معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

ایران میں مظاہرے، 13 افراد ہلاک

  وقت اشاعت: 02 جنوری 2018

تہران: ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین روز میں جاری پُر تشدد مظاہروں کے دوران دارالحکومت تہران سے اب تک 450 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ مظاہروں میں اب تک تیرہ افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ جبکہ ایران کے مذہبی رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران کئ بیرونی دشمن اس احتجاج کو ہوا دینے کے لئے رقوم اور امداد فراہم کررہے ہیں۔

اس دوران  ایک اعلی سراکاری اہلکار نے بتایا ہے  کہ تہران میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں صوتحال انتہائی اطمینان بخش ہے، جس میں گزشتہ روز مزید بہتری آئی ہے۔ تہران کے ڈپٹی گورنر کا  کہنا تھا کہ اب تک پاسدارانِ انقلاب کو دارالحکومت میں مداخلت کرنے کی درخواست نہیں کی گئی۔ ادھر پاسدارانِ انقلاب کے ایک مقامی ڈپٹی کمانڈر اسمٰعیل کووساری نے سرکاری ٹیلی ویژن سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ’ہم تہران میں عدم استحکام کو جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے، اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اعلیٰ حکام اس معاملے کو ختم کرنے کا فیصلہ کریں گے۔‘

ایرانی صدر حسن روحانی نے کی جانب سے گزشتہ روز ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ ایران کا سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری ہے اور ایرانی معیشت میں آپریشن کی ضرورت ہے جس کے لیے پورے ملک کو مل کر کھڑے ہونا ہوگا۔ ایرانی صدر نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایرانی حکومتی حلقے ملک میں لوگوں کو تنقید کرنے کے لیے ماحول فراہم کرتے ہیں تاہم مظاہرین کو خبردار کیا تھا کہ پُر تشدد کارروائیاں قابلِ قبول نہیں ہیں۔

گزشتہ روز  ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا تھا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں جاری پُرتشدد مظاہرے دارالحکومت تہران تک پہنچ چکے ہیں جبکہ پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 13 ہوگئی۔

اس دوران ایک اسرائیلی وزیر نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ ایران میں بڑے پیمانے مظاہروں میں لوگ حکومت کے خلاف اپنی جد و جہد میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اسرائیل کے ایک وزیر یزرائیل کاٹز نے مقامی ریڈیو انٹرویو کو دیتے ہوئے کہا ’اسرائیل اس معاملے میں اپنے آپ کو ملوث نہیں کر رہا تاہم میری خواہش ہے ایران کے عوام اپنی آزادی اور جمہوریت کے لیے اس جدوجہد میں کامیاب ہوجائیں۔

ایران کے شہر مشہد میں اقتصادری مسائل اور حکومت کے شاہانہ طرز زندگی کے خلاف جمعرات  کو مظاہروں کا آغاز ہوا اور جب مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی گئی تو وہ جلد ہی حکومت مخالف مظاہروں میں تبدیل ہوگئے۔  بعدِ ازاں ان میں شدت آگئی تھی اور ایرانی صدر حسن روحانی نے ایران میں غیر قانونی اجتماعات پر پابندی عائد کردی تھی۔ جمعہ کو مظاہرین نے 1979 کے ایرانی انقلاب کے نتیجے میں گرائی گئی شاہی حکومت کے حق میں بھی نعرے بازی کی تھی۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والی ایک ویڈیو کے مطابق ایرانی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں دورود کے علاقے میں 2 مظاہرین زخمی ہوگئے تھے بعدِ ازاں یہ اطلاعات آئیں کہ زخمی مظاہرین ہلاک ہوگئے تھے۔  اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے کئی شہروں میں پُر امن ریلی نکالی اور ’آمر کی موت‘ کے نعرے بھی لگائے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق مسلح مظاہرین نے ایزا شہر میں فوجی بیس اور پولیس اسٹیشن پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جہاں انہیں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔  اور مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی۔ یکم جنوری کو ایرانی سرکاری ٹی وی کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ایران میں پُر تشدد مظاہروں میں پولیس اہلکار سمیت مزید 9 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ لیکن غیر جانبدار ذرائع کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد تعداد 13 ہوچکی ہے۔

بی بی سی کی اطلاع کے مطابق حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ چھٹے روز بھی جاری رہا جس کے دوران سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی چھڑپوں میں مزید نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ 'ملک کے دشمن' اس احتجاج کو ہوا دے رہے ہیں۔ جمعرات کو مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں شروع ہونے کے بعد یہ ان کا پہلا بیان ہے۔ اس بیان میں خامنہ ای نے کہا کہ  'حالیہ دنوں میں ایران کے دشمنوں نے رقم، ہتھیار، سیاست اور خفیہ اداروں سمیت مختلف ہتھکنڈوں کو ایران میں حالات خراب کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔' آیت اللہ خامنہ ای کا یہ بیان ان کی اپنی ویب سائٹ پر شائع ہوا ہے۔  انہوں نے کہا کہ وہ حالیہ واقعات کے بارے میں صحیح وقت آنے پر قوم سے خطاب کریں گے۔

مرکزی اصفہان کے علاقے میں پیر کی شب ہونے والے پرتشدد واقعات میں تازہ ہلاکتوں کے بعد ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر کم از کم 22 ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق چھ مظاہرین بظاہر پولیس سٹیشن سے اسلحہ قبضے میں لینے کی کوشش میں ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے۔  اس کے علاوہ دیگر علاقوں میں اطلاعات کے مطابق پاسدارنِ انقلاب کے محافظوں کے ساتھ جھڑپوں کے دوران ایک 11 سالہ بچہ اور ایک شخص ہلاک ہوا۔

ایران میں جاری مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کو سنہ 2009 کے بعد پہلی مرتبہ شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ ان مظاہروں کا آغاز جمعرات کو ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد سے ہوا تھا۔ ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ ’احتجاج ایک موقع ہے نہ کہ خطرہ‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایرانی قوم 'قانون توڑنے والی اقلیت' سے نمٹ لے گی۔

اس سے قبل گزشتہ رات مظاہرین نے ایک پولیس سٹیشن پر بھی حملہ کیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین پولیس سٹشین پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عمارت کے ایک حصے کو آگ بھی لگائی گئی۔  ایران میں عوام کے گرتے ہوئے معیارِ زندگی اور کرپشن کے خلاف ہونے والا یہ احتجاج سنہ 2009 میں اصلاحات کے حق میں ہونے والی ریلی کے بعد سب سے بڑا عوامی احتجاج ہے۔ ان مظاہروں کے آغاز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کی تھی کہ ایرانی عوام میں بالآخر عقل آ رہی ہے کہ کیسے ان کی دولت کو لوٹا جا رہا ہے اور دہشت گردی پر خرچ کی جا رہی ہے۔ 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...