امریکہ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلیا، مسلم دنیا کا شدید ردعمل

  وقت اشاعت: 07 2017

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ عالمی برادری خصوصاً مسلم دنیا نے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کررہے ہیں اور امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے القدس منتقل کرنے کے لئے عملی اقدامات کو حتمی شکل دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ 20 سال سے کسی امریکی صدر نے مقبوضہ بیت المقدس کے معاملے پر پیش رفت نہیں کی تاہم اتنے طویل عرصے کے بعد ہم دیرینہ امن کے قریب ہیں، مقبوضہ بیت المقدس کامیاب جمہوریتوں کا دل ہے اور یہاں اسرائیلی پارلیمنٹ بھی موجود ہے۔ ادھر ترک صدر طیب اردگان نے امریکی صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے کا اقدام مسلمانوں کے لیے سرخ لکیر کی مانند ہے۔ سعودی عرب نے فیصلہ امن کے برخلاف قرار دیا۔ پاکستان نے بھی اقدام کی مذمت کی ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کا اقدام امن کے لیے ناگزیر تھا اس اقدام کے باوجود اسرائیل اور فلسطین کی خود مختار حیثیت قائم رہے گی جب کہ مقبوضہ بیت المقدس میں تمام مذاہب کے ماننے والے پرسکون زندگی گزار سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معلوم ہے اس فیصلے کی مخالفت کی جائے گی تاہم امریکا دو ریاستی نظریے کی مشروط حمایت کرتا ہے ہمیں نفرت کی نہیں بلکہ بردباری کی ضرورت ہے اور اپنی نسلوں کو تنازعات کے بجائے امن دے کر جانا چاہتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ہدایت کی ہے کہ امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے القدس منتقل کرنے کی تیاری کی جائے جب کہ انہوں نے خطے کے لیڈروں سے امن کی تلاش کے لیے ملکر کام کرنے کی بھی اپیل کی، ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے حکم نامے پر دستخط بھی کردیے ہیں۔

دوسری جانب ترک صدر طیب اردگان نے امریکی صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے کا اقدام مسلمانوں کے لیے سرخ لکیر کی مانند ہے، ٹرمپ اس لائن کو عبور کرنے کی کوشش نہ کریں،  یہ اقدام نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانیت کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ثابت ہوگا، کیا امریکہ نے تمام کام کرلیے ہیں جو اس کے کرنے کے لیے صرف یہی ایک کام رہ گیا ہے۔

ادھر سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے بھی امریکی صدر کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ دنیا بھر کے مسلمان مقبوضہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کے تقدس کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں اور ان مقامات سے مسلمانوں کی وابستگی بہت گہری ہے۔ اس نازک معاملے پر کسی بھی متنازع امریکی فیصلے سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچے گی، امریکہ کا یہ فیصلہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن کے عمل کو ناصرف متاثر کرے گا بلکہ خطے میں تناؤ اور کشیدگی میں اضافے کا بھی باعث ہوگا۔

پاکستان نے بھی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اقدام عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، امریکی اقدام مشرق وسطیٰ کے امن عمل کی تباہی کا باعث ہوگا جب کہ پاکستان بیت المقدس کواسرائیل کا دارالخلافہ ماننے کی سخت مخالفت کرتے ہیں، امریکی فیصلے کی مخالفت میں پاکستان عالمی برادری کےساتھ ہے۔

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے صورتحال کوسنجیدگی سے لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل اقوام کے چارٹرکے مطابق نوٹس لے اور خطے میں صورتحال بگڑنے سے پہلے امریکا فیصلے پر نظرثانی کرے جب کہ اگلے ہفتے ترکی کی جانب سے اسلامک سمٹ بلانے کا خیرمقدم کرتے ہیں، اسلامک کانفرنس میں اس مسئلے پرسنجیدہ بحث ہوگی۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے تاریخی فیصلے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جب کہ اسرائیل اور اسرائیلی عوام ہمیشہ آپ کے شکر گزار رہیں گے۔

فلسطینی صدرمحمودعباس نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سفارتخانےکی منتقلی کا فیصلہ بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے، امریکی فیصلہ تشدد پسندعناصرکی حوصلہ افزائی کا باعث بنے گا اور مسئلہ فلسطین کومذہبی جنگ بنانے والوں کوتقویت ملے گی جب کہ دارالحکومت منتقل کرنے کے فیصلے کے بعد امریکہ امن فریق نہیں رہا، امریکی فیصلہ 2 ریاستی حل کی پُرامن کوششوں پر پانی پھیردے گا۔

فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے فیصلے سے دو ریاستی حل تباہ ہو گیا ہے۔

فلسطینی تنظیم حماس نے کہا کہ ٹرمپ کے فیصلے نے جہنم کے دروازے کھول دیے ہیں جب کہ ٹرمپ نے امریکہ کو مستقبل میں کسی بھی امن عمل کے لیے نااہل کر دیا ہے۔

برطانیہ نے بھی مقبوضہ بیت المقدس پر فیصلہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کی حمایت نہیں کرتے جب کہ برطانیہ مقبوضہ بیت المقدس پر فیصلہ سے اتفاق نہیں کرتا۔

میکسیکو نے اپنا سفارت خانہ بیت المقدس میں منتقل کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا سفارتخانہ تل ابیب میں ہی رہے گا۔

ترکی نے بھی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے امریکی صدر کے اعلان کو غیر ذمہ دارانہ بیان قرار دیا جب کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی  دارالحکومت ماننے کے خلاف ترکی میں مظاہرے بھی شروع ہوگئے ہیں، امریکی قونصل خانے کے باہر سینکڑوں افراد جمع ہوکر امریکہ مخالف نعرے بازی کررہے ہیں۔

لبنان کے صدر نے بھی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کا مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق فیصلہ خطرناک ہے اور اس سے امریکہ کے امن عمل میں ثالثی کردار کو نقصان پہنچے گا جب کہ اس فیصلے نے امن کے عمل کو صدیوں پیچھے دھکیل دیا ہے۔

مصری صدر نے ٹرمپ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے مقبوضہ بیت المقدس پر امریکی فیصلے کی مذمت کی ہے جب کہ فرانس نے کہا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس پرامریکی فیصلے کے ساتھ نہیں ہیں۔

جرمن جانسلر انجیلا مرکل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس پر امریکی فیصلے کے ساتھ نہیں۔

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...