معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

چین کے کے تاحیات صدر کی راہ ہموار

  وقت اشاعت: 11 مارچ 2018

بیجنگ: چین میں آئینی  صدر کے عہدۂ صدارت کی حد پر عائد پابندی ختم کر دی گئی ہے جس کے بعد موجودہ صدر شی جن پنگ کے  تاحیات صدر رہنے کی راہ ہموار کردی گئی ہے۔ اس آئینی تبدیلی کی منظوری نیشنل پیپلز کانگریس نے اتوار کے روز اپنے سالانہ اجلاس کے موقعع پر دی۔  2964 ارکان پر مشتمل اس ادارے کے دو ارکان نے اس تبدیلی کے خلاف ووٹ دیا، جب کہ تین نے رائے شماری سے اجتناب کیا۔

چین میں  1990 کے بعد سے صدر کے عہدے کی میعاد مقرر ہے تاہم صدر شی نے روایت کے برعکس اکتوبر میں ہونے والے کمیونسٹ پارٹی کانگریس میں اپنے جانشین کا اعلان نہیں کیا تھا۔ اس کی بجائے انہوں نے اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کیا اور پارٹی نے ان کے نام اور سیاسی آئیڈیالوجی کو آئین کا حصہ بنانے کے لیے ووٹ دیا تھا۔ اس طرح شی جن پنگ کا مرتبہ پارٹی کے بانی ماؤ زے تنگ کے برابر ہو گیا ہے۔

فروری کے آخر میں پارٹی نے چین کے آئین سے یہ حد ختم کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ صدر شی کے موجودہ عہدے کی مدت  2023 میں ختم ہو رہی ہے۔ کانگریس بظاہر چین کا سب سے طاقتور قانون ساز ادارہ ہے اور اس کی حیثیت دوسرے ملکوں کے پارلیمان کی طرح ہے لیکن عملی طور پر یہ پارٹی کے سربراہ کی مرضی کے مطابق ہی فیصلے کرتی ہے۔ شی جن پنگ کو تاحیات صدر مقرر کرنے کا معاملہ کسی حد تک متنازع بھی رہا ہے۔ لیکن چین میں عائد سینسر کی وجہ سے اس موضوع پر ہونے والی بحث سامنے نہیں آتی۔  ایک ناقد نے ایک کھلا خط لکھ کر اس آئینی تبدیلی کی تجویز کو 'مذاق'   قرار دیا تھا۔

ایک سرکاری اخبار کے سابق مدیر لی داتونگ نے کہا کہ صدر اور نائب صدر کے عہدے کی حد ختم کرنے سے انتشار جنم لے گا۔ انہوں نے یہ خط نیشنل کانگریس کے بعض ارکان کو بھیجا ہے۔ انہوں نے بی بی سی چائنا کو بتایا: 'میں اسے مزید برداشت نہیں کر سکتا۔ میں اپنے دوستوں سے بات کر رہا تھا اور ہمیں اس پر سخت غصہ ہے۔ ہمیں اپنی مخالفت کی آواز اٹھانا ہو گی۔'

البتہ سرکاری میڈیا نے اس تبدیلی کو ایسی اصلاحات قرار دیا ہے جن کی ایک مدت سے ضرورت تھی۔  امریکی صدر ٹرمپ نے اس تبدیلی کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے کہا تھا: 'تاحیات صدر۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت زبردست بات ہے۔ ہمیں بھی اس پر غور کرنا چاہیے۔'  بعد میں جب اس پر سخت تنقید ہوئی تو ٹرمپ نے کہا کہ میں تو مذاق کر رہا تھا۔

گزشتہ اکتوبر کمیونسٹ پارٹی نے شی جن پنگ کے نظریات کی منظوری دی تھی۔ اب سکول، کالجوں اور سرکاری کارخانوں میں یہ نظریات پڑھائے جائیں گے۔ کمیونسٹ پارٹی کے مطابق یہ جدید چین کا نیا باب ہے۔ شی  2012 میں صدر بنے تھے اور جیسے جیسے چین علاقائی سپر پاور کے طور پر ابھرتا چلا گیا، شی جن پنگ اپنی سیاسی قوت بڑھاتے چلے گئے۔

انہوں نے بدعنوانی کے خلاف سخت مہم چلائی ہے اور پارٹی کے دس لاکھ سے زیادہ ارکان کو سزا دی ہے۔ اس سے ان کی مقبولیت میں خاصا اضافہ ہوا۔ اسی دوران چین میں کئی شخصی آزادیوں کو سلب کر لیا گیا اور سرکاری نگرانی اور سینسرشپ کے پروگراموں میں اضافہ کر دیا گیا۔ 
 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...