معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

قصور میں آٹھ سالہ بچی کا اغوا اور قتل، عوام کا احتجاج، لاہور ہائی کورٹ اور وزیر اعلیٰ کا نوٹس

  وقت اشاعت: 10 جنوری 2018

قصور: صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں قتل کی جانے والی 8 سالہ بچی زینب کی نماز جنازہ ادا کردی گئی ہے۔ نماز جنازہ پاکستان عوامی تحریک ( پی اے ٹی ) کے سربراہ علامہ طاہرالقادری نے پڑھائی جبکہ اس موقع پر شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اس دوران قصور میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات اور حکومت کی بے حسی کے خلاف احتجاج اور توڑ پھوڑ کا سلسلہ جاری ہے۔  اس شہر میں گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران بطوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں۔

قصور میں 8 سالہ بچی کو اغوا کرنے کے بعد قتل کردیا گیا تھا جبکہ اس واقعہ کے بعد علاقہ مکینوں نے سخت احتجاج کیا اور ڈی پی او آفس پر دھاوا بول دیا۔ اس موقع پر مشتعل مظاہرین کی پولیس سے جھڑپ بھی ہوئی اور وہ ڈی پی او آفس میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ گزشتہ روز قصور میں شہباز خان روڈ پر کچرے کے ڈھیر سے 8 سالہ بچی کی لاش ملی تھی، جسے مبیہ طور ریپ کے بعد قتل کیا گیا تھا۔ بچی کی لاش ملنے کے بعد اسے پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد لاش کو ورثاء کے حوالے کردیا گیا تھا۔  رپورٹ میں بچی کے ساتھ مبینہ ریپ کی تصدیق کی گئی ہے۔

اس سانحہ کے بعد قصور کی فضا سوگوار ہے۔ ورثاء، تاجروں اور وکلاء کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا۔ تاجروں نے مکمل طور پر شٹر ڈاؤن کرکے فیروز پور روڈ کو بلاک کردیا جبکہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن (ڈی بی اے) کی جانب سے بدھ کو عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا تھا۔  6 روز قبل جمعرات کو 8 سالہ زینب اپنے گھر کے قریب روڈ کوٹ کے علاقے میں ٹیوشن پڑھنے گئی تھی، جہاں اسے اغوا کرلیا گیا تھا۔  اس کے بعد گزشتہ روز پولیس کو زینب کی لاش شہباز خان روڈ پر کچرے کے ڈھیر سے ملی تھی۔  پولیس کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ لگتا ہے کہ بچی کو 4 یا 5 دن پہلے قتل کیا گیا۔

اس واقعہ کے حوالے سے ایک سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آئی تھی، جس میں ایک شخص کو بچی کا ہاتھ پکڑ کر لے جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ تاہم پولیس ابھی تک کسہ ملزم کو گرفتار نہیں کرسکی۔   قصور میں بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ ایک سال میں اس طرح کے 11 واقعات رونما ہوچکے ہیں جن میں زیادتی کا نشانہ بنائی گئی بچیوں کو اغوا کرنے کے بعد ریپ کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا تھا۔  ان تمام بچیوں کی عمریں 5 سے 8 سال کے درمیان تھیں لیکن پولیس ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے قصور میں 8 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی اور قتل کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیا۔ انہوں نے اس حوالے سے انسپکٹر جنرل ( آئی جی) پنجاب پولیس سے واقعہ کی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے مقتول بچی کے لواحقین سے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ خاندان کو ہر قیمت پر انصاف فراہم کیا جائے اور وہ اس کیس پر پیش رفت کی ذاتی طور پر نگرانی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ معصوم بچی کے قتل کے ملزم قانون کے مطابق قرار واقعی سزا سے بچ نہیں پائیں گے۔ صوبائی  وزیر قانون  رانا ثناء اللہ نے کہا کہ یہ واقعہ افسوس ناک ہے اور اس پر لوگوں کا مشتعل ہونا فطری عمل ہے لیکن عوام سے گزارش ہے کہ وہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ  ملزم جلد گرفتار کر لئے جائیں گے۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس منصور علی شاہ نے قصور میں 8 سالہ زینب کے قتل کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ چیف جسٹس کی جانب سے حکم دیا گیا ہے کہ سیشن جج قصور اور ضلع کے پولیس افسران اس واقعہ کی رپورٹ فوری طور لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرائیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے بھی اس  سانحہ کا نوٹس لیا ہے۔ 
ریجنل پولیس افسر (آر پی او) ذوالفقار نے  بتایا کہ بچی کی موت گلا دبانے سے ہوئی ہے۔  میڈیا بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ بچی کے اہل خانہ اور علاقہ مکینوں نے کیس میں کافی مدد فراہم کی ہے اور ان کی مدد سے سی سی فوٹیجز بھی حاصل کی گئیں ہیں۔  انہوں نے کہا کہ بچی سے زیادتی اور قتل کے واقعہ پر ہر شخص سوگوار ہے۔

ملک کے سیسات دانوں اور مختلف شعبہ سے تعلق رکھنے والی متعدد شخصیات نے اس سانحہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...