کیا پاکستان خدانخواستہ دوبارہ بھی ٹوٹ سکتا ہے؟

ریاست فقط زمین کے ٹکڑے کا نام نہیں ہوتا۔ ریاست کی جغرافیائی سرحدوں (ملک) کے اندر بسنے والی اقوام (شہریوں) کا آپس میں ایک معاہدہ ہوتا ہے‘ کہ ہم ان سرحدوں کے بیچ میں ان شرائط کے ساتھ رہیں گے۔ جیسا کہ تمام شہریوں کے حقوق یک ساں ہوں گے۔ انہیں زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کے ایک سے مواقع مہیا کیے جائیں گے۔ انہیں ہر قسم کی آزادی حاصل ہوگی، جو آئین (معاہدہ) میں درج ہے۔ یعنی آزادی بھی مادر پدر آزاد نہیں ہوتی‘ اس کی حدود متعین کی جاتی ہیں۔ ریاست پاکستان ہی کو دیکھ لیں، تو اس معاہدے کے تحت ملک میں بسنے والی اقوام پنجابی کو بلوچ، بلوچ کو سندھی، سندھی کو پختون پر فوقیت حاصل نہیں ہے۔ ایک جغرافیائی سرحد کے اندر ان سب کو لے کے چلنے والا ڈھانچا‘ مقننہ یعنی پارلیمان، عدلیہ اور انتظامیہ کے مجموعے کو ریاست کہتے ہیں۔ آئین (معاہدہ) کے تحت پارلیمان ان میں سب سے سپریم ہے۔
کیا پاکستان کے شہری اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ پارلیمان سپریم ہے؟ کسی ادارے کو مقننہ پر فوقیت حاصل نہیں؟ اداروں میں سب سے زیادہ احترام کی حق دار پارلیمنٹ ہے۔ اگر پارلیمنٹ کی ساکھ نہیں ہے تو کسی ادارے کی ساکھ نہیں ہو سکتی۔
14 اگست 1947 کو پاکستان اس وقت کے جمہوری طریقے سے معرض وجود میں آیا۔ اس سے پہلے بھی زمین کے اس ٹکڑے پر وہی لوگ بستے تھے۔ ان کے اپنے اپنے رسم و رواج تھے، ان کی اپنی اپنی ثقافت تھی، تہذیب تھی۔ بلوچ، پختون، پنجابی، بروہی، پوٹھوہاری، سندھی، سرائیکی، کشمیری اور دیگر اقوام پاکستان بننے سے پہلے بھی بلوچ‘ پنجابی، پختون، کشمیری، بنگالی، سندھی، پوٹھوہاری تھے لیکن ریاست کے طور پہ ان کی پہچان ہندُستانی، بھارتی یا انڈین کی تھی۔ 23 مارچ 1947 کو قراردادِ لاہور پیش کی گئی، جس میں آل انڈیا مسلم لیگ نے الگ وطن کا مطالبہ رکھا کہ ہندستان میں بسنے والے مسلمان، ہندو اکثریت کے ہوتے، خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ یہ مطالبہ مناسب تھا یا نہیں، اس پر سیکڑوں مضمون لکھے گئے اور لکھے جاتے ہیں لیکن اس مطالبے کی قبولیت، نا قبولیت کا فیصلہ، اُس وقت کی جمہور نے کرنا تھا۔ مروج طریقے کے تحت عوام کی رائے جانی گئی۔ یوں پاکستان معرض وجود میں آ گیا۔
ان جغرافیائی حدود جسے پاکستان کہا جاتا ہے، اس خطے کے درمیان بسنے والی سب اقوام یا افراد ایک رات ہی میں ہندستانی سے پاکستانی کہلائے۔ جب کہ ان کی قومی شناخت اپنی جگہ قائم رہی۔ وہ بنگالی رہے، پنجابی رہے، بلوچ رہے، پختون رہے، کشمیری رہے، سندھی رہے، الخ۔ ایک سرحد میں ان کی پہچان ’پاکستانی‘ کی ہوئی۔ پنجاب، بنگال اور کشمیر تقسیم ہوئے۔ ہندُستانی کشمیر، بنگال، پنجاب اور پاکستانی کشمیر، پنجاب، بنگال کی پہچان الگ الگ کی جانے لگی۔
