معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

مالدیپ میں چیف جسٹس گرفتار

  وقت اشاعت: 06 فروری 2018

مالے: مالدیپ میں  سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاد کے چند  گھنٹوں بعد حراست میں لے لیا  گیا ہے۔ یہ بحران اس وقت شروع ہؤا جب ملک کے صدر عبداللہ یامین نے سیاسی قیدیوں کی رہائی سے متعلق عدالتی حکم نامہ ماننے سے انکار کیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس عبداللہ سعید اور ایک اور جج علی حمید کو تفتیش کے لیے منگل کی صبح حراست میں لیا گیا۔ ان پر عائد الزامات کے حوالے سے کسی قسم کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی ہے۔

پولیس نے عدالت کو گھیرے میں لیا تو وہاں بہت سے دیگر ججز بھی موجود تھے جنہیں ان کی مرضی کے بغیر اندر رہنا پڑا۔ خیال رہے کہ حکومت نے پہلے ہی پارلیمینٹ کو تحلیل کر دیا ہے اور 15 دن کے لیے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ پولیس نے ملک کے سابق صدر کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ ایمرجنسی کے دوران سکیورٹی حکام کو کسی بھی شخص کو کسی بھی وقت حراست میں لینے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔

 

ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے جمعہ کو زیر حراست نو ممبران پارلیمان کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔  ان کے اسمبلی میں واپس آنے کے بعد حزب اختلاف کو اسمبلی میں ایک بار پھر اکثریت حاصل ہو جاتی۔ صدر یامین نے عدالت کا یہ فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا تھا اور کئی سرکاری افسران کو نوکری سے برخاست کر دیا۔ مالدیپ میں حکومت نے سکیورٹی فورسز کو حکم دیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کی جانب سے صدر عبداللہ یامین کو گرفتار کرنے یا مواخذے کی کارروائی کے کسی حکم پر عمل  نہ کریں۔

سپریم کورٹ نے جمعہ کو فیصلہ سنایا تھا کہ جلاوطن سابق صدر محمد ناشید کا ٹرائل غیر آئینی ہے اور ساتھ ہی عدالت نے نو ارکان پارلیمان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔  ملک کے اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ صدر کو گرفتار کرنے کی کوئی بھی کارروائی غیر قانونی ہوگی۔ اٹارنی جنرل انیل نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس کی جس میں وزارتِ دفاع کے سربراہ جنرل شیام اور پولیس کمشنر عبداللہ نواز شریک تھے۔

اٹارنی جنرل کے مطابق انہیں لگتا ہے کہ سپریم کورٹ صدر کو معزول کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔  ’ہمیں معلومات ملی ہیں کہ یہ چیزیں رونما ہو سکتی ہیں جس کے نتیجے میں سلامتی کا قومی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کا صدر کو گرفتار کرنے کا حکم غیر آئینی اور غیر قانونی ہو سکتا ہے۔ تو میں نے پولیس اور فوج نے سے کہا ہے کہ کسی بھی غیر آئینی حکم نامے پر عمل  نہ کیا جائے۔‘

ٹی وی پر براہ راست دکھائی جانے والی تقریب میں فوج اور پولیس کے اعلیٰ اہلکاروں کو حکومت کے دفاع میں اپنی جانیں دینے کا حلف اٹھاتے ہوئے دیکھایا گیا ہے۔ اس تقریب کے بعد حزب اختلاف کے سینکڑوں کارکن دارالحکومت مالے میں احتجاج کے لیے جمع ہو گئے ہیں اور حراست میں لیے گئے سیاسی قیدیوں کی رہائی اور ملک کے آئین کا احترام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مالدیپ کی حزب اختلاف کی جماعت مالدیپیئن ڈیموکریمک پارٹی کے ایک ترجمان حامد عبد الغفور کا کہنا ہے کہ پولیس رشوت لینے کے الزام میں دو اعلیٰ ججوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی تھی جس میں چیف جسٹس بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا ہے کہ حکومت عدلیہ کے اختیارات غصب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

سابق صدر محمد ناشید اس وقت سری لنکا میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے عدلیہ کے احکامات کو ماننے سے انکار بغاوت کے مترادف ہے۔  انہوں نے صدر یامین اور حکومت سے فوری مستفعی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز پر زور دیا کہ وہ آئین کی پاسداری کریں۔

مالدیپ میں 2015 سے سیاسی بحران جاری ہے جب ملک کے پہلے جمہوری صدر محمد ناشید کو ایک جج کو گرفتار کرنے کا حکم دینے پر  انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت سزا سنائی گئی تھی۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...