عاصمہ جہانگیر انتقال کرگئیں

  وقت اشاعت: 11 فروری 2018

لاہور: انسانی حقوق کی علمبردار،  معروف سماجی کارکن اور پاکستان کی سینئر وکیل عاصمہ جہانگیر عارضہ قلب کا شکار ہو کر اتوار کے روز لاہور میں انتقال کرگئیں۔ ان کے اہل خانہ کے مطابق انہیں آج صبح دل کا دررہ پڑنے پر نجی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکیں اور خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔ عاصمہ جہانگیر کے بیٹے نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ ان کی والدہ کی نمازِ جناہ کے حوالے سے جلد آگاہ کیا جائے گا۔

اپنی بے باکی، اصولوں پر ڈت ضانے اور مظلوم طبقات کی حمایت کی وجہ سے عالمہ شہرت پانے والی عاصمہ جہانگیر 27 جنوری 1952 کو لاہور میں پیدا ہوئی تھیں۔  انہوں نے ساری زندگی پاکستان میں آمریت کے خاتمہ اور قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے کام کیا۔  پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار اور  اعلیٰ عدالتوں کے دیگع ججوں کے علاوہ ملک بھر کے سیاسی، سماجی لیڈروں ، قانونی ماہرین، دانشوروں اور سماجی کارکنوں نے عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر گہرے رنج و الم کا اظہار کیا ہے۔

عاصمہ جہانگیر 9 فروری 2018 کو آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کے مقدمے میں عدالت عظمیٰ میں پیش ہوکر دلائل دیئے تھے۔ وہ کل رات تک بالکل ٹھیک ٹھاک تھیں تاہم رات گئے انہیں دل کا دورہ پڑا جس کے بعد انہیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کا اتوار کو انتقال ہوگیا۔

صدرِ مملکت ممنون حسین نے قانون دان اور انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کی بالادستی اور جمہوریت کے استحکام کے لیے مرحومہ کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے بھی عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر اظہارِ افسوس کیا اور انہیں عدالتی نظام میں ان کی خدمات پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز نے عاصمہ جہانگیر کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کی اچانک وفات سے بہت صدمہ پہنچا۔

سابق صدر آصف زرداری نے اس موقع پر کہا کہ عاصمہ جہانگیر کا انتقال ناقابلِ تلافی نقصان ہے، وہ ایک فرد نہیں بلکہ انسانی حقوق کے لیے موثر آواز تھیں۔ سینئر اینکر پرسن مبشرزیدی نے کہا کہ ‘عاصمہ جہانگیر نے ہمیشہ آئین اور قانون کی سربلندی کی بات کی اور ڈٹ کر ہر دور میں آمریت اور غیر جمہوری قوتوں کا بے خوف ہو کر مقابلہ کیا اور بلوچستان کا مسئلہ ہو یا لاپتہ افراد کا معاملہ مرحومہ نے ہمیشہ حق کی بات کی۔ سنیئر وکیل خالد رنجھا نے عاصمہ جہانگیر کو اپنی ذات میں انجمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ غیر معمولی قائدانہ صلاحیتوں کی حامل تھیں اور انہوں نے خواتین اور اقلیت کے حقوق کے لیے ہر گھٹن زدہ ماحول میں حق کا ساتھ دیا۔ خالد رنجھا کا مزید کہنا تھا کہ بطور صدر سپریم کورٹ بار انہوں نے نہایت بے باکی اور ہمت کے ساتھ ہر معاملے پر اپنا موقف اختیار کیا جس میں معمولی سا جھکاؤ بھی نظر نہیں آتا تھا۔

