معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

بین الادارتی تعاون کی ضرورت

  وقت اشاعت: 09 مارچ 2018

اسلام آبادِ: سینیٹ کے چیئرمین رضاربانی نے کہا ہے کہ ملکی معاملات میں  پارلیمان کی بالادستی ہونی چاہئے کیونکہ پارلیمان ہی بالادست ہے اور  ہر ادارے کو اپنے آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے۔ سینیٹ چیئرمین کے طور پر الوداعی تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اداروں کے اختیارات پر سینیٹ میں بحث کرائی گئی تھی۔ اس حوالے  میری محفوظ کی ہوئی رولنگ 17 صفحات پر مشتمل ہے۔ اور ریکاعرڈ کا حصہ ہے۔

ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اداروں میں ٹکراؤ کی بات ہو رہی ہے اس لیے بین الادارتی مباحث کی اشد ضرورت ہے۔  اس سلسلہ میں انہوں نے اداروں کے درمیان مشاورت اور بات چیت کی ضرورت پر ھر زور دیا۔انہوں نے اس حوالے سے کی جانے والی پیش رفت کا ذکرکرتے ہوئے کہا  چیف جسٹس سے ملاقت میں مثبت پیش رفت ہوئی۔ جبکہ آرمی چیف کو بھی سینیٹ کی مکلمل کمیٹی میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ اس میں  آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے شرکت کی۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اگر اداروں کی بات کریں تو آرمی ایک اداراہ ہے لیکن وہ ادارہ انتظامیہ کے ماتحت ہے۔

منتخب نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ہم میں کوتاہی ہے اور کیا ہم نے کوئی غلطی کی ہے کیونکہ پارلیمان نے خود اپنی جگہ دی اور جب اپنی جگہ دوسروں کو دیں گے تو قدرتی عمل ہے کوئی اور وہ جگہ لے گا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان کو معطل کیا گیا اسے قبول کرلیا لیکن جب پارلیمان کو بحال کیا گیا تو اسکول کے اچھے بچوں کی طرح واپس آکر بیٹھ گئے۔ جتنے بھی قوانین آپ چاہتے ہیں ہم مانتے ہیں اور ٹھپہ لگا دیتے ہیں، فقط اٹھارویں ترمیم میں مشرف کے کسی قانون کو قبول نہیں کیا گیا۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بالا دستی کے لیے لازم ہے کہ ایگزیکٹو کا آرڈینس جاری کرنے کا اختیار ختم کیا جائے۔ سینیٹ کے حالیہ انتخابات پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہاں سینیٹ کے الیکشن پر بات ہو رہی ہے لیکن سیاسی جماعتوں کو یاد کرانا چاہتا ہوں کہ سینیٹ نے 20 مئی 2016 کو ایک رپورٹ منظور کی تھی جو انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کو بھیجی گئی تھی۔ لیکن پارلیمانی کمیٹی نے اس رپورٹ کو مسترد کردیا تھا۔

انہوں نے تجویز دی کہ جو رکن قومی یا صوبائی اسمبلی ووٹ کے لیے جائے تو اس کا نام بیلٹ پیپر پر لکھ دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پارلیمانی لیڈر کو اس بات کا شک ہو کہ کسی نے پارٹی کے مینڈیٹ کے مطابق ووٹ نہیں کیا تو ووٹ دکھانے کے لیے الیکشن کمیشن کو کہا جا سکے۔ رضاربانی نے کہا کہ یقین ہے کہ پارلیمان کی ہر مدت جج کی جاتی ہے اس لیے میں مورخ کے قلم سے مرنے کے بجائے بندوق کی گولی سے تباہ ہونا پسند کروں گا۔۔

رضاربانی نے اپنے الوداعی خطاب میں قائد ایوان راجا ظفرالحق کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہر قدم پرتعاون کرنے پر قائد ایوان راجا ظفرالحق کا شکرگزار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین کی کرسی پربیٹھ کر کئی مرتبہ تلخی یا سختی سے بھی بات کی، سختی اس لیے کی کہ ایوان صحیح طریقے سے چل سکے، میں درویش آدمی ہوں، میں نے اپنی خودی کو مارنے کی کوشش کی۔ چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ تلخی سے بات اس لیے نہیں کی کہ میرے دماغ میں چیئرمین شپ گھسی ہوئی تھی بلکہ ہم آئین اور پارلیمان کی بالادستی کی بات کرتے ہیں۔

سینیٹ چیئرمین رضاربانی نے اپنے الوداعی خطاب میں قائد ایوان اور حزب اختلاف سمیت تمام سینیٹرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کوشش رہی کہ آخری 3 سال میں اصولوں اور آئین کی بالادستی پرسمجھوتہ نہ کروں۔ رضاربانی نے اپنے الوداعی خطاب میں کہا کہ بھٹو کی لیگیسی تھی کہ اپنی گردن کٹا دو لیکن اصولوں پر سودے بازی نہ کرو۔  یہ میری خواہش رہی کہ وہ اسپیکرز جنہوں نے بادشاہ کے سامنے سر کٹوادیا لیکن پارلیمان کی بالادستی پر سمجھوتا نہ کیا ان کی فہرست میں میرا بھی نام شامل ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ  منصب آنے جانےوالی چیز ہوتی ہے لیکن آخر میں کردار اور اصول رہ جاتے ہیں۔

واضح رہے  کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو میں رضا ربانی کے طریقہ کار پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ رضاربانی نے نواز شریف کی جانب سے کی گئی کئی غیر آئینی اقدامات پر کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے رضا ربانی کو دوبارہ سینیٹ چیئرمین منتخب کروانے کی تجویز کو بھی مسترد کیا ہے۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...