معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

سینیٹ چیئر مین کے لئےبھاگ دوڑ

  وقت اشاعت: 10 مارچ 2018

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت کو سینیٹ چیئرمین بنوانے کے لئے مطلوبہ ارکان سے زائد کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔ انہوں نے اسے حقیقت قرار دیا ہے۔ اس دوران پاکستان تحریک انصاف نے بلوچستان سے سینیٹر کا چیئرمین لانے کے لئے وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کے پینل کی حمایت کا اعلان کیا۔ بزنجو کا کہنا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی سے مشاورت کرکے ان کی مرضی کا ڈپٹی چیئر مین لاسکتے ہیں تاکہ بلوچستان کے چیئرمین کے لئے اس پارٹی کی حمایت حاصل کی جاسکے۔ واضح رہے مسلم لیگ (ن) کے علاوہ پیپلز پارٹی کے معاون چیئرمیں آصف زرداری بھی اپنی مرضی کا چیئرمین سینیٹ بنوانے کے لئے بھاگ دوڑ کررہے ہیں۔

آصف زرداری نے اس سے قبل نواز شریف کی طرف سے رضا ربانی کو دوبارہ چیئرمین سینیٹ بنوانے کی تجویز مسترد کردی تھی۔ ابھی پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ (ن) نے اپنے امیدواروں کا اعلان نہیں کیا تاہم پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ ہر صورت مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی مخالفت کریں گے۔ اس دوران سپریم کورٹ نے دوہری شہریت رکھنے والے پانچ نئے نئے سینیٹرز کو چیئرمین اور ڈپٹی چیئر مین سینیٹ کے انتخاب میں ووٹ دینے کا حق دے دیا ہے تاہم دوہری شہریت رکھنے والے سینیٹرز اور ارکان اسمبلی کے بارے میں حتمی فیصلہ کے لئے سات رکنی بنچ بنانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن پاکستان نے ان پانچ سینیٹرز کا نوٹیفیکیشن جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ تبدیل کیا تو ان سینیٹرز کو دوبارہ ڈی نوٹیفائی کردیا جائے گا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان کا کہنا تھا کہ حکمراں جماعت نے اپنی اتحادی جماعتوں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی(پی کے میپ)، نیشنل پارٹی (این پی)، جمعیت علمائے اسلام (ف) سے چیئرمین سینیٹ لانے کے لیے مشاورت کی ہے۔  مسلم لیگ (ن) نے کراچی تک رابطہ کیا جہاں سے حوصلہ افزا رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کو اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد اور چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے ایوان میں ہدف سے زائد ارکان کی حمایت حاصل ہوگئی ہے جو تقریباً 59 ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے امیدوار کے ناموں کا حتمی اعلان  کریں گے جس کے لیے وہ مزید کچھ ارکان سے مشاور کریں گے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے دعویٰ کیا کہ ہم نے کہا تھا کہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین حکمراں جماعت سے ہوگا یا پھر اس کا حمایت یافتہ امیدوار ہوگا، اور اس نے اپنا یہ مقصد پورا کر لیا ہے۔ سینیٹر مشاہد اللہ خان نے واضح کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف نے پی پی پی کے سینیٹر رضا ربانی کا نام ان کی آئین و قانون کی بالادستی کے لیے پیش کی جانے والی خدمات کے پیشِ نظر تجویز کیا تھا لیکن اس تجویز کا مذاق اڑایا گیا اور اسے گُگلی سے تشبیہ دی گئی۔ انہوں نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے پی پی پی کے لیے نہیں بلکہ رضا ربانی کی انفرادی حیثیت اور ان کی خدمات کی وجہ سے ان کام تجویز کیا تھا۔  مشاہد اللہ خان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اس وقت اتحادی جماعتوں میں سب سے بڑی جماعت ہے، تاہم پھر بھی چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے مزید مشاور کی جائے گی جن میں فاٹا سے تعلق رکھنے والے اراکین بھی شامل ہیں۔

اس دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان اور وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے چیئرمین سینیٹ کا امیدوار بلوچستان سے لانے اور ڈپٹی چیئرمین پی پی پی کے ساتھ مل پینل سے لانے کا اعلان کیا ہے۔ اسلام آباد میں خیبر پختونخوا (کے پی) ہاؤس میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ چاہتے ہیں کہ چیئرمین سینیٹ بلوچستان سے آئے جس کے لیے ہم انوارالحق کاکڑ اور صادق سنجرانی میں سے کسی ایک نام کو حتمی شکل دیں گے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے عمران خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین شپ کے لیے عمران خان نے ہمیں مینڈیٹ دیا جبکہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو کے بھی مشکور ہیں۔ عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ ہم پاکستان پیپلز پارٹی سے ملاقات کریں گے اور مشاورت کے بعد امیدواروں کا اعلان کریں گے۔

اس موقع پر عمران خان نے خواہش کی تھی کہ چیئرمین بلوچستان سے اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ فاٹا سے ہو لیکن وزیراعلیٰ بلوچستان نے پینل کی حمایت کی درخواست کی ہے اور ہم ڈپٹی چیئرمین کے لیے بھی پینل کی حمایت کریں گے۔ عمران خان نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ بلوچستان سے آئے تو یہ بڑی کامیابی ہوگی جبکہ ہم کسی صورت نہیں چاہتے ہیں کہ چیئرمین سینیٹ مسلم لیگ (ن) سے بنے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ چیئرمین سینیٹ بلوچستان سے ہوگا، پہلی بار بلوچستان سے چیئرمین سینیٹ بنے گا جس کے لیے میں وزیراعلیٰ بلوچستان کو پیشگی مبارک باد دیتا ہوں۔

سینیٹ انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ جس ملک میں سیاست بدنام ہو وہ ملک کبھی ترقی نہیں کرسکتا اور ہمیشہ صرف وہی ملک ترقی کرتا ہے جس میں سیاست کو اس برائی سے پاک رکھا جائے اور ہماری حکومت نے ایسا ہی کیا۔ تربیلا 4 ہائیڈرو منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کا سفر جاری رہے گا تو پاکستان ترقی کرے گا اور ہمیں یہ پیغام عوام تک پہنچانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ انتخابات کے دوران ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ ووٹ دینے کے لیے کسی کو ایک روپیہ بھی نہیں دیں گے کیونکہ ہم ملک اور سیاست کی بدنامی نہیں چاہتے تھے۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ہم نے سینیٹ انتخاب میں اس چیز کو استعمال نہیں کیا ہم چاہتے ہیں کہ ایسا شخص آئے جو تمام معاملات کو بہتر انداز سے چلا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص ایم پی ایز کو خرید کر سینیٹ تک پہنچا ہو وہ پاکستان کی کیا خدمت کرے گا۔  وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وقت آرہا ہے کہ عوام فیصلہ کریں کیونکہ عوام جو فیصلہ کرتے ہیں اس کے اثر ان تک پہنچتا ہے۔ 2008 میں عوام نے جو فیصلہ کیا وہ ان کے سامنے ہے جبکہ 2013 میں جس کے حق میں عوام نے ووٹ دیا آج اس کے اثرات ان کے سامنے ہیں۔
 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...