سینئر تجزیہ کار پروفیسر رسول بخش رئیس نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کے دیگر بڑے کارناموں میں ایک بڑا کارنامہ جنرل یحییٰ خان کے دور حکومت میں اپنے والد کو جیل سے رہا کروانا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماہر قانون دان عاصمہ جہانگیر نے قید وبند کی اذیتیں بھی برداشت کیں اور جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں بھی جمہوریت اور مساوات کا جھنڈا بلند رکھا۔ عاصمہ جہانگیر کو ان کی بے لوث خدامات کے عوض 2010 میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کےچیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر کہا کہ ‘پاکستانی قوم ایک دلیر بیٹی اور ماں کے انتقال پر غمزدہ ہے’۔ انہوں نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کا نام تاریخ کے سنہرے الفاظ میں لکھا جائے گا. پی پی پی کے سینئر رہنما اور سندھ کے صوبائی نثارکھوڑو نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کی قانون اور انسانی حقوق سے متعلق خدمات قابل تعریف ہیں۔ 

عاصمہ جہانگیر کا نام ملکی سیاست کے افق پر بہت چھوٹی عمر میں ہی سامنے آ گیا تھا۔ دسمبر 1972 میں ان کے والد ملک غلام جیلانی کو اس وقت کے فوجی آمر یحییٰ خان کی حکومت نے مارشل لا قوانین کے تحت حراست میں لے لیا تھا۔ عاصمہ جہانگیر نے اپنے والد کی رہائی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی اور اگلے سال یحییٰ خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد اس مقدمے کا فیصلہ سنایا گیا جس میں فوجی حکومت کو غیر قانونی اور یحییٰ خان کو 'غاصب' قرار دیا گیا۔

1978 میں عاصمہ جہانگیر نے پنجاب یونیورسٹی سے اپنی وکالت کی تعلیم مکمل کی جس کے بعد ان کی شادی کاروباری شخصیت طاہر جہانگیر سے ہو گئی۔ 1980 میں انہوں نے اپنی بہن حنا جیلانی اور دیگر خواتین کے ساتھ مل کر پاکستان کا پہلا خواتین پر مبنی وکالت کا ادارہ بھی شروع کیا۔  ضیا الحق کے مارشل لا کے دور میں عاصمہ جہانگیر نے کئی مظاہروں میں حصہ لیا اور 1983 میں لاہور کے مال روڈ پر وومن ایکشن فورم کے ساتھ حدود قوانین کے خلاف کیے جانے والا مظاہرہ ملک کے تاریخی مظاہروں میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔

عاصمہ جہانگیر کو اپنی زندگی میں کئی دفعہ غداری اور توہین مذہب کے الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑا اور ان کے گھر پر بھی کئی بار حملے کیے گئے۔ فوج پر کی جانے والی کڑی تنقید بھی عاصمہ جہانگیر کی وجہ شہرت میں شامل ہے جس کی وجہ سے انہیں کئی دفعہ جیل بھی کیا گیا اور نظر بندی کی سزا بھی سنائی گئی۔ وہ پاکستان میں حقوقِ انسانی کی علمبردار اور سکیورٹی اداروں کی ناقد کے طور پر پہچانی جاتی ہیں۔  عاصمہ جہانگیر انسانی حقوق کمیشن کی سابق سربراہ بھی رہیں۔ اس کے علاوہ پاکستانی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر منتخب ہونے والی پہلی خاتون وکیل بھی تھیں۔ عاصمہ جہانگیر نے عدلیہ بحالی کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

ان کی کاوشوں کی بنا پر انہیں دنیا بھر میں انسانی حقوق کے اعزازات سے نوازا جاتا رہا جن میں یونیسکو پرائز، فرنچ لیجن آف آنر اور مارٹن اینیلز ایوارڈ شامل ہیں۔  اس کے علاوہ عاصمہ جہانگیر کو 1995 میں انسانی حقوق پر کام کرنے کی وجہ سے رامون میگ سے سے ایوارڈ بھی دیا گیا جسے ایشیا کا نوبیل پرائز تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے لیے بطور نمائندہ خصوصی ایران میں انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے حیثیت سے بھی کام کیا۔  

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...