معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

پاکستان امریکہ سے سیکورٹی امداد بحال کرنے کی بات نہیں کرے گا: اعزاز چوہدری

  وقت اشاعت: 07 اپریل 2018

واشنگٹن: امریکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ  معطل شدہ سیکورٹی امداد کی بحالی کے لئے بات نہیں کررہا اور نہ ہی اس قسم کا کوئی ارادہ ہے۔ واضح رہے پاک فوج اور حکومت کا مؤقف ہے کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرے اور اس کی کامیابی کو تسلیم کیا جائے۔ پاکستان نے یہ جنگ اپنے وسائل سے لڑی اور جیتی ہے ، اس لئے امریکی امداد اس حوالے سے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے پاکستان پر دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔ اسی سلسلہ میں پاکستان کو ملنے والی دو ارب ڈالر سے زائد کی سیکورٹی امداد معطل کردی گئی ہے۔ اس بارے میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ امداد مستقل طور سے بند کرکے پاکستان کی نان نیٹو حلیف کی حیثیت ہی ختم کردی جائے گی۔

پاکستانی سفیر نے امریکی اور پاکستانی میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان، امریکہ سے سیکیورٹی امداد کی بحالی کے لیے نہ بات کر رہا ہے اور نہ کرے گا۔ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کے خلاف اعزاز چوہدری کی جانب سے کی جانے والی پریس بریفنگ کا رخ امریکہ، پاکستان تعلقات اور افغان مسئلے کی جانب رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری جانب سے امریکی انتظامیہ سے اس مسئلے پر بات نہیں کی گئی۔ پاکستان کو امداد نہیں چاہیے بلکہ عزت، وقار، احترام اور جو پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کیا ہے اس کا اعتراف چاہیے۔

اعزاز چوہدری  کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اس معاملے پر اپنی پوزیشن کر چکا ہے۔ اب امریکی حکومت کو فیصلہ کرنا ہے، جبکہ ہم اپنے وسائل سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پر عزم ہیں۔ واضح رہے کہ امریکی صدر نے رواں سال جنوری میں ٹویٹ کرکے پاکستان کو اربوں ڈالر دینے اور بدلے میں دہشت گردی کے خلاف ٹھوس اقدامات نہ کرنے کا الزام لگایا تھا جس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کی سیکیورٹی امداد روک دی تھی۔

اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوے پر امریکی حکام سے کوئی بات نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان کی صورت حال بہتر کرنے کی بات کر رہے ہیں کیونکہ دونوں ممالک کا ایک ہی مقصد ہے کہ افغانستان کو مستحکم بنایا جا سکے۔ اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان، افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے امن معاہدے میں مثبت سوچ کے ساتھ ملوث ہے کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ امن کے لیے یہی صحیح راستہ ہے۔

سفیر نے افغان معاملے پر پاک فوج اور خفیہ ایجنسیوں اور عوامی حکومت کا ایک موقف نہ ہونے کے الزامات کو مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بالکل بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ الزامات ہیں۔
 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...