معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

طارق رمضان پر ریپ کے الزام میں فرد جرم عائد

  وقت اشاعت: 04 فروری 2018

پیرس: فرانس میں معروف اسلامی سکالر طارق رمضان پر جنسی ذیادتی کے الزام میں  فردِ جرم عائد کرنے کے بعد انہیں ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ دو عورتوں نے الزام لگایا تھا کہ طارق رمضان نے انہیں فرانس کے ہوٹلوں میں جنسی حملے کا نشانہ بنایا تھا۔ رمضان کو بدھ کو حراست میں لیا گیا تھا جس کے بعد ان پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔ وہ ان الزامات  سے انکار کرتے ہیں۔

طارق رمضان سوئٹزرلینڈ کے شہری ہیں اور ان کے دادا حسن البنا نے مصر میں اخوان المسلین تحریک کی بنیاد ڈالی تھی۔ رمضان برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں اسلامیات کے پروفیسر ہیں۔ یونیورسٹی کے اعلان کے مطابق وہ اس وقت رخصت پر ہیں۔

55 سالہ طارق کو تین میجسٹریٹوں کے سامنے پیش کیا گیا، جس کے بعد انہیں جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ چار دن کے اندر اندر ان کی ضمانت کی درخواست کی سماعت ہوگی۔ ان پر الزام لگانے والی ایک خاتون ہیندا عیاری کی وکیل جوناس حداد نے کہا: 'اگر فرانس یا کسی اور ملک میں کوئی متاثرہ خاتون موجود ہے تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ نظامِ انصاف ان کا ساتھ دے گا۔'

ذرائع کے مطابق جن عورتوں نے اپنا نام خفیہ رکھ کر ان کے خلاف شکایات درج کروائی تھیں اب وہ باقاعدہ ریپ کا مقدمہ درج کروائیں گی۔ اسلامی دانشور طارق رمضان کے خلاف ان الزامات نے اسلامی دنیا کو منقسم کر دیا ہے، اور بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تاہم ناقدین کہتے ہیں کہ مغرب میں ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں معتدل لب و لہجے میں گفتگو کرنے والے طارق رمضان جب عربی میں مسلمانوں سے خطاب کرتے ہیں تو ان کا انداز زیادہ سخت ہو جاتا ہے۔

حال ہی میں می ٹو کے نام سے شروع ہونے والی مہم کے بعد سے طارق رمضان وہ ممتاز ترین شخصیت بن گئے ہیں جن کے خلاف جنسی زیادتی کا مقدمہ شروع کیا گیا ہے۔ رمضان شادی شدہ ہیں اور چار بچوں کے باپ ہیں۔ وہ مسلسل ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ ان کے خلاد سب سے پہلے  الزام ایک خاتوں عیاری نے لگایا تھا۔ وہ پہلے قدامت پسند اسلام کی پیروکار تھیں تاہم اب حقوقِ نسواں کی علم بردار ہیں۔ انہوں نے 2016 میں پہلی بار ریپ کا الزام لگایا تھا تاہم اس وقت مرد کا نام نہیں لیا تھا۔ گزشتہ برس اکتوبر میں می ٹو مہم کے بعد انہوں نے طارق رمضان کا نام لینے کا فیصلہ کیا۔

 

گذشتہ تین ماہ میں پولیس نے سرگرمی سے تفتیش کرتے ہوئے رمضان اور ان خواتین سے وابستہ درجنوں لوگوں سے پوچھ گچھ کی ہے اور تینوں کے ای میل اکاؤنٹس اور سوشل میڈیا کا جائزہ لیا ہے۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...