معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

پاک فوج یمن جنگ میں شریک نہیں ہوگی، وزیر دفاع

  وقت اشاعت: 19 فروری 2018

اسلام آباد: پاکستان کے وزیرِ دفاع خرم دستگیر سینیٹ کو یقین دلایا ہے کہ  سعودی عرب میں موجود پاکستانی فوج یمن کی جنگ میں شریک نہیں ہو گی۔ پیر کو ایوانِ بالا کے سامنے سعودی عرب میں مزید فوج بھیجے جانے کے معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج سعودی عرب میں صرف تربیت اور مشاورت کے عمل میں شریک ہے۔ سینیٹ کے چیئر مین رضا ربانی نے پاک فوج کے اس اعلان کے بعد کہ مزید فوج سعودی عرب بھیجی جائے گی، وزیر دفاع کو وضاحت کرنے  کے لئے طلب کیا تھا۔

خرم دستگیر نے بتایا پاکستان کے 1600 فوجی اہلکار پہلے سے سعودی عرب میں تعینات ہیں جبکہ وزیراعظم نے مزید ایک ہزار فوجی اہلکار سعودی عرب بھیجنے کی منظوری دے دی ہے ۔جس کے بعد وہاں موجود پاکستانی فوجیوں کی کل تعداد 2600 ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ  ان اہلکاروں کو 1982 کے پروٹوکول کے تحت بھیجا جا رہا ہے۔

سینیٹ کے چیئر مین رضا ربانی نے خرم دستگیر کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو باتیں انہوں نے بتائیں ہیں وہ ایوان کو پہلے سے معلوم ہیں۔  لہٰذا وہ یہ بتائیں کے مزید بھیجے جانے والے فوجیوں کو سعودی عرب میں کہاں تعینات کیا جائے گا اور وہ وہاں کریں گے کیا۔ انہوں نے وزیر دفاع سے دریافت کیا کہ  فوج  کے بیان سے پہلے ایوان کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔ وزیر دفاع خرم دستگیر نے اعتراف کیا کہ وزارت دفاع کی جانب سے یہ بیان سامنے آنا چاہیے تھا اور اس واقعہ میں ان کے سیکھنے کے لیے سبق ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی منظوری کے بعد فوج نے یہ بیان جاری کیا تھا تاہم تسلیم کیا کہ ایوان کو آگاہ کیا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا  کہ پاکستانی فوجی سعودی عرب کی فوج کو تربیت اور ان کی رہنمائی کے لیے بھیجے جا رہے ہیں۔  ’اس حوالے سے خاصے خدشات پائے جاتے ہیں اور میں یقین دہانی کرواتا ہوں پاکستانی فوجی اہلکار یمن کی جنگ میں حصہ نہیں لیں گے۔`

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج کے اضافی اہلکار سعودی عرب کی مقامی فوج کی تربیت اور مشاورت کا کام کریں گے۔ خرم دستگیر نے ایوان میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون پانچ دہائیوں پر محیط ہے اور سعودی فوج کی تربیت اور مشاورت کے لیے مزید ایک ہزار فوجی اس ملک کے ساتھ 1982 کے دوطرفہ پروٹوکول کے تحت ہو رہا ہے۔ وزیر دفاع نے کہا فوج کی حفاظت کے نقطہ نظر سے فوجیوں کی تعیناتی کے مقام کے بارے میں نہیں بتا سکتے۔ اس پر چیرمین سینٹ رضا ربانی نے کہا کہ اس کے لیے وہ بند کمرے کا اجلاس طلب کرسکتے ہیں لیکن وزیر دفاع نے اصرار کیا کہ یہ معلومات دینا ان کے لیے مشکل ہوگا۔

خرم دستگیر نے بتایا کہ ’چونکہ پاکستانی افواج کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران پہاڑوں پر جنگ کا تجربہ ہے اور وہ اس میں مہارت حاصل کر چکی ہیں اس لیے وہ سعودی افواج کو اسی حوالے سے تربیت دیں گی۔‘ انہوں نے وضاحت دی کہ ’ 1982 کے پروٹول میں یہ بات واضح ہے۔ اسی لیے پاکستانی فوجی صرف سعودی فوج کو مہارت اور قابلیت سکھانے جائیں گے۔‘

پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے کہا کہ 1982 کے پروٹوکول میں یہ بات بھی موجود ہے کہ ہنگامی صورتحال میں انہی فوجیوں کو جنگ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور حکومت اس حوالے سے بھی ایوان کو مطمئن کرے۔ اس موقعہ پر دیگر جماعتوں کے اراکین نے اس حوالےسے ابہام پیدا کرنے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقبل میں تعلقات پر خدشات کا اظہار کیا۔

 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...