معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

مجرموں کے حق میں مظاہرہ

  وقت اشاعت: 09 فروری 2018

مردان:  مختلف مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے مشال خان قتل کیس میں سزا پانے والے مجرموں کے حق میں مظاہرہ کیی ہے۔ مظاہرین نے  اس کیس میں  سزا یافتہ افراد کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے سزا کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی اور شدید نعرے بازی بھی کی گئی۔ مردان میں پاکستان چوک میں جمعہ کی نماز کے بعد شروع ہونے والی احتجاجی ریلی میں، تحفظ ختم نبوت، جماعت اسلامی، جمعیت علما اسلام (ف) کے کارکنوں  کے علاوہ مقامی افراد نے شرکت کی۔ یہ احتجاجی ریلی تحفظ ختم نبوت کے امیر قاری اکرام الحق کی سربراہی میں نکالی گئی تھی۔

ہری پور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 7 فروری کو عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کے قتل کیس کے فیصلے میں ایک مجرم کو سزائے موت، 5 مجرموں کو 25 سال قید اور 25 مجرموں کو 3 سال قید جبکہ 26 افراد کو بری کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس فیصلہ کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں نے حکومت اور مشال خان کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین کی جانب سے تھامے گئے بینرز میں ’مشالیوں روک سکو تو روک لو‘ جیسے نعرے درج تھے۔ انسداد دہشت گردی عدالت سے بری ہونے والے افراد کو جلسے کے دوران ’غازی استقبالیہ‘ بھی دیا گیا تھا۔

گزشتہ روز بھی مردان میں انسداد دہشت گردی عدالت سے رہائی پانے والے افراد کے استقبال کے لیے جلسہ منعقد کیا گیا تھا۔ مشال قتل کیس میں ملوث افراد کے وکیل اور جماعت اسلامی کے رہنما سید اختر ایڈووکیٹ نے احتجاجی ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'پوری امت مسلمہ سزا پانے والے افراد کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم حکومت کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ اگر وہ بری ہونے والے 26 افراد کے خلاف عدالت میں اپیل کی تو پھر ہم تمام سڑکیں بند کر دیں گے۔

یاد رہے کہ ہری پور کی انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کے بعد رہائی پانے والے 26 افراد کے استقبال اور احتساب عدالت کا 31 ملزمان کو سزا دینے کے خلاف مردان موٹروے انٹرچینج پر مذہبی جماعت کے کارکنان بڑی تعداد میں جمع ہوئے تھے اور ان افراد کا پھولوں سے استقبال کیا تھا۔ مردان انٹرچینج میں جمع افراد نے رہائی پانے والے افراد کو پھولوں کی پتیوں سے استقبال کیا تھا اور مقتول طالب علم مشال خان کے خلاف نعرے بازی کے علاوہ اور سپریم کورٹ سے انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔

اس موقع پر رہائی پانے والے افراد نے عوام کے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے پشتو زبان میں کہا تھا کہ توہین مذہب کرنے والے یا ختم نبوت کے خلاف بولنے والے کا انجام مشال خان جیسا ہی ہوگا۔ واضح رہے کہ مشال قتل کیس میں عدالتی احکامات پر تشکیل پانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے مطابق طالب علم نے توہین مذہب نہیں کی تھی بلکہ یونیورسٹی میں موجود ایک طلبہ تنظیم نے سازش کے تحت 23 سالہ طالب علم کو قتل کروایا تھا۔
 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...