اب رہی یہ بحث کہ جمہوری طریقے سے قائم ہونے والی ریاست پاکستان پر حکمرانی کا حق کس کا ہو گا؟ اس میں شبہہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ برملا یہ کہا جا سکتا ہے، اس ریاست پر جمہور کو (اکثریت رائے دہی کی بنیاد پر) راج کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اس لیے کہ اس ملک کو جمہور کی رائے ہی سے بنایا گیا تھا۔ جمہور اکثریت رائے دہی کی بنیاد پر اپنا فیصلہ سنائیں گے کِہ کس کو ان کا حکمران ہونا ہے۔ جیسے شہری کی آزادی چند پابندیوں سے مشروط ہے، ویسے ہی جمہور کی رائے سے منتخب حکمران یعنی منتخب نمایندوں کے اختیار لا محدود نہیں ہوتے۔ بل کِہ حکمران آئین و قوانین کا تابع ہوتا ہے۔ یوں کہا جاتا ہے کہ ملک پر آئین و قانون کی حکمرانی ہوگی۔ آئین، اسے شہریوں نے اپنے نمائیندوں کے ذریعے بنایا ہوتا ہے۔ جمہوری بند و بست اسی کا نام ہے۔ کان یہاں سے مروڑا جائے یا وہاں سے، جمہوریت میں بالواسطہ حکمران، عوام ہی ہوتے ہیں۔
پاکستانی آئین (معاہدہ) کو عوامی نمائیندوں نے مل جل کے ترتیب دیا ہے۔ اس پر دو تہائی اکثریت سے مہر ثبت ہوئی ہے۔ دو تہائی اکثریت سے اس میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ کوئی بھی حکمران خواہ وہ جمہوری طریقہ انتخاب سے منتخب ہوا ہو، کوئی غیر جمہوری اقدام کرتا ہے تو وہ آئین و قوانین کی نفی کر رہا ہوتا ہے۔ در اصل وہ ایسا کرکے پاکستان کی سالمیت پر سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔ کوئی طاقت ور گروہ، ادارہ، یا قوت، اگر اس معاہدے (آئین) کو محض کاغذ کا ٹکڑا سمجھتا ہے تو وہ بہت بڑی غلطی کرتا ہے۔ ایسا ایک بار نہیں ہوا کہ آئین کی توہین کی گئی ہو۔ کئی بار ہو چکا ہے۔ فوجی مارشل لاؤں نے آئین کو ایک سے زائد بار مسخ کیا۔ آئین کو معطل کرنے والا، آئین کو مسخ کرنے والا، جب کہ اُسے عوامی شعور نے یہ اختیار بھی نہیں سونپا ہوتا،‘ در حقیقت وہ، عوام کی رائے، جمہور کے اجتماعی شعور کی توہین کرتا ہے۔ یہ شہریوں کو غلام بنا لینے جیسا ہے۔ ایسا وطن آزاد کہلائے جانے کے لائق نہیں ہے۔
ہمیں اس نکتے پر بار بار غور کرنا ہوگا کہ ’’ریاست شہریوں کے بیچ میں معاہدے کو نظر انداز کرکے اپنے ہونے کا جواز نہیں رکھتی‘‘۔ جان لیا جائے کہ اگر آئین کو کاغذ کا ٹکڑا سمجھا جائے گا تو شہریوں کے لیے ریاست بھی ایسی اراضی نہیں جو تقسیم نہ ہو سکے۔ اراضی کا فرد نامہ کاغذ کے ٹکڑے ہی پہ ہوتا ہے۔ اس کاغذ کے ٹکڑے کو نہ ماننے والے فریقین، آپس میں ایک دوسرے پر ہتھیار اُٹھا لیتے ہیں۔ ریاست کی جغرافیائی حدود میں انارکی پھیل جاتی ہے۔
’طالبان سے پاکستانی ریاست کی جنگ اس لیے ہے کِہ وہ پاکستانی ریاست کے آئین کو تسلیم نہیں کرتے‘ اور اس کی جگہ اپنا من مانا نظام لانا چاہتے ہیں۔ انہیں اس بات کی پروا نہیں‘ کِہ شہری وہ نظام چاہتے بھی ہیں‘ یا نہیں۔ اپنے تئیں وہ ’اسلامی نظام حکومت‘ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ’اسلامی نظام حکومت‘ کی تشریح بھی ان کی من مانی ہے۔ مزید یہ کہ ان کی نظر میں شہریوں کی رائے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ اس طرح ریاستی ادارے متحرک ہو جاتے ہیں کہ ریاست کے آئین کو نہ ماننے والوں کو سزا دیں۔ اداروں کو اس کارروائی کا یہ اختیار بھی شہریوں ہی نے اسی آئینی بند و بست کے ذریعے دیا ہے۔ جس کی اوپر تفصیل بیان کی ہے۔
