پاکستان کے دفاعی بجٹ میں پچاس فیصد اضافہ

اسلام آباد: پاکستان کے گزشتہ بجٹ میں دفاع کے لیے 1100 ارب روپے رکھے گئے تھے لیکن وزارت خزانہ کی اطلاعات کے مطابق دفاع پر رواں مالی سال کے اختتام تک 1676 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں دفاع کے لیے رقم بڑھائے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان کی معیشت مشکلات کا شکار ہے اور گزشتہ سال نئی حکومت قائم ہونے کے بعد سے خاص طور پر بحران میں ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر کو دو بار منی بجٹ پیش کرنا پڑا ہے اور ادائیگیوں کے توازن کو ٹھیک کرنے کے لیے دوست ملکوں نے کئی ارب ڈالر فراہم کیے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان اپنے ہر خطاب میں سادگی کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں اور ہر شعبے میں اخراجات گھٹانے کی بات کرتے ہیں۔
تاہم وزارت خزانہ نے قومی مالیاتی کمیشن کو آگاہ کیا ہے کہ اس سال دفاعی بجٹ پر اعلان کردہ رقم سے پچاس فیصد زیادہ رقم خرچ کی جا رہی ہے۔ بجٹ میں دفاع کے لیے 1100 ارب روپے رکھے گئے تھے۔ لیکن کل خرچہ 1676 ارب ہو جائے گا۔ اس میں فوجیوں کی پنشن، اسٹریٹیجک نوعیت کے اخراجات اور خصوصی ملٹری پیکج شامل ہیں۔
سیکرٹری خزانہ عارف احمد خان کے مطابق وفاقی حکومت کی کل آمدن 5500 ارب ہے۔ صوبوں کے حصے 2581 ارب، دفاع کے 1676 اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے 1842 ارب کا مجموعہ 6100 ارب بنتا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، ترقیاتی کاموں اور معمولی اخراجات کے لیے مسلسل قرضہ لینا پڑ رہا ہے۔
گزشتہ روز وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں اس صورت حال پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لیے دفاعی بجٹ میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی، بلکہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا دفاعی بجٹ پہلے ہی خطے کے دوسرے ملکوں سے کم ہے۔
سینئر تجزیہ کار امتیاز عالم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دفاعی بجٹ میں اضافے کا مطلب ہے کہ ترقیاتی بجٹ پر چھری چلے گی اور ممکن ہے کہ اسے ختم ہی کر دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات جوں کے توں ہیں اور افغانستان میں امن مذاکرات ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں دفاعی بجٹ بڑھانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

Comments:- User is solely responsible for his/her words