معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

لاہور میں نواز شریف پر جوتے سے حملہ

  وقت اشاعت: 11 مارچ 2018

لاہور: دارالعلوم نعیمیہ میں منعقدہ تقریب میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تا حیات قائد نواز شریف خطاب کرنے اسٹیج پر آئے تو ایک شخص نے ان پر جوتا دے مارا۔

دارالعلوم نعیمیہ کی انتظامیہ نے جوتا پھینکے والے شخص کو پکڑ لیا اور بعد ازاں سیکیورٹی اداروں نے مذکورہ شخص کو گرفتار کرلیا۔

نواز شریف مفتی محمد حسین نعیمی کی برسی سے متعلق دارالعلوم نعیمیہ میں منعقدہ تقریب میں شریک تھے۔ جب وہ خطاب کرنے اسٹیج پر آئے تو ایک شخص نے ان کی طرف جوتا پھینکا۔  جوتا نواز شریف کے کندھے  کو چھو کر پیچھے جا گرا۔  واقعے کے بعد نواز شریف نے تقریب سے مختصر خطاب کیا اور واپس چلے گئے۔

واقع کی منظر عام پر آنے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جوتا پھینکنے کے بعد اس شخص نے نعرہ لگاتے ہوئے دونوں ہاتھ ہوا میں بلند کیے، تاہم اطراف میں موجود شہریوں نے اسے پکڑ لیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف پر ایک تقریب کے دوران ایک شخص نے سیاہی پھینک دی تھی۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین عمران خان نے سابق وزیراعظم نواز شریف پر جوتا پھینکے کے واقع کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات ہمارے اخلاقیات کا حصہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ ایسے عمل میں تحریک انصاف کا کوئی کارکن ملوث نہیں۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے نواز شریف پر جوتا پھینکنے کے واقع کو غیر سیاسی عمل قرار دیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما قمر زمان قائرہ نے نواز شریف پر جوتا پھینکنے کے معاملے پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے اتنی کم ہے اور تمام جماعتوں کو اس کی مذمت کرنی چاہیے۔ متحدہ قومی قوومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رکن فیصل سبزواری نے ایک ٹوئٹ میں واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہر سیاسی جماعت اور اس کے رہنما کے مخالفین ہوتے ہیں تاہم یہ افسوسناک حرکتیں تصادم اور پھر تشدد کو بھی فروغ دے سکتی ہیں۔ نواز شریف پر ہونے والے جوتے کے حملے پر سینیٹر شیریں رحمٰن نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں افسوس کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ نواز شریف پہلے سیاستدان نہیں ہیں، جن کو جوتے سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس سے قبل ان کے متعدد ہم وطن سیاستدانوں، جن میں ان کے بھائی شہباز شریف بھی شامل ہیں، کے علاوہ امریکا، بھارت اور دیگر ممالک میں بھی متعدد سیاستدانوں پر جوتے سے حملے کی کوشش کی گئی۔ لاہور میں 4 مارچ 2017 کو عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کو ریلوے اسٹیشن پر نامعلوم شخص نے جوتا دے مارا تھا۔ اس کے علاوہ مارچ 2013 میں سابق فوجی حکمران جنرل (ر) پرویز مشرف پر ایک وکیل نے اس وقت جوتا دے مارا تھا جب وہ سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت کیس میں ضمانت حاصل کرنے کے لیے پیش ہونے کے لیے آئے تھے۔  سابق وزیر اعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب رحیم کو اپریل 2008 میں بطور نو منتخب رکن سندھ اسمبلی کا حلف لینے کے بعد اسمبلی کے باہر جوتے سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ 

کسی سیاستدان پر جوتا پھینکے جانے کا پہلا واقعہ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے ساتھ پیش آیا تھا۔ ان پر عراق میں اس وقت جوتا پھینکا گیا تھا جب وہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ بعد ازاں عراقی عدالت نے سابق امریکی صدر جارج بش پر جوتا پھنکنے والے صحافی منتظر الزیدی کو 3 سال کی سزا سنائی تھی۔

اس واقع پر تبصرہ کرتے ہوئے  مریم نواز کا کہنا تھا کہ  نواز شریف کے مخالفین کے اوچھے ہتھکنڈوں نے نواز شریف کے لیے لوگوں کے دلوں میں محبت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ نواز شریف ایک شیر ہیں اور اپنے دشمنوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا جانتے ہیں، وہ کسی سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف ہمارے قائد ہیں لیکن ایک بیٹی کی حیثیت سے مجھے آج ان کے ساتھ ہونے والے واقعہ سے شدید تکلیف ہوئی ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ نواز شریف حق کے راستے ہر ہیں، اور جو حق کے راستے پر ہوتے ہیں ان کے سامنے رکاوٹیں آتی ہیں، تاہم ہمیں آج نواز شریف کے دشمنوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ اب ہمارے دلوں میں مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد سے محبت مزید بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کسی بھی سازش کے سامنے نہیں جھکے تو دشمنوں نے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے شروع کردیئے اور یہ ہتھکنڈے اس وقت استعمال کیے جاتے ہیں جب دشمن شکست خوردہ ہوچکا ہوتا ہے۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...