تحریک انصاف کے خفیہ بینک اکاؤنٹس کا انکشاف، اسٹیٹ بنک نے رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع کروادی

اسلام آباد: اسٹیٹ بینک پاکستان نے الیکشن کمیشن پاکستان کو بتایا ہے کہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف ملک بھر میں 18 خفیہ بینک اکاؤنٹس استعمال کررہی ہے۔ ان اکاؤنٹس کو پی ٹی آئی نے براہ راست الیکشن کمیشن کو بتانے سے گریز کیا تھا۔
اسٹیٹ بینک نے شیڈول بینکوں سے حاصل کی جانے والی معلومات الیکشن کمیشن میں جمع کروائیں جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پی ٹی آئی کے ملک کے مختلف شہروں میں کل 26 بینک اکاؤنٹس ہیں۔ لیکن الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی معلومات میں صرف 8 کے بارے میں بتایا گیا۔
دیگر 18بینک اکاؤنٹس جعلی یا غیر قانونی اکاؤنٹس کے زمرے میں آتے ہیں کیوں کہ پی ٹی آئی نے انہیں قانون کے تحت ای سی پی میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں ظاہر نہیں کیا۔ الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ کے ساتھ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی جانب سے صداقت اور درستگی کا سرٹیفکیٹ بھی موجود تھا جو جمع کروانا ہر جماعت کے سربراہ کے لئے قانونی طور پر لازم ہوتا ہے۔
مذکورہ معلومات منظر عام پر آنے سے اس بات کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ ان غیر قانونی اکاؤنٹس کی تفصیلات اور ان کی منی ٹریل وزیراعظم عمران خان اور گورنر سندھ عمران اسمٰعیل سمیت پی ٹی آئی کے اعلیٰ عہدیداروں کے لئے قانونی خطرے کا باعث بن سکتی ہیں۔ کیوں کہ وہ ان اکاؤنٹس کے مرکزی یا شریک دستخط کنندہ بھی ہیں۔
بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات کے مطابق 2 کراچی جبکہ ایک ایک پشاور اور کوئٹہ میں ہے۔ جولائی 2018 میں پی ٹی آئی کے بینک ریکارڈ اور اسٹیٹمنٹ کی لئے کی جانے والی درخواست کی تمام تر کوششوں کے خاتمے کے بعد الیکشن کمیشن نے اسٹیٹ بینک سے پارٹی کے بینک اسٹیٹمنٹس فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔
الیکشن کمیشن کی جانچ پڑتال کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے نمائندوں کی موجودگی میں جعلی یا غیر قانونی اکاؤنٹس کا انکشاف سامنے آنے کے بعد سے تحریک انصاف الیکشن کمیشن کے ساتھ تعاون نہیں کررہی۔

Comments:- User is solely responsible for his/her words