ڈرون حملے

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 15 جون 2017

پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ دنوں شمالی وزیر ستان میں ہونے والے ڈرون حملہ پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے منفی اقدام قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حلیف ملکوں کے درمیان اس طرح کی مقابلہ بازی نہیں ہو نی چاہئے۔ اگر پاک فوج کو کسی دہشت گرد کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتیں تو وہ ان عناصر کے خلاف کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ چند روز پہلے ہنگو کے نزدیک ہونے والے اس امریکی ڈرون میں حقانی نیٹ ورک کے ان عناصر کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا جو دو ہفتے قبل کابل میں ہونے والے دہشت گرد حملہ میں ملوث قرار دیئے جاتے ہیں۔ پاک فوج کے سربراہ کی بات کو درست بھی مان لیا جائے تو بھی حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے امریکی حکام اور پاکستانی فوج کے مؤقف میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہ اختلاف ختم کئے بغیر امریکہ یا افغانستان کے ساتھ تعاون کے باوجود اعتماد اور مکمل بھروسے کی فضا قائم نہیں ہو سکتی۔

امریکہ عرصہ دراز تک پاکستانی علاقوں میں ڈرون حملے کرتا رہا ہے۔ پاکستانی عوام کو کبھی اس حوالے سے واضح صورت حال کا پتہ نہیں لگ سکا۔ پاکستان ان حملوں پر احتجاج بھی کرتا رہا ہے لیکن اس نے انہیں روکنے کے لئے کبھی کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا ۔ پاکستان ایٹمی طاقت کا حامل ایک اہم ملک ہے۔ امریکہ اپنی تمام تر فوجی قوت اور مالی وسائل کے باوجود پاکستان کے خلاف جارحیت کا مظاہرہ کرنے کا حوصلہ نہیں کرسکتا۔ اسی لئے جب بھی امریکہ نے پاکستانی حدود میں ڈرون حملے کئے ہیں یا مئی 2011 میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کے لئے پاکستانی حدود میں کارروائی کی تو کبھی اس کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔اس بارے میں ہونے والی تحقیقات کی رپورٹ بھی عام کرنے کی زحمت نہیں کی گئی۔ اسی لئے یہ افواہیں گردش میں رہتی ہیں کہ ہر امریکی کارروائی میں اسے پاکستانی افواج کی درپردہ اعانت اور حمایت حاصل ہوتی ہے۔ ڈرون حملوں کے حوالے سے یہ بات سامنے آتی رہی ہے کہ سابق فوجی آمر پرویز مشرف نے اس کی خاص طور سے اجازت دی تھی ۔ بلکہ پاکستانی فوج بعض ناپسندیدہ عناصر کو ہلاک کروانے کے لئے خود امریکی ڈرون کے ٹارگٹ کے بارے میں بھی معلومات بھی فراہم کرتی رہی ہے۔

ڈرون حملوں کے حوالے سے دونوں ملکوں میں اختلاف کی صورت اس وقت پیدا ہوئی جب امریکہ تحریک طالبان پاکستان کے ہرکاروں اور لیڈروں کے علاوہ افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے عناصر کو بھی نشانہ بناتا تھا۔ پاکستانی فوج عرصہ دراز تک ان عناصر کو اپنا ’اثاثہ‘ سمجھتی رہی ہے۔ آپریشن ضرب عضب اور اب آپریشن ردالفساد کے ذریعے اگرچہ پاک فوج نے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے اڈے ختم کئے ہیں لیکن امریکہ اور افغانستان تواتر سے یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ حقانی نیٹ ورک کے دہشت گرد پاکستانی علاقوں سے کارروائیاں کرتے ہیں۔ پاکستان اس بارے میں امریکہ اور افغانستان کو مطمئن کرنے میں کامیاب نہیں ہؤا۔ 2014 میں آپریشن ضرب عضب شروع کرنے کے بعد سے یہ اعلان بھی کیا جاتا رہا ہے کہ پاکستان نے اب اچھے اور برے طالبان کی تخصیص کرنا بند کردیا ہے۔ اس اعلان سے اور کچھ نہ بھی واضح ہو تو یہ بات تو ثابت ہوتی ہے کہ اس وقت تک پاکستان اچھے اور برے طالبان میں فرق کرتا تھا۔ یہی فرق پاکستان کے ہمسایہ ملکوں اور امریکہ کے ساتھ اختلافات کا سبب بنتا رہا ہے۔

امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد اکھڑ اور سخت پالیسیاں سامنے آنے کا امکان ہے۔ فی الوقت نئے امریکی صدر کی توجہ مشرق وسطیٰ کی طرف مبذول ہے۔ تاہم افغانستان کے حوالے سے جب بھی نئی حکمت عملی سامنے آئی تو اس میں پاکستان کے کردار پر شبہ کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان سے اپنا رویہ تبدیل کرنے کا مطالبہ کیاجائے گا۔ امریکہ کے طاقتور حلقوں میں اس قسم کی باتیں سننے میں بھی آرہی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خوف بھی موجود ہے داعش اب افغانستان کے علاوہ پاکستان میں بھی پاؤں جما رہی ہے۔ پاکستان کی طرف سے ان خبروں کی تردید کی جاتی ہے۔

ان حالات میں جنرل قمر جاوید باجوہ کا ڈرون حملہ پر رد عمل درست ہونے کے باوجود کئی سوالوں کو جنم دیتا ہے۔ یہ سوال ہنوز جواب طلب ہے کہ پاک فوج کے افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کیا ہے اور اگر پاکستان ان عناصر کو دہشتگرد گروہ سمجھتا ہے تو اس ملک میں موجود ان گروہوں کے نمائیندوں اور لیڈروں کے خلاف سخت کارروائی کیوں دیکھنے میں نہیں آتی۔ اس کے علاوہ بعض ایسے مذہبی انتہا پسند لیڈر کیوں محفوظ ہیں جنہیں پوری دنیا دہشت گرد سمجھتی ہے۔ پاک فوج ایک طاقتور عسکری قوت ہے۔ اس پر پاکستان کی حفاظت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ پاکستانی علاقے میں ہونے والا ڈرون حملہ اگر اس کی صوابدید اور مرضی کے بغیر کیا جاتا ہے تو اسے صرف غلط کارروائی قرار دے کر آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔ تاہم پاک فوج اسی وقت ایسے حملے روک نے کے لئے اقدام کر سکتی ہے، جب وہ اپنی پوزیشن واضح کرے اور عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جائے۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...