اسحاق ڈار کے کاغذات نامزدگی مسترد

  وقت اشاعت: 12 فروری 2018

لاہور: سابق وزیر خزانہ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اسحاق ڈار کی جانب سے سینیٹ الیکشن کے لیے جمع کروائے گئے کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے گئے ہیں۔ ان کی نامزدگی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اعتراضات کئے تھے۔ سینیٹ الیکشن کے ریٹرننگ افسر برائے پنجاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سابق وزیر خزانہ کی جانب سے بینک اکاؤنٹ کے حوالے سے جو اقرار نامہ جمع کروایا گیا  اس میں صرف ایک اکاؤنٹ کے بارے میں بتایا گیا تھا۔

اسحاق ڈار کی جانب سے سینیٹ انتخابات میں جنرل نسشت اور ٹیکنو کریٹ کی نشت پر علیحدہ علیحدہ کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے گئے تھے۔ سینیٹ انتخابات کی ضابطے کے مطابق امید وار کو ہر نشست کے لیے علیحدہ اکاؤنٹ کھلوانا لازمی ہے۔ تاہم ریٹرنگ افسر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ اسحاق ڈار نے صرف ایک نشست کے لیے بینک اکاؤنٹ کھلوایا جو سینیٹ انتخابات کے ضابطے کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سابق وزیر خزانہ کے وکلا کی جانب سے جو دلائل پیش کیے گئے ہیں ان میں کہا گیا تھا کہ اسحاق ڈار نے ایک بینک اکاؤنٹ کھلوایا ہے جس سے وہ دونوں نشستوں پر انتخابی مہم کے حوالے سے اخراجات کریں گے۔

اسحاق ڈار کے وکلا کی جانب سے بینک سرٹیفکیٹ بھی پیش کیا گیا تاہم ریٹرنگ افسر نے ان کے دلائل اور سرٹیفکیٹ کو مسترد کردیا اور پی ٹی آئی کے اعتراضات کو قبول کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ کے کاغذات نامزدگی کو مسترد کردیا۔ اسحاق ڈار کے وکیل نے میڈیا نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریٹرنگ افسر کے اس فیصلے کو چیلنج کریں گے۔ خیال رہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے اعتراض اٹھایا گیا تھا کہ اسحاق ڈار ملک سے باہر ہیں اور اپنے اقرار نامے پر خود دستخط نہیں کر سکتے۔ جبکہ اسلام آباد کی احتساب عدالت انہیں اشتہاری بھی قرار دے چکی ہے لہٰذا ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں۔

تاہم ریٹرنگ افسر نے اپنے فیصلے میں اشتہاری ہونے کو بنیاد نہیں بنایا صرف اقرار نامے کے معاملے پر اسحاق ڈار کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کردیے۔ واضح رہے کہ ایوان بالا میں سینیٹرز کی نشست 6 سال کی مدت پر محیط ہوتی ہے اور تقریباً ہر تیسرے سال 50 فیصد سینیٹرز ریٹائر ہوتے ہیں اور پھر خالی نشستوں پر نئے سینیٹرز کے لیے انتخابات کرائے جاتے ہیں۔ 104 سینیٹرز پر مشتمل ایوان بالا میں 52 سینیٹرز اپنی 6 سالہ مدت پوری کرکے 11 مارچ کو ریٹائرر ہو جائیں گے۔

الیکشن کمیشن سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ 8 فروری تھی۔ جبکہ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے لیے 12 فروری تک کا وقت مقرر کیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں 15 فروری تک دائر کی جا سکیں گی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ان اپیلوں پر فیصلہ 17 فروری تک کیا جائے گا اور امیدواروں کی حتمی فہرست 18 فروری کو شائع کی جائے گی۔  کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ 19 فروری مقرر کی گئی۔

حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے 27 میں سے 9 سینیٹ ارکان رواں برس ریٹائر ہوں گے جن میں خود ساختہ جلاوطنی کاٹنے والے سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار بھی شامل ہیں۔
 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...