معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

زینب کے قاتل کی ہائی کورٹ میں اپیل

  وقت اشاعت: 20 فروری 2018

لاہور: قصور میں ریپ کے بعد قتل کی جانے والی زینب کے قاتل عمران نے موت کی سزا کے خلاف فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔  اس مقدمہ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے اسے چار بار سزائے موت کا حکم دیا تھا۔  اپیل میں مجرم عمران کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کا فیصلہ جلدی میں کیا گیا جبکہ ٹرائل کورٹ نے اس دوران قانونی تقاضے بھی پورے نہیں کئے۔

مجرم عمران نے اپیل میں مزید استدعا کی ہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔  مجرم عمران کی جانب سے سزا کے خلاف اپیل جیل انتظامیہ نے ہائی کورٹ میں دائر کی ہے۔  17 فروری 2018 کو لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے قصور میں 7 سالہ بچی زینب کو ریپ کے بعد قتل کے جرم میں عمران علی کے خلاف 4 مرتبہ سزائے موت، تاحیات اور 7 سالہ قید کے علاوہ 41 لاکھ جرمانے کا فیصلہ سنایا تھا۔ مجرم عمران علی کو عدالت نے بچی کے اغوا، ریپ، قتل اور انسداد دہشت گردی کی دفعہ 7 اے ٹی اے کے تحت سزا سنائی تھی۔

انسدادِ دہشت گردی عدالت نے بچی کے ساتھ جنسی زیادتی پر عمر قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ عدالت نے تعزیرات پاکستان کے تحت دو دفعہ سزائے موت کے ساتھ ہر سزا پر دس لاکھ، دس لاکھ روپے جرمانہ اس کے علاوہ بچی کی لاش کو گندگی کے ڈھیرمیں چھپانے کے جرم میں 7 سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔ جج کی جانب سے دس لاکھ جرمانہ بھی عائد کیا گیا جو مجرم متاثرہ خاندان کو ادا کرے گا۔

واضح ریے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سائنٹفیک بنیادوں پر فرانزک شواہد کو شامل تفتیش کرتے ہوئے مجرم کو سزا سنائی گئی ہے۔ صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں 4 جنوری کو 7 سالہ بچی زینب کو اپنے گھر کے قریب روڈ کوٹ کے علاقے میں ٹیوشن پر جاتے ہوئے اغوا کرلیا گیا تھا۔ جس وقت زینب کو اغوا کیا گیا کہ اس وقت ان کے والدین عمرے کی ادائیگی کے سلسلے میں سعودی عرب میں تھے جبکہ اہل خانہ کی جانب سے زینب کے اغوا سے متعلق مقدمہ بھی درج کرایا گیا تھا لیکن پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔

5 روز بعد 9 جنوری کو ضلع قصور میں شہباز خان روڈ پر ایک کچرے کے ڈھیر سے زینب کی لاش ملی تو ابتدائی طور پر پولیس کا کہنا تھا کہ بچی کو گلا دبا کر قتل کیا گیا۔ بعد ازاں پولیس کی جانب سے بچی کا پوسٹ مارٹم بھی کرایا گیا تھا، جس کے بعد لاش کو ورثا کے حوالے کردیا گیا تھا تاہم یہ بھی اطلاعات تھی کہ بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

بچی کی لاش ملنے کے بعد قصور میں پُر تشدد مظاہروں کا آغاز ہوا اور میں شدت اس وقت دیکھنے میں آئی جب اہلِ علاقہ نے مشتعل ہو کر ڈی پی او آفس پر دھاوا بول دیا اور دروازہ توڑ کر دفتر میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس موقع پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی تھی جبکہ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...