معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

لودھراں میں مسلم لیگ (ن) جیت گئی

  وقت اشاعت: 12 فروری 2018

لودھراں: پاکستان تحریک انصاف کے لیڈر جہانگیر ترین کی خالی ہوئی قومی اسمبلی کی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کے امید وار اقبال شال غیر سرکاری نتائج کے مطابق 25 ہزار سے زائد ووٹوں کی برتری سے کامیاب ہو گئے ہیں۔ ان کے مقابلے میں تحریک انصاف کی طرف سے جہانگیر کے بیٹے علی ترین مقابلہ کررہے تھے جو اس انتخاب مین دوسری پوزیشن پر رہے ہیں۔  قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 154 میں جہانگیر ترین کی نااہلی کے بعد انتخاب منعقد کروایا گیا تھا۔

لودھراں سے موصول ہونے والے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق تمام پولنگ اسٹیشنز کے نتائج آگئے ہیں اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اقبال شاہ نے ایک لاکھ 13ہزار452 ووٹ حاصل کیے جبکہ پی ٹی آئی کے علی ترین  85 ہزار 933 ووٹ حاصل کرسکے۔ اس طرح وہ مسلم لیگ (ن) کے امید وار سے  شکست کھا گئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے اُمیدوار مرزا علی بیگ سمیت 7 آزاد امیدوار بھی میدان میں موجود تھے۔  حلقہ 154 کی نشست پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کی نااہلی کے باعث خالی ہوئی تھی جس کے بعد پی ٹی ائی نے ضمنی انتخاب کے لیے ان کے بیٹے علی ترین کو میدان میں اتارا تھا۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ برس دسمبر میں جہانگیر ترین کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیا تھا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان (پی ای سی) کے مطابق حلقہ 154 کے ضمنی انتخابات میں رجسٹر ووٹوں کی تعداد 4 لاکھ 31 ہزار 2 ہے۔ حلقے میں کل 338 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے جس میں 49 مردانہ، 49 زنانہ اور 240 مشترکہ پولینگ اسٹیشنز تھے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق 6 پولنگ اسٹیشنز کو اے پلس کیٹیگری یعنی حساس ترین قرار دیا گیا جبکہ 41 کو اے کیٹیگری جبکہ باقی 291 کو بی کیٹیگری میں رکھا گیا۔

کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے پولیس کے ساتھ فوج کے اہلکار بھی تعینات کیے گئے تھے۔ واضح رہے کہ لودھراں حلقہ این اے 154 میں 4 برسوں میں تیسری مرتبہ ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں جبکہ تین بڑی سیاسی پارٹیوں کے تینوں رہنما پی ٹی آئی کے علی ترین، مسلم لیگ (ن) کے پیر اقبال شاہ اور پیپلز پارٹی کے مرزا علی بیگ پہلی مرتبہ ضمنی انتخاب میں حصہ لے رہے تھے۔

الیکشن کمیشن نے2013 میں ہونے والے عام انتخابات میں جہانگیر ترین کے حریف آزاد امید وار محمد صدیق خان بلوچ کو کامیاب قرار دیا تھا جس کے بعد جہانگیر ترین نے اپنے حریف کی جانب سے حلقہ این اے 154 میں مبینہ دھاندلی کیس کیا اور الیکشن ٹربیونل نے 26 اگست کو جہانگیر ترین کا موقف درست قرار دیتے ہوئے دوبارہ پولنگ کا حکم دیا۔ الیکشن کمیشن کے حکم پر 23 دسمبر 2015 کو منعقد ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کے جہانگیرترین نے 37 ہزار کی لیڈ سے نون لیگ کے صدیق بلوچ کو شکست دی۔ بعدازاں مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی درخواست پر سپریم کورٹ نے دسمبر 2017 میں جہانگیر ترین کو آرٹیکل 62 کے تحت نااہل قرار دیا۔

الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو مد نظر رکھتے ہوئے جہانگیرین کو این اے حلقہ 154 سے ڈی سیٹ کیا اور دوبارہ ضمنی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا۔ رواں ماہ عمران خان نے این اے 154 کے جلسے میں شرکت کی جس پر الیکشن کمیشن نے عمران خان کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نوٹس لیا اور جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین کو طلب کیا تھا۔

 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...