معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

صادق سنجرانی سینیٹ کے چیئرمین منتخب

  وقت اشاعت: 12 مارچ 2018

اسلام آباد: اپوزیشن اتحاد کے امیدوار صادق سنجرانی سینیٹ کے نئے چیئرمین جبکہ سلیم مانڈوی والا ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوگئے ہیں۔ اس طرح پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار بلوچستان سے تعلق رکھنے والا ایک شخص سینیٹ کا چیئرمین منتخب ہؤا ہے۔ سینیٹ چیئرمین کے انتخاب کے لیے 103 اراکین سینیٹ نے حق رائے دہی کا استعمال کیا، جس میں تمام کو درست قرار دیا گیا اور کوئی ووٹ مسترد نہیں ہوا۔ پریزائیڈنگ افسر یعقوب ناصر کے مطابق محمد صادق سنجرانی نے انتخاب میں 57 ووٹ حاصل کیے جبکہ حکومتی اتحاد کے امیدوار راجہ ظفر الحق کو 46 ووٹ ملے۔

یعقوب ناصر نے صادق سنجرانی سے عہدے کا حلف لیا اور انہیں چیئرمین سینیٹ کا گاؤن پہنایا گیا۔ نومنتخب صادق سنجرانی نے ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کا اعلان کیا جس کے مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کی گئی۔ پیپلز پارٹی اور اتحادیوں کے امیدوار سلیم مانڈوی والا 54 ووٹ لے کر سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوئے۔ ان کے مدمقابل حکومتی اتحاد کے امیدوار عثمان کاکڑ نے 44 ووٹ حاصل کیے۔ صادق سنجرانی نے نومنتخب ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سے عہدے کا حلف لیا۔

قبل ازیں سینیٹ اجلاس میں پریزائیڈنگ افسر یعقوب ناصر نے نومنتخب ارکان سے حلف لیا جس کے بعد سینیٹ کی تمام قائمہ اور خصوصی کمیٹیوں کو تحلیل کردیا گیا۔ نومنتخب سینیٹرز نے سینیٹ کی دستاویزات پر دستخط بھی کیے۔ ووٹنگ کے عمل سے قبل سینیٹ اجلاس میں پریزائیڈنگ آفیسر یعقوب ناصر نے ووٹنگ کے عمل کے ضابطے کے بارے میں آگاہ کیا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما مشاہد اللہ خان نے سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے عہدوں کے لئے کاغذات نامزدگی  داخل ہونے سے قبل بتایا تھا کہ  حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی جانب سے راجہ ظفر الحق کو چیئرمین اور عثمان کاکڑ کو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے امیدوار ہوں گے۔ سینیٹ کی کل نشستوں کی تعداد 104 ہے، جن میں سے چیئرمین سینیٹ کی کامیابی کے لیے 53 ارکان کے ووٹ درکار تھے۔ حکمران اور سینیٹ کی اکثریتی پارٹی مسلم لیگ (ن) کی طرف سے اگرچہ سینیٹ مین اکثریت کی حمایت حاصل کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا لیکن اپوزیشن کی دونوں بڑی اور اہم جماعتوں پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے بالواسطہ اشتراک اور بلوچستان کے آزاد ارکان کے گروپ کی طرف سے اپوزیشن کے امید واروں کی حمایت کی وجہ سے حکرمان جماعت کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ فاٹا کے آزاد ارکان نے بھی جو عام طور سے حکومت کا ساتھ دیتے ہیں، اس بار اپوزیشن کے امیدوار کی حمایت کی۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ امیدوار بلوچستان سے تھا اور قیاس کیا جارہا ہے کہ اسے اسٹیبلشمنٹ کی اعانت حاصل تھی۔

3 مارچ کو سینیٹ کی 52 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے سب سے زیادہ 15 نشستیں حاصل کی تھیں جبکہ پیپلز پارٹی نے 12 اور تحریک انصاف کے 6 سینیٹرز کامیاب ہوئے تھے، اس کے ساتھ 10 آزاد امیدوار بھی سینیٹ کی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ نئے سینیٹ چیئرمین صادق سنجرانی بھی آزاد حیثیت میں سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...