معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

مریم کے نیچے کام نہیں کرسکتا: نثار

  وقت اشاعت: 10 فروری 2018

ٹیکسلا: مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان  نے پارٹی معاملات سے خود کو علیحدہ رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ججز کی ذات پر حملے کرنے سے مسئلہ گھمبیر ہوتا ہے۔ صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ کچھ ماہ سے صرف دیکھ رہا ہوں، بول کچھ نہیں رہا، تاہم الزامات کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں سپریم کورٹ سے نااہل قرار دیئے گئے سابق وزیراعظم نواز شریف عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے بحالی عدل کی تحریک چلانے کا اعلان کرتے رہے ہیں۔  چوہدری نثار نے کہا کہ گزشتہ 8 ماہ سے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس نہیں ہوا، اگر پارٹی کے اندر سیاست میں متحرک ہوا تو پارٹی کے لیے مشکلات کھڑی ہو جائیں گیں۔ سابق وزیرداخلہ نے سوال اٹھایا کہ شہباز شریف نے نوازشریف سے زیادہ مرتبہ ‘ایک بیانیہ’ اپنانے پر زور دیا لیکن مجھے بتایا جائے کہ وہ بیانیہ ہے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘میں نے کبھی پارٹی ڈسپلن کے خلاف کام نہیں کیا اور وزیراعظم کا انتخاب الیکشن کے بعد ہوگا’۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ منافقت کے قائل نہیں اس لیے واضح موقف اختیار کیا کہ ‘وہ بچوں کے نیچے سیاست نہیں کرسکتے جبکہ نواز شریف اور شہباز شریف کے ماتحت کام کرسکتے ہیں‘۔ سابق وزیرداخلہ نے دوٹوک جملے میں کہا کہ ‘وہ مریم نواز کے نیچے کام نہیں کرسکتے’۔ خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) میں یہ بات مستقل زیر بحث ہے کہ آئندہ انتخابات میں مریم نواز کو غیر معمولی ذمہ داریاں دیئے جانے کا امکان ہے۔ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ کہ ایک شخص کے بیان کے بعد نیوز لیکس کا معاملہ دوبارہ اٹھ کھڑا ہوا ہے اور اس ضمن میں نواز شریف کو بھی خط لکھ کر باوار کرایا کہ  معاملات پارٹی کے اندر ہی حل اور طے ہونے چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پارٹی کے تمام اہم امور سینٹرل ایگزیکٹو میں ہوتے ہیں تاہم نیوز لیکس کے معاملے پر دو چیزیں عوامی سطح پر وضاحت طلب ہو چکی ہیں کیوںکہ یہ مسئلہ محض مسلم لیگ (ن) کا نہیں رہا اور اس معاملے سے جوڑی تمام غلط فہمیوں کو دور کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا احتساب کا عمل پارٹی کے اندر سے شروع ہوناچا ہیے، ہر سیاسی رہنما خود کو صادق امین کہتا پھر رہا ہے جبکہ دوسرے پر شدید تنقید کرنے سے نہیں چوکتے۔ تاہم اس ضمن میں میڈیا کا کرداربھی مشکوک ہے اور حصوں میں تقسیم ہوچکا ہے ۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال 28جولائی کو سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس کے حوالے سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ پر سماعت کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو بطور وزیراعظم نااہل قرار دے دیا تھا۔ نااہلی کے فیصلے کے بعد نواز شریف وزارت عظمیٰ کے عہدے سے سبکدوش ہوگئے تھے۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...