معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

بھارتی آرمی چیف کا پاکستان پر الزام

  وقت اشاعت: 22 فروری 2018

نئی دہلی: بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے ملک کی شمال مشرقی ریاستوں میں ہونے والی دراندازی کے بارے میں پاکستان کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ اس میں مغربی ہمسائے کا ہاتھ ہے اور اسے چین کی بھی حمایت حاصل ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق جنرل راوت نے پاکستان یا چین کا نام نہیں لیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’مغرب میں ہمارا ہمسایہ ملک یہ پراکسی گیم کھیل رہا ہے اور اسے شمال میں ہمارے ہمسائے کی حمایت حاصل ہے۔‘

شمال مشرقی ریاستوں، خاص طور پر آسام میں بنگلہ زبان بولنے والے لوگوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور الزام یہ ہے کہ ان میں ایک بڑی تعداد بنگلہ دیش سے غیر قانونی طور پر وہاں آکر آباد ہوگئی ہے۔ نئی دہلی میں بی بی سی نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق شمال مشرقی ریاستوں پر ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل بپن راوت نے کہا کہ اب اس علاقے میں آبادی کے تناسب کو نہیں بدلا جاسکتا۔

یہ واضح نہیں ہے کہ اس بیان سے ان کی کیا مراد تھی لیکن آسام کے کئی اضلاع میں اب مسلمانوں کی اکثریت ہے جس کے لیے سیاسی جماعتیں غیر قانونی تارکین وطن کو ہی ذمہ دار مانتی ہیں۔ نامہ نگار کے مطابق جنرل راوت نے یہ بھی کہا کہ ’اس علاقے میں آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ نام کی ایک جماعت ہے جو بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ 1980 کے عشرے میں بی جے پی سے بھی زیادہ تیز رفتاری سے۔‘

اس جماعت کے سربراہ مولانا بدرالدین اجمل ہیں جو جمیعت علما ہند سے بھی وابستہ ہیں۔ جنرل راوت کے بیان سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ ان کی پارٹی غیر قانونی تارکین وطن کی حمایت کی بنیاد پر مضبوط  ہو رہی ہے۔ مولانا اجمل نے ٹوئٹر پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ فوج کے سربراہ نے اس طرح کا سیاسی بیان دیا ہے۔ انہیں اس بات کی کیوں فکر ہے کہ سیکولر اور جمہوری اقدار پر عمل کرنے والی ایک جماعت بی جے پی سے زیادہ تیز رفتاری سے ترقی کر رہی ہے۔‘

آسام میں حکومت غیرقانونی تارکین وطن کی نشاندہی کرنے کے لیے شہریوں کا ایک رجسٹر ترتیب دے رہی ہے اور مبصرین کے مطابق اس رجسٹر کے مکمل ہونے کے بعد لاکھوں لوگ شہریت اور سکونت کے حق سے محروم ہوسکتے ہیں۔ جنرل راوت نے یہ بھی کہا کہ ’ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس علاقے میں جو لوگ رہتے ہیں انہیں بلا لحاظ ذات، مذہب اور جنس آپس میں مل کر رہنا ہے۔ اگر ہم یہ سمجھ جائیں تو ہم خوشی سے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں، لیکن ہمیں پہلے مل کر رہنا ہوگا اور پھر ان لوگوں کی نشاندہی کرنا ہوگی جو ہمارے لیے مسائل پیدا کرتے ہیں۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلمان 13ویں صدی میں آسام میں آنا شروع ہوئے تھے۔ لہذا آسام پر ان کا بھی حق ہے۔ لیکن ہمیں غیرقانونی طور پر یہاں بسنے والوں کی نشاندہی کرنی چاہیے۔ فوج کا کہنا ہے جنرل راوت کے بیان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا اور وہ صرف شمال مشرق کی مجموعی صورتحال اور وہاں ترقی کے بارے میں بات کر رہے تھے۔
 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...