افسوسناک فیصلہ

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 09 جنوری 2017

حکومت نے ملک میں فوجی عدالتوں کو جاری رکھنے کے لئے سیاسی مشاورت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فوجی عدالتیں دہشت گردی کے الزام میں ملوث لوگوں کو مؤثر طریقے سے سزائیں دینے کے لئے دو برس قبل قائم کی گئی تھیں۔ تاہم ہفتہ 7 جنوری کو ان کی دو سالہ آئینی مدت ختم ہو گئی تھی ۔ ٓئی ایس پی آر کے اعلان کے مطابق ان عدالتوں نے اسی روز سے کام کرنا بند کردیاتھا۔ اب حکومت کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں فوجی عدالتوں کی مدت میں اضافہ کے لئے سیاسی کوششیں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لئے حکومت کو ملک کے آئین میں ترمیم کرنا پڑے گی ۔ حکمران مسلم لیگ (ن) کو اس وقت قومی اسمبلی کی 342 نشستوں میں سے 189 سیٹیں حاصل ہیں۔ جبکہ سینیٹ میں سو میں سے ایک چوتھائی ارکان کا تعلق پی ایم ایل این سے ہے۔ جبکہ آئینی ترمیم کے لئے دو تہائی ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔

دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گرد حملہ کے بعد فوج کے دباؤ اور ملک میں دہشت گردوں کو فوری سزائیں دینے کے نقطہ نظر سے اکیسویں ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اگرچہ اس وقت تمام سیاسی پارٹیوں نے اس آئینی ترمیم کی حمایت کی تھی لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں نے فوجی عدالتوں کے طریقہ کار کو بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ عام طور سے یہ اندازہ نہیں ہو تا کہ کن لوگوں کے معاملات فوجی عدالتوں کو بھیجے گئے ہیں۔ مقدمات کی سماعت کے دوران ملزمان کو مناسب قانونی مشاورت نہیں ملتی اور نہ ہی اہل خاندان ان سے مل سکتے ہیں۔ البتہ فوج کے دفتر تعلقات عامہ کے ذریعے یہ اطلاع جاری کی جاتی ہے کہ کن لوگوں کو موت کی سزا دی گئی ہے۔ اس وقت فوجی عدالتیں قائم کرنے کے لئے یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں تیزی سے ان معاملات کا فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ اس کے علاوہ جج اور استغاثہ کے وکیل دہشت گردوں کے دباؤ میں ہونے کی وجہ سے مؤثر طریقے سے کارروائی کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ تاہم ان دو برسوں میں حکومت کے پاس اس صورت حال کو تبدیل کرنے کے لئے کافی وقت موجود تھا۔

حکومت قانون سازی اور انتظامی اقدامات کے ذریعے عدالتوں اور استغاثہ کو با اثر اور طاقت ور بنا سکتی تھی۔ عام طور سے دہشت گردی کے معاملات میں تفتیش کرنے والے اداروں کے پاس مناسب ذرائع اور ٹیکنیکل سہولتیں میسر نہیں ہوتیں ۔ اس لئے پولیس جو شواہد اکٹھے کرتی ہے ، وہ عدالتوں میں ثبوت کے طور پر کافی نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کے ججوں کو مناسب سیکورٹی فراہم نہیں ہوتی۔ اس وجہ سے یہ جج خطرناک دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ حکومت ان کمزوریوں کو دور کرنے کی بجائے فوجی عدالتوں کا سہارا لے کر ایک اہم مسئلہ سے نمٹنے کی کوشش کررہی ہے۔ یہ طریقہ اپنی ذمہ داری سے گریز اور ملک میں سول حکومت کی کمزوری اور ناکامی کی دلیل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ ہر معاملہ میں فوج کو آڑ بنانے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ ان کی شدت اور سنگینی میں اضافہ ہوتا ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں منعقد ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں فوجی عدالتوں کی توسیع کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ عذر تراشا گیا ہے کہ اس طرح آپریشن ضرب عضب سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو دیرپا بنایا جائے گا۔ حکومت کی یہ دلیل ناکافی اور ناقص ہے۔ حکومت کو اکیسویں ترمیم کے ذریعے مختصر مدت کے لئے فوجی عدالتیں قائم کرنے کا حق دیتے ہوئے عدالتی نظام اور تفتیش کے طریقہ کار کو بہتر بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ دو برس بعد جب حکومت از سر نو فوجی عدالتوں کا سہارا لینا چاہتی ہے تو وہ یہ اقرار کررہی ہے کہ وہ صورت حال کی اصلاح کے لئے اپنے فرائض پورے کرنے میں ناکام رہی ہے۔

آپریشن ضرب عضب کے ساتھ ہی انتہا پسندی اور معاشرتی منافرت کے رجحان سے نمٹنے کے لئے قومی ایکشن پلان بھی بنایا گیا تھا۔ حکومت اس منصوبہ کے مطابق اقدامات کرنے اور اداروں کو استوار کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ اس لئے آج کے اجلاس میں جاری ہونے والا یہ بیان بھی بے مقصد اور لفاظی کے سوا کچھ نہیں کہ ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مکمل عدم برداشت کا رویہ اختیار کیا جائے گا۔ جبکہ سب جانتے ہیں کہ موقع اور اختیار حاصل ہونے کے باوجود حکومت انتہا پسند گروہوں اور تنظیموں کے خلاف کوئی اقدام کرنے سے قاصر رہی ہے۔

حکومت کو سمجھنا ہو گا کہ فوجی عدالتوں کے ذریعے چند سو افراد کو موت کی سزا دے کر ملک میں نفرت اور انتہا پسندی کا ماحول ختم نہیں ہو گا۔ اس مقصد کے لئے اسکولوں اور مدرسوں میں اصلاح، نصابی کتابوں پر نظر ثانی اور انتہا پسند نظریات کا پرچار کرنے والے مذہبی لیڈروں کی گرفت ضروری ہوگی۔

loading...
آپ کا تبصرہ

Threat is from inside

Army Chief General Raheel Sharif assured the nation that country’s borders are secure and the army is aware of threats and intrigues of the enemies. Speaking at an even

Read more

loading...