کرکٹ اور عمران خان

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 09 جنوری 2017

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی کرکٹ کے لئے خدمات اور اس کھیل کے بارے میں ان کی صلاحیتوں پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ یہ بھی اس ملک کی بدنصیبی ہے کہ دیگر شعبوں کی طرح کرکٹ میں سیاست اور غیر پیشہ ور عناصر کے اثر و رسوخ کی وجہ سے ، کرکٹ کے اصل ماہرین کی خدمات حاصل نہیں کی جا سکتیں۔ ورنہ سیاسی اختلافات سے قطع نظر عمران خان جیسے بڑے کرکٹر کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے مشاورتی پینل میں شامل کیا جاتا اور ان کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جاتا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی عمران خان نے جب سے سیاست کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہے، وہ ہر معاملہ کو سیاسی نقطہ نظر سے دیکھنے اور حکمرانوں کو تمام برائیوں کا ذمہ دار قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب انہوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اگر وہ برسر اقتدار آگئے تو پاکستان کی کرکٹ ٹیم دنیا میں ایک نمبر ہو جائے گی۔

عمران خان کی اس بات سے انکار ممکن نہیں ہے کہ پاکستان میں کرکٹ کا بے شمار ٹیلنٹ موجود ہے۔ اس شعبہ میں پائی جانے والی بدعنوانی، پاکستان کرکٹ بورڈ میں مختلف گروہوں کی اجارہ داری اور ملک میں کرکٹ کی تربیت کے لئے مناسب سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے پاکستانی کرکٹ کو عالمی سطح پر مسلسل ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ نیوزی لینڈ کے بعد آسٹریلیا میں پاکستانی ٹیم کی جو درگت بنی ہے ، اس پر ہر پاکستانی کا دل دکھی ہے۔ ملک میں مسائل اور دکھوں کے طوفان میں جب بھی کرکٹ کے میدان میں کامیابی کی خبر آتی ہے تو پوری قوم مسرور ہو جاتی ہے۔ تاہم میدان میں پاکستان کے ہو نہار کھاڑیوں کی ناکامی پر ہر طرح کی چہ میگوئیاں بھی ہونے لگتی ہیں۔ اس حوالے سے کھلاڑیوں کے نامناسب انتخاب اور تربیت کی کمی پر سب سے زیادہ سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کے کپتان مصباح الحق نے بھی آسٹریلیا سے آخری اور تیسرا ٹیسٹ ہارنے کے بعد یہی کہا ہے کہ ان کی ٹیم پروفیشنل صلاحیتوں کی وجہ سے نہیں بلکہ فزیکل تربیت میں کمی کی وجہ سے ہاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا میں جیتنے کے لئے سو فیصد فٹ نیس ضروری ہے۔

یہ بات بھی اپنی جگہ افسوسناک ہے کہ پاکستان کرکٹ کے فیصلے بدستور ملک کا وزیر اعظم کرتا ہے۔ حالانکہ کھیل کے عالمی اصولوں کے مطابق ہر کھیل کو خودمختار اور منتخب انتظامیہ کو چلانا چاہئے۔ پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ کو بھی انہی خطوط پر استوار ہونا چاہئے لیکن کسی نہ کسی بہانے سے سیاسی قیادت کا اثر و رسوخ بحال رکھا جاتا ہے۔ وزیر اعظم چیئرمین نامزد کرتے ہیں اور وہ اپنی مرضی سے اس کھیل کے حوالے سے فیصلے کرتے ہیں اور کوئی ان سے جوابدہی نہیں کرسکتا۔ موجودہ چیئر مین 82 برس کے ہیں اور اکثر علیل رہتے ہیں ، لیکن وہ بدستور اپنے عہدے پر فائز ہیں کیوں کہ وزیر اعظم کو ان پر اعتماد ہے۔ شہر یار خان جو معاملات اپنے بڑھاپے کی وجہ سے انجام نہیں دے سکتے ، ان کی ذمہ داری صحافی اور ایڈیٹر نجم سیٹھی نے سنبھالی ہوئی ہے جو بوجوہ نواز شریف کو عزیز ہیں۔ ان دونوں کا کرکٹ کے میدان یا انتظامی و معاشی امور چلانے کا کوئی ٹھوس تجربہ نہیں ہے۔ تاہم یہ دونوں کرکٹ کے کرتا دھرتا بنے ہوئے ہیں۔

ان خرابیوں اور کرکٹ میں سیاسی اثر و رسوخ کے باوجود عمران خان کی اس بات سے اتفاق ممکن نہیں ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت بنتے ہی پاکستان کی کرکٹ ٹیم دنیا پر چھا جائے گی۔ عمران خان کو بطور کرکٹر پتہ ہو گا کہ اچھی ٹیم استوار کرنے کے لئے کوئی جادو کی چھڑی کام نہیں کرسکتی بلکہ مسلسل محنت اور خلوص سے ہی اس شعبہ کی کمزوریوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔ لیکن وہ اپنی سیاست چمکانے اور نواز شریف کو ہر مسئلہ کا ذمہ دار قرار دینے کے لئے کرکٹ کو بھی استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ وہ کوئی نہ کوئی معاملہ لے کر اس کی ساری ذمہ داری نوز شریف پر ڈال کر اپنے لئے گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں ۔ تاحال وہ اپنے اس مقصد میں ناکام رہے ہیں۔ ان سے یہی درخواست کی جاسکتی ہے کہ اب وہ اپنی سیاست کے لئے کرکٹ کے حوالے سے قوم کو ایک نیا خواب دکھانے سے باز رہیں۔

ایک اچھے کرکٹر کے طور پر ان سے یہ توقع تو کی جانی چاہئے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہارنے پر وہ اپنی پروفیشنل رائے ضرور دیں لیکن اس میں اپنے سیاسی عزائم کو گھسیڑنے کی کوشش نہ کریں تو یہ ملک کی کرکٹ کے علاوہ سیاست پر بھی احسان ہوگا۔ عمران خان کو ایک سابق کھلاڑی کے طور پر حکومت میں آنے کے بعد کرکٹ اور دیگر کھیلوں سے سیاسی اثر و رسوخ کو ختم کرنے کا وعدہ کرنا چاہئے تاکہ یہ شعبہ پروفیشنل اور منتخب لوگوں کی نگرانی میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکے اور کھیلوں کی تنظیم کے عالمی اصولوں پر بھی پورا اترے۔

loading...
آپ کا تبصرہ

Conflicts in Conflict

The conflict of Jammu and Kashmir (J&K) is one of the long standing issues of the world. The unfortunate but this unique multi-ethnic, multilingual and multi-religious po

Read more

loading...