اقلیتوں کا تحفظ

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 11 جنوری 2017

وزیر اعظم پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ وقت دور نہیں ہے جب پاکستان اقلیتوں کے دوست ملک کے طور پر جانا جائے گا۔ چکوال میں ایک مندر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اقلیتوں کے حقوق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں ہر عقیدہ اور مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ مل کر ملک کی حفاظت اور خوشحالی کے لئے کام کررہے ہیں۔ وزیر اعظم نے یہ باتیں اس وقت کی ہیں جب اسلام آباد میں ان کے وزیر داخلہ سینیٹ میں یہ بیان دے رہے تھے کہ ملک میں فرقہ وارانہ تنظیموں کو دہشت گرد کہنا غلط ہے اور یہ کہ فرقوں کے درمیان تصادم تو تیرہ سو سال سے موجود ہے ، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اپوزیشن نے چوہدری نثار علی خان کے اس اشتعال انگیز بیان پر سینیٹ کا بائیکاٹ کیا۔

نواز شریف تیسری بار ملک کے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔ انہیں گزشتہ تیس برس کے دوران ملک کی سیاست میں اثر و رسوخ حاصل رہا ہے۔ اس کے باوجود وہ اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے اپنے اقدامات کے بارے میں بتانے کی بجائے صرف مستقبل کے خواب دکھانے پر اکتفا کررہے ہیں۔ یہ صورت حال اطمینان بخش نہیں ہے۔ پاکستان کے ہر امن پسند شہری کی یہ خوہش ہے کہ ملک میں سب لوگوں کے ساتھ مساوی سلوک ہو ۔ عقیدہ یا مسلک کی بنیاد پر امتیازی سلوک یا ظلم و ستم کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ لیکن حکومت اس حوالے سے عملی اقدامات کرنے ، مناسب قانونی ترامیم لانے اور انتظامی فیصلے کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اسی لئے ملک میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والے گروہ بھی طاقتور ہوئے ہیں اور اقلیتوں کے خلاف سرگرم گروہوں کے لئے بھی کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ نواز شریف نے رسول پاکؐ کی حیات طیبہ اور مدینہ منورہ میں کئے گئے اقدامات کی مثالیں دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمان اور دیگر عقائد سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ہی قوم کا حصہ ہیں۔ لیکن کیا وہ واقعی اس بات سے بے خبر ہیں کہ ملک میں اقلیتوں کو مسترد کرنے اور علیحدہ گروہ قرار دینے والی قوتیں کس قدر متحرک اور طاقتور ہیں ۔ وزیر اعظم کو کوئی دعویٰ کرنے سے پہلے حقیقت حال کا ادراک کرتے ہوئے مناسب اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ مستقبل اقلیتوں کے لئے خوشگوار ہوگا۔ انہیں اس مقصد کے لئے آج کے حالات کو تبدیل کرنا ہوگا۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں ملک میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے ظلم و ذیادتی کی رپورٹیں شائع کرتی رہتی ہیں۔ ہندو اور عیسائی لڑکیوں کو اغوا کرکے انہیں ذبردستی مسلمان کیا جاتا ہے اور پھر ملک کے قانون اور متعصبانہ و غیر فعال انتظامی اور عدالتی نظام کا سہارا لے کر انہیں ان کے خاندان کو واپس کرنے سے انکار کردیا جاتا ہے۔ سندھ اسمبلی نے اس صورت حال کے پیش نظر تبدیلی مذہب کا ایک متوازن قانون منظور کیا تھا۔ تاہم مذہبی جماعتیں مسلسل اس کی خلاف آواز بلند آواز بلند کررہی ہیں۔ اسی دباؤ میں مسلم لیگ (ن) کے گورنر سندھ سعید الزماں صدیقی نے اس قانون پر دستخط کرنے سے انکار کردیا ہے۔ پھر بھی وزیر اعظم اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے بلند بانگ دعوے کررہے ہیں۔

