معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

مقبوضہ بیت المقدس کو فلسطینی دارالحکومت تسلیم کرنے کا مطالبہ

  وقت اشاعت: 13 2017

استنبول: امریکہ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کے اعلان کی اسلامی تعاون تنظیم نے شدید مذمت کی ہے۔

ترکی کے شہر استنبول میں اسلامی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس ہوا۔ اجلاس میں پاکستان سمیت اسلامی ممالک کے سربراہان مملکت نے شرکت کی۔ یہ ہنگامی اجلاس ترکی کے صدررجب طیب اردوان نے تنظیم کے چیئرمین کی حیثیت سے طلب کیا ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ اسرائیل قابض اور دہشت گرد ریاست ہے، صہیونی فوج فلسطینیوں کے بچوں کو بھی شہید کررہی ہے، ہم مسلمانوں کے خلاف مزید مظالم برداشت نہیں کر سکتے، اسرائیل دوسرے علاقوں پر قبضہ کرکے اپنا رقبہ تیزی سے بڑھا رہا ہے اور فلسطین کے رقبے میں نمایاں کمی آرہی ہے، مقبوضہ بیت المقدس پر امریکی فیصلہ اخلاقی اقدار کے منافی ہے اور یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ فلسطین امن عمل میں امریکا کا کردار ختم ہوگیا۔

ترک وزیر خارجہ مولود چاوش اولو نے او آئی سی کے وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری مشرقی یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جائے اور اس کے لیے سب کو مل کر کوشش کرنا ہو گی۔

چاؤش اولو نے کہا کہ تمام مسلم ممالک ایک آواز ہوکر دنیا کے دوسرے ممالک کو قائل کریں کہ وہ 1967 کی فلسطینی سرحدوں کے مطابق فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں اور مشرقی یروشلم کو اس ریاست کا دارالحکومت تسلیم کریں۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے کہا کہ امریکہ کا بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، فلسطین کے حل کے بغیر مشرق وسطی میں امن نہیں آسکتا، ہم بیت المقدس کا دفاع کرنا جانتے ہیں، امریکی صدر کا فیصلہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے جس سے انتہا پسندوں کو فائدہ پہنچے گا، ہم آزاد فلسطینی ریاست کے مطالبے سے کبھی دستبردار نہیں ہونگے۔

اسلامی سربراہی کانفرنس کے ہنگامی سربراہی اجلاس میں امریکہ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کواسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کیا جارہا ہے۔ اس موقع پر رکن ممالک کے سربراہان القدس کے حساس معاملے پر مشترکہ موقف اپنانے اور امریکی انتظامیہ کو اپنے فیصلے پرنظر ثانی پرمجبور کرنے کی حکمت عملی بھی طے کریں گے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں اس کام کا وعدہ کیا تھا۔

یاد رہے کہ ارض فلسطین پر قبضہ کرکے 1948 میں اسرائیل کا ناجائز قیام عمل میں آیا تھا جس میں مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) شامل نہیں تھا۔ تاہم اسرائیل نے 1967 میں عرب اسرائیلی جنگ کے دوران مشرقی یروشلم سمیت باقی فلسطین پر بھی قبضہ کر لیا تھا اور بعد ازاں اسے اپنا حصہ قرار دے دیا تھا۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری اسرائیلی قبضے کو ناجائز تسلیم کرتے ہوئے اس سے 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر واپس جانے کا مطالبہ کرتی ہے۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...