معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

نواز شریف کی جگہ نہیں لے سکتا: شہباز

  وقت اشاعت: 13 مارچ 2018

اسلام آباد: وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کا بقاعدہ صدر منتخب کرلیا گیا ہے۔ پارٹی نے 2018 کے انتخابات میں ‘ووٹ کو عزت دو‘ کے منشور کا اعلان کیا ہے

مسلم لیگ (ن) کی جنرل کونسل کے اجلاس میں  پارٹی کا باقاعدہ صدر منتخب کیا گیا ہے۔ پارٹی صدر کے عہدے کے لیے آج صبح 9 بجے سے 11 بجے تک کاغذات نامزدگی وصول کرنے کا وقت مقرر تھا تاہم شہباز شریف کے علاوہ کسی دوسرے ممبر نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے۔ شہبازشریف کے کاغذات نامزدگی پر چاروں صوبوں کے تائید و تجویز کنندگان کے دستخط موجود تھے، بعد ازاں جنرل کونسل اجلاس میں باضابطہ طور پر ان کے صدر بننے کا اعلان کردیا گیا۔

مسلم لیگ (ن) جنرل کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ میرے لیے یہ اہم اور مشکل لمحہ ہے کہ مجھے مسلم لیگ (ن) کا صدر منتخب کیا گیا ہے کیونکہ مجھے ایک ایسے منصب پر کام کرنے کے لیے کہا جارہا ہے، جس سے 30 برس تک میں نے رہنمائی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سمیت پارٹی کا کوئی بھی رکن نواز شریف کی جگہ لینے کا تصور نہیں کرسکتا، وہ کل بھی ہمارے قائد تھے، آج بھی ہیں اور کل بھی رہیں گے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں دیانت داری سے سمجھتا ہوں کہ یہ پاکستان کے عوام کے لیے خوشخبری ہے کہ انہیں نواز شریف جیسا قائد نصیب ہوا اور یہ وہی واحد رہنما ہیں جنہیں قائد اعظم کا وارث قرار دیا جاسکتا ہے۔ ایٹمی دھماکوں کے ذریعے ملکی دفاع کو نا قابل تسخیر بنانے کے لیے نواز شریف نے  امریکی ڈالروں کی اپیشکش کو ٹھکرا دیا تھا اور ملک کو ایٹمی طاقت بنایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ وہ اقدام ہیں جو بانیان پاکستان کے بعد نواز شریف کو ملک کا مدبر رہنما بناتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا میرے لیے اس سے بڑا اعزاز کچھ نہیں کہ نواز شریف نے مجھے اپنے منصب پر فائز کرنے کے لیے چنا ہے لیکن میرا دل و دماغ یہی سوال کررہے ہیں کہ کیا کوئی اور نواز شریف کی جگہ لے سکتا ہے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مجھے نواز شریف کی سرپرستی، کارکنوں اور عوام کے تعاون پر بھروسہ ہے۔ کارکنان ہماری جماعت کا سرمایہ ہیں۔ انہوں نے قربانیاں دے کر قائد اور جماعت سے وفاداری کا ثبوت دیا ہے اور میں ان کارکنوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا جانتی ہے کہ نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی اور انہیں انتقام کا نشانہ بنایا گیا لیکن مجھے یقین ہے کہ ایک دن ان سب زیادتیوں کا ازالہ ہوگا اور سازشیں کرنے والے بے نقاب ہوں گے۔ کنونشن سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ تمام دکھوں کا مداوا قائد اعظم اور علامہ اقبال کے نظریات کے تحت پاکستان کو ایک عظیم فلاحی ریاست بنانے میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارے سامنے ایک بڑا چیلنج ہے اور ہم نے تمام ان رکاوٹوں کو دور کرنا ہے اور چاہے کتنے بھی گٹھ جوڑ ہوں لیکن ’ نیازی اور زرداری مل کر بھی ہم پر بھاری‘ نہیں ہوں گے۔

بعد ازاں مرکزی جنرل کونسل سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال ہمارے لیے پیدا کی گئی اور ہمیں نیا پارٹی سربراہ منتخب کرنا پڑا۔ 2013 میں عوام نے مجھے پاکستان کا وزیر اعظم بنایا اور عوام نے کروڑوں ووٹ دے کر مجھے منتخب کیا۔ عوام کروڑوں ووٹ دے کر ایک وزیراعظم منتخب کرتے ہیں جو دن رات قوم کے بارے میں سوچتا ہے جبکہ جب ملک میں لوڈشیڈنگ کا دور شروع ہوجائے تو اس کو ختم کرنا آسان نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ 4 سالوں میں لوڈشیڈنگ کو ختم کردی جائے، دنیا بھر میں ایسی مثال نہیں ملتی لیکن ہم نے دن رات محنت کرکے لوڈشیڈنگ کو ختم کرنے کی کوشش کی۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ نواز شریف نے اتنے منصوبے لگائے کہ میں ان کا افتتاح کر کر کے تھک گیا ہوں اور روزانہ نئے منصوبوں کا افتتاح کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے شہباز شریف نے 10 سال میں پنجاب میں کیا کیا؟ میں انہیں بتایا چاہتا ہوں کہ شہباز شریف نے 10 سال میں جو کام کیا وہ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ 4 سال پہلے جو پاکستان کا منظر تھا وہ آپ کے سامنے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر یہاں دھماکے ہوتے تھے اور خون بہایا جاتا تھا اور پاکستان مشکل وقت سے گزر رہا تھا لیکن ایسے وقت میں منصب سنبھالنا بہت بڑا چیلنج تھا۔ نواز شریف نے کہا کہ اس وقت خزانہ خالی تھا اور ایک منصوبے کے لیے بھی پیسے نہیں تھے لیکن ہم نے اس چیلنج کا مقابلہ کیا اور ملک میں منصوبے لگائے اور ہم نے وعدہ کیا کہ ہم نے ملک کو ترقی دینی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ جو ہوا ہے اس کے بعد کسی منصوبے کا افتتاح کرنے کا دل نہیں چاہتا کیونکہ میں بھی انسان ہوں اور کبھی کبھی انسان مایوس ہوجاتا ہے لیکن جو ہمارا مشن ہے اس سے میں پیچھے نہیں جاؤں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مشن ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور پاکستان کے 70 سال جس طرح گزرے ہیں آئندہ کے 70 سال ایسے نہیں ہونے چاہیے اور میں کارکنوں اور عوام کو مجبور کروں گا کہ وہ اس میں ہمارے ساتھ ہوں۔

اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے منشور کا عنوان ’ووٹ کو عزت دو‘ ہوگا اور ووٹ کو عزت دینے کا مطلب ہے عوام کو اور اس کے مینڈیٹ اور اس کی حکمرانی کو عزت دینا ہے۔

 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...