھی۔ نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے کسی بھی دوست ملک کی کوششوں کو قبول کرتا ہے۔ اس دوران چین کے نائب وزیر خارجہ کانگ ژیانیو نے بیجنگ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے ہیڈ کوارٹر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان اور بھارت باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایس سی او کے مقاصد کے مطابق کام کرنے کی کوشش کریں گے ۔ اس موقع پر پاکستان کے سفیر مسعود خالد اور بھارت کے سفیر وجے گوکھلے بھی موجود تھے۔

پاکستان اور بھارت کو قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر اس تنظیم کا باقاعدہ رکن بنالیا گیا تھا۔ اس سے پہلے ان دونوں ملکوں کو مبصر کا درجہ حاصل تھا۔ یہ تنظیم رکن ممالک کے درمیان سلامتی کے امور پر تعاون بڑھانے اور اقتصادی معاملات میں فروغ کے لئے کام کرنے کے لئے قائم کی گئی تھی۔ اس میں چین اور روس کے علاوہ وسطی ایشیا کے چار ممالک شامل ہیں۔ اب برصغیر کے دو ہمسایہ ملکوں پاکستان اور بھارت کو اس کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس فیصلہ کے بعد ددنوں ملکوں کے درمیان تعاون اور اشتراک کی بات سامنے آنے کی بجائے مختلف حلقوں کی جانب سے ان اندیشوں کا اظہار کیا گیا تھا کہ دونوں ممالک باہمی دشمنی کو شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم تک لے جائیں گے ، اس طرح وہ اس تنظیم کو غیر مؤثر اور ناکارہ بنانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ان اندیشوں کی بنیادی وجہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دنیا کے ہر فورم پر پائی جانے والی تصادم کی صورت حال ہے۔ خاص طور سے بھارت نے نریندر مودی کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے عالمی طور پر پاکستان کو تنہا کرنے کے لئے سفارتی کوششیں شروع کی ہوئی ہیں۔ وہ ہر ادارے اور فورم پر پاکستان پر الزامات عائد کرتا ہے۔ اب افغانستان بھی بھارت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ، اسی قسم کی حکمت عملی اختیار کئے ہوئے ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان اور بھارت جنوبی ایشیائی ملکوں کے علاقائی اتحاد سارک میں بھی ایک دوسرے سے متصادم رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے سارک علاقائی مواصلت اور اقتصادی تعاون کے ان مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا، جن کے لئے سارک کا ادارہ وجود میں آیا تھا۔ تاہم شنگھائی تعاون کانفرنس میں چین اور روس جیسے بڑے ملکوں اور وسطی ایشیا کے وسائل سے مالامال ممالک کی موجودگی میں برصغیر کے دونوں ملکوں کے لئے اس فورم کو باہمی جنگ جوئی کا پلیٹ فارم بنانا آسان نہیں ہوگا۔ البتہ چین کی طرف سے ان اندیشوں کوزبان دیتے ہوئے دونوں ملکوں کو اس فورم پر مل جل کر کام کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے ۔ دوسری طرف روس کی طرف سے برصغیر میں ثالثی کروانے کا اشارہ بھی سامنے آیا ہے۔

ان کوششوں اور مشوروں سے قطع نظر پاکستان اور بھارت کو خود یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ آپس میں بات چیت کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کی بجائے ان میں اضافہ کا سبب بن رہے ہیں۔ چین کے ون روڈ ون بیلٹ منصوبہ اور اس حوالے سے سی پیک کے تحت مواصلاتی رابطوں میں فروغ کے ذریعے پورے ایشیا، یورپ اور افریقہ کے وسیع علاقوں میں دوررس تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔ پاکستان اور بھارت اب بھی دو تین دہائی پرانی سوچ کے ساتھ سرحدوں پر جنگی حالات پیدا کرکے اور ایک دوسرے کو مطعون کرکے کامیابی کا راستہ تلاش کررہے ہیں۔ حالانکہ نئے زمانے میں دشمنیوں کی بجائے تعاون اور ایک دوسرے کو قبول کرتے ہوئے آگے بڑھنے کا رویہ اختیار کیا جارہا ہے۔ چین اس کی سب سے بڑی مثال ہے جو اقتصادی احیا کے لئے اختلاف اور ضد کی بجائے تعاون اور مصالحت کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔

پاکستان اور بھارت کو بھی باہمی اختلافات ختم کرنے کے لئے ضد اور انتقام کا طرز عمل ترک کرکے اپنے عوام کے وسیع تر مفاد اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے بات چیت اور مفاہمت کے ذریعے معاملات طے کرنے ہوں گے۔

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...