آئین میں ایسا کچھ نہیں لکھا کہ کوئی کسی اہم پوسٹ پر ہے، نمازی ہے، پرہیز گار ہے یا اس نے کسی ریاستی ادارے کی یونیفارم پہن رکھی ہے جو کِہ آئینی بند و بست کے تحت اسے عطا ہوئی ہے تو وہ آئین سے مقدس ہو گیا یا بالا تر ہوا۔ ہر حال میں تقدیس آئین ہی کی رہے گی۔ یاد کیجیے وہ وقت، جب فوجی آمر کے دور میں پاکستان کا مشرقی حصہ، مغربی حصے سے کٹ کے جدا ہو گیا۔ ایسا کیوں ہوا؟ ہزار مباحثے کر لیجیے، لاکھ توضیحات پیش کریں، سب باتوں کا ایک ہی خلاصہ نکلے گا کہ مشرقی پاکستان کے بنگلا دیش بننے کی وجوہ، وہاں کے شہریوں کی بار ہا تذلیل، ان کے حق حکمرانی کو تسلیم نہ کرنا، یعنی آمروں کی آمریت رہی ہے۔
بچے کھچے پاکستان کے عوام اور عوامی نمائیندوں نے ماضی کی غلطیوں کو بھلا کے‘ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ افسوس ایسا کبھی نہیں ہو سکا کہ آئین کو مسخ کرنے والوں کا احتساب کیا جا سکے، شاید یہی وجہ رہی ہو کہ اداروں یا اداروں کے بڑوں نے، سزا سے بے خوف ہو کے، پہلے 1973 کے آئین کو منسوخ کیا، اس میں تبدیلیاں کیں۔ آمر ضیا الحق کی موت کے بعد، بے دھڑک ہوکے عوامی نمائیندوں کی خرید و فروخت کی گئی، عوامی رائے کو چرانے کی کوشش کی گئی، جیسا کہ اصغر خان کیس کے فیصلے سے عیاں ہوتا ہے۔ حال ہی میں ریاست کے ایک ادارے ایف آئی اے نے ایک کم زور سا عذر پیش کر کے یہ کیس واپس لے لیا ہے۔ یوں لگتا ہے، ممکن ہی نہیں کہ عوام میں اس وقت کی مقبول جماعت پیپلز پارٹی کا راستہ روکنے کے لیے ’آئی جے آئی‘ بنانے والوں کا احتساب ہو سکے۔ قصہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ 12 اکتوبر 1999 جیسی فوجی مہم جوئی ہوئی، 3 نومبر 2007 کو ایمرجینسی لگائی گئی، آمر پرویز مشرف کے خلاف مقدمے عدالت میں ہیں اور کوئی امکان نہیں دکھائی دیتا کہ پرویز مشرف کو واپس لا کے قانون کے مطابق سزا دی جا سکے۔ ان غیر آئینی، غیر قانونی مہم جوئیوں نے ریاست کو بالواسطہ و براہ راست بہت نقصان پہنچایا۔
فردِ واحد یا پارلیمان کے علاوہ کسی ادارے کی حکمرانی سے، ریاست کی شہریوں کے مابین ہوئے معاہدے کی نفی ہوتی رہی۔ ہم ماضی سے کچھ سبق لینا چاہیں، تو یہی ہے کہ آئین کا احترام کیا جائے، افراد یا ادارے، جمہور کی اجتماعی شعور کا احترام کریں۔ اگر پارلیمان، عدلیہ، انتظامیہ میں سے کوئی ایک، دو یا سبھی، آئین و قوانین کی پاس داری نہیں کریں گے تو عام شہری سے کیا توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ آئین و قوانین کا احترام کرے! آئین کی نفی کرنا، در اصل پاکستان کی نفی کرنا ہے۔
جن معاشروں کے شہریوں کا آئین و قوانین سے اعتبار اُٹھ جائے، وہ معاشرے سلامت رہیں، یہ کیسے ممکن ہے! اگر ہمیں پاکستان کی سالمیت مطلوب ہے تو اوپر کی سطح سے لے کے، نچلی سطح تک، سب کو آئین و قانون کا تابع ہونا ہوگا۔ اگر ہم ریاست میں سب کے لیے مساوی نظام انصاف رائج کرنے میں نا کام رہتے ہیں تو پاکستان کی ریاست کو نا کام ریاست کہا جائے گا۔ یہ نکتہ ہر دم ذہن نشیں رہئے، ’’ریاست‘ شہری کے ساتھ معاہدے کا نام ہے‘‘۔ اگر کسی زمین کے ٹکڑے پر معاہدے کے مطابق شہری حقوق، اس کی عزت، جان و مآل محفوظ نہیں تو وہ وطن کاہے کا؟ لوگ اپنا وطن بدل کیوں لیتے ہیں؟ شہری ہی در اصل وطن ہے، وہ محفوظ نہیں، اسے انصاف نہیں ملتا تو اپنی ہی دھرتی پر اجنبی ہو جاتا ہے۔ ایسی ریاستیں تا دیر سلامت نہیں رہ پاتیں۔ ہمیں پاکستان کو ایسی ریاست بننے سے بچانا ہے۔ تاکہ وہ تا ابد قائم رہے۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)

Comments:- User is solely responsible for his/her words