ملک میں احمدیوں پر حملے اور ان کی املاک کو نقصان پہنچانے اور ان کے کاروبار کرنے یا روزگار حاصل کرنے کے خلاف آئے دن پرتشدد مظاہرے ہوتے رہتے ہیں۔ ملک میں ایسے گروہ موجود ہیں جو مسلسل احمدیوں اور دیگر مذہبی گروہوں کے خلاف نفرت پھیلانے میں مصروف رہتے ہیں لیکن حکومت ایسے کسی گروہ کے خلاف کارروائی کرنے اور متاثرین کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ اس کے باوجود نواز شریف کو امید ہے کہ  پاکستان میں اقلیتوں کا مستقبل روشن ہوگا۔

ملک میں ضیاء الحق کے دور میں توہین مذہب کے قانون میں کی گئی ترامیم کو سرگرمی سے اقلیتوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ متعدد رپورٹوں میں یہ بات واضح کی جا چکی ہے کہ ان قوانین کے ذریعے انصاف کا حصول ممکن نہیں ہے۔ اول تو مشتعل گروہ موقع پر ہی ’انصاف‘ فراہم کرنے پر آمادہ رہتے ہیں۔ یعنی کوئی شخص کسی پر توہین قرآن یا توہین رسالت کا الزام لگاتا ہے۔ پھر اس کی سزا موت قرار دیتا ہے اور لوگوں کو اشتعال دلا کر موقع پر ہی الزام کی زد میں آئے ہوئے فرد یا افراد کو ہلاک کیا جاتا ہے۔ توہین مذہب کے الزام میں متعدد لوگ برس ہا برس سے جیلوں میں قید ہیں کیوں کہ قانون کے مطابق ان کی ضمانت نہیں ہو سکتی اور عدالتیں ان کے مقدمے سننے سے انکار کرتی ہیں۔ تسلسل سے ایسے واقعات سامنے آنے اور توہین مذہب کے نام پر ظلم کے شواہد موجود ہونے کے باوجود نواز شریف سمیت کوئی بھی حکومت ان قوانین میں ترمیم کرنے اور ان میں اصلاح کرنے کا حوصلہ کرنے سے قاصر رہی ہے۔ پھر بھی وزیر اعظم بتا رہے ہیں کہ وہ وقت دور نہیں کہ’ پاکستان اقلیت دوست‘ ملک بن رہا ہے اور مسلمان اور دیگر عقائد کے لوگ ایک قوم ہیں۔

دو برس قبل ملک میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے قومی ایکشن پلان بنایا گیا تھا۔ اس کے تحت نفرت کا خاتمہ اور انتہاپسندی کے خلاف کام کرنے کا عہد کیا گیا تھا۔ جس وزارت کو اس منصوبہ پر عمل کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے، اس کے وزیر چوہدری نثار علی خان اپنی کوئی کوتاہی اور غلطی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ جسٹس فائز عیسیٰ رپورٹ اگر وزارت داخلہ کی کوتاہیوں کی نشاندہی کرتی ہے تو وہ اس کے خلاف دھؤاں دار تقریر کرتے ہیں۔ اور اگر اپوزیشن پوچھتی ہے کہ وہ کالعدم فرقہ وارانہ تنظیموں کے لیڈروں سے کیوں ملتے ہیں تو ان کا جواب ہے کہ یہ مسئلہ تو تیرہ سو برس سے موجود ہے۔ ملک کو اقلیت دوست دیکھنے کے خواہشمند وزیراعظم اپنے ہی وزیر داخلہ سے جواب طلب کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ پھر بھی امید ہے کہ ملک میں اقلیتوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں اور رہیں گے۔

یہ کام وعدے کرنے یا نعرے لگانے سے نہیں ہوگا۔ اس کے لئے اکثریتی پارٹی کے لیڈر کے طور پر نواز شریف کو ملک کے فرسودہ قوانین میں ترامیم کرنے اور انتظامی اداروں کو فرقہ، عقیدہ یا کسی بھی بنیاد پر نفرت اور اشتعال پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لئے تیار کرنا ہوگا۔

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...