انسانی حقوق

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 08 جنوری 2017

آج ملک میں  فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہو گئی ہے۔ ان عدالتوں کا قیام دو برس قبل پشاور آرمی پبلک اسکول سانحہ کے بعد اکیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عمل میں آیا تھا تاکہ ملک میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث لوگوں کو فوری اور سخت سزائیں دی جا سکیں۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں اور وکلا ان عدالتوں کے طریقہ کار اور وہاں پرملزموں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ اس دوران اسلام آباد سے خبر آئی ہے کہ آج رات فاطمہ جناح یونیورسٹی کے پروفیسر، انسانی حقوق کے سرگرم کارکن، صحافی، شاعر اور ڈرامہ نگار سلمان حیدر کو نامعلوم افراد نے اغوا کرلیا ہے۔ انسانی حقوق کے ساتھ اس قسم کا مذاق پاکستان میں روز مرہ کا معمول بن چکا ہے لیکن حکومت اس صورت حال کو تبدیل کرنے اور احتجاج پر کان دھرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔

سلمان حیدر کل شام اپنے چند دوستوں کے ہمراہ بنی گالہ کے علاقے میں گئے تھے لیکن وقت پر گھر نہ پہنچنے پر گھر والوں کو تشویش ہوئی اور ان کی تلاش شروع کی گئی۔ ان کا فون بند تھا لیکن رات گئے اسی موبائل سے ایک پیغام موصول ہؤا کہ سلمان حیدر کی گاڑی کورال چوک سے لے لی جائے۔ پولیس نے بعد میں یہ گاڑی بتائی گئی جگہ سے برآمد کرلی۔ تاہم ابھی تک علم نہیں ہو سکا کہ پروفیسر سلمان حیدر کو کن لوگوں نے اغوا کیا ہے۔ قانون شکنی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے یہ واقعات ملک میں روز کا معمول بن چکے ہیں اور پولیس ایسے معاملات میں بے بس ہوتی ہے۔ کیوں کہ اس قسم کی کارروائیوں میں عام طور سے ملک کے خفیہ ادارے ملوث ہوتے ہیں۔ گزشتہ برس جولائی میں حیدرآباد کراچی ہائی وے پر سفر کے دوران کراچی کے سماجی کارکن اور کتابوں کے پبلشر واحد بلوچ کو سفید کپڑوں میں ملبوس دو افراد اپنے ہمراہ لے گئے۔ ان کے خاندان نے بمشکل اس گمشدگی کی ایف آئی آر درج کروائی تھی۔ پھر دسمبر کے پہلے ہفتے میں وہ اچانک گھر واپس پہنچ گئے۔ کوئی ادارہ اس غیر قانونی حرکت کی ذمہ داری قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے اور حکومت بھی لب بہ مہر رہتی ہے۔ ایسے المناک تجربے سے گزرنے والا شخص بھی زبان کھولنے کا حوصلہ نہیں کرتا کیوں کہ کسی پر کسی بات کا کوئی اثر ہونے کا امکان نہیں ہوتا۔

ملک میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے فوجی عدالتوں کا قیام فوج کے ذبردست دباؤ پر عمل میں آیا تھا۔ ملک کی سب سیاسی پارٹیاں اس حوالے سے اکیسویں آئینی ترمیم پر متفق تھیں۔ ان عدالتوں میں دہشت گردی کے سنگین جرائم میں ملوث لوگوں کو پیش کیا جاتا رہا ہے لیکن اس کا کوئی واضح طریقہ کار موجود نہیں تھا۔ نہ ہی مقدمہ کی سماعت کے دوران اہل خاندان کو ملزم تک رسائی حاصل ہوتی تھی۔ پاک فوج کے دفتر تعلقات عامہ کے اعلامیہ سے اچانک یہ پتہ چلتا تھا کہ مذکورہ شخص کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلا تھا اور اسے موت کی سزا ہو گئی ہے۔ یہ اقدام دہشت گردی میں ملوث لوگوں کو فوری اور سخت سزائیں دینے کے لئے کیا گیا تھا لیکن اس حوالے سے بنیادی انسانی حقوق کے آئینی تقاضے پورے کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔

حکومت اب بھی ان عدالتوں کو برقرار رکھنا چاہتی ہے لیکن اسے دیگر سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل نہیں ہے جس کا اقرار وزیر اعظم کے مشیر قانونی امور بیرسٹر ظفراللہ نے بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس صورت میں دہشت گردی کے ملزموں کے خلاف عدالتی کارروائی کے لئے نیا قانون بنایا جائے گا۔ حکومت اور پارلیمنٹ بدستور دہشت گردی کے ملزموں کے خلاف معاملہ کی تفتیش اور مقدمات کی شفاف سماعت کے لئے اقدامات کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔ پولیس ایسے معاملات میں ناقص تفتیش کے ذریعے کمزور مقدمہ عدالتوں کے سامنے پیش کرتی ہے جس کی وجہ سے خطرناک ملزم آسانی سے رہا ہو جاتے ہیں۔ یا عدالتوں کے جج اور وکیل خوف کی وجہ سے ایسے معاملات کی سماعت اور پیروی کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ اس حوالے سے اصلاح کرنے اور ملک میں تحقیق و تفتیش کا ادارہ مستحکم کرنے اور ججوں اور وکیلوں کی حفاظت کے لئے قانون سازی کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔

اس دوران ملک کی وزارت برائے انسانی حقوق نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چھ برس کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں سے 936 ایسی لاشیں ملی تھیں جنہیں تشدد کے بعد قتل کرکے کسی ویران جگہ پر پھینک دیا گیا تھا۔  اس حوالے سے حکومت نے باقاعدہ تحقیقات کرنے ، مجرمانہ ظلم کا نشانہ بننے والے لوگوں کے بارے میں تفصیلات بتانے یا ریاستی اداروں کو متنبہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ہے۔ ملک میں بدستور یہ صورت حال موجود ہے کہ کسی بھی شخص کو کوئی بھی ادارہ یا افراد کہیں سے بھی اٹھا کر غائب کرسکتے ہیں۔ پھر یہ ان کی صوابدید پر ہوتا ہے کہ اسے بعد میں رہا کردیں یا تشدد کے بعد قتل کردیں۔ قومی سلامتی کے نام پر ہونے والی یہ کارروائیاں کسی بھی مہذب معاشرے میں قبول نہیں کی جا سکتیں۔

اب پروفیسر سلمان حیدر کو اٹھایا گیا ہے، کل کسی اور کی باری ہوگی۔ ملک میں اس لاقونیت کو ختم کرنا ہوگا۔ جو لوگ قانون شکن ہیں ان کے خلاف باقاعدہ مقدمہ قائم کرکے انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔ اور جو بے قصور ہیں انہیں ایذا دینے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ ان ہتھکنڈوں سے نہ تو ملک محفوظ ہوگا اور نہ ہی حکومت اور ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔

آپ کا تبصرہ

Threat is from inside

Army Chief General Raheel Sharif assured the nation that country’s borders are secure and the army is aware of threats and intrigues of the enemies. Speaking at an even

Read more