معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

عاصمہ جہانگیر کے جنازہ میں ہزاروں لوگوں کی شرکت

  وقت اشاعت: 13 فروری 2018

لاہور: معروف قانون دان اور انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر کو لاہور میں بیدیاں روڈ میں خاندانی فارم ہاؤس میں سپرد خاک کردیا گیا۔ عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ قذافی اسٹیدیم لاہور میں ادا کی گئی جہاں وکلاء برادری، انسانی حقوق کے کارکنوں، عزیز و اقارب سمیت شہریوں اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ جنازہ کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شرکت کی۔

نماز جنازہ میں سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری، اعتزاز احسن اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔ مرحومہ کی نماز جنازہ حیدر فاروق مودودی نے پڑھائی، جس کے بعد ان کا جسد خاکی ایمبولینس کے ذریعے روانہ کردیا گیا۔ انسانی حقوق کی کارکن عاصمہ جہانگیر کی تدفین کے انتظامات لاہور کے علاقے بیدیاں روڈ پر ان کے فارم ہاؤس میں کیے گئے تھے۔

عاصمہ جہانگیر کو 11 فروری کو اچانک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئی تھیں۔ عاصمہ جہانگیر نے سوگواران میں شوہر، دو بیٹیوں اور ایک بیٹے کو چھوڑا ہے۔
سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان نے انسانی حقوق کی کارکن اور معروف وکیل عاصمہ جہانگیر کی اچانک موت کو ’قومی نقصان‘ قرار دیا ہے۔ دونوں ایوانوں کی جانب سے عاصمہ جہانگیر کی انسانی حقوق کے لیے خدمات، قانون کی بالادستی اور آئین اور عدلیہ کی آزادی کے خدمات پر متفقہ طور پر قرار داد منظور کی گئی اور ان کی اچانک موت پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

عاصمہ جہانگیر 27 جنوری 1952 کو لاہور میں پیدا ہوئی تھیں۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی. انہوں نے  1980 میں لاہور کورٹ اور 1982 میں سپریم کورٹ کی وکیل کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور بعد ازاں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی پہلی خاتون صدر بھی منتخب ہوئیں۔ عاصمہ جہانگیر کو فوجی آمر ضیاالحق کی حکومت کے خلاف احتجاج اور بحالی جمہوریت تحریک کا حصہ بننے کے پاداش میں 1983 میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ انہیں 2007 میں ایک اور پرویز مشرف کے دور میں وکلا تحریک میں سرگرم ہونے پر  نظر بند رکھا گیا۔

انہوں نے مشترکہ طور پر ہیومن رائٹس کمیشن اور وومنز ایکشن فورم کی بنیاد رکھی تھی۔ پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے خدمات پر انہیں 2010 میں ہلالِ امتیاز اور ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا اور اقوام متحدہ کے ادارے یونسیکو کی جانب سے بھی ایوارڈ سے بھی نواز گیا۔ عاصمہ جہانگیر کو 2014 رائٹس لائیولی ہوڈ ایوارڈ اور 2010 فریڈم ایوارڈ بھی دیا گیا۔

یاد رہے کہ عاصمہ جہانگیر 9 فروری 2018 کو آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کے مقدمے میں عدالت عظمیٰ میں پیش ہوکر دلائل دیئے تھے۔
 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...