سرمائی اولمپکس2018: روس کی شرکت پر پابندی عائد

  وقت اشاعت: 06 2017

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے ڈوپنگ کی وجہ سے روس پر آئندہ برس جنوبی کوریا کے شہر پیونگچین میں منعقد ہونے والے سرمائی اولمپکس میں شرکت کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

تاہم روس کے وہ ایتھلیٹس جو یہ ثابت کر سکیں گے کہ وہ ڈوپنگ میں ملوث نہیں انھیں نیوٹرل پرچم کے تحت جنوبی کوریا میں ہونے والے مقابلوں میں شرکت کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

روس نے 2014 میں سوچی کے سرمائی اولمپکس کی میزبانی کی تھی اور اس دوران سرکاری سرپرستی میں ڈوپنگ کی شکایات موصول ہونے کے بعد یہ تحقیقات شروع کی گئیں۔

آئی او سی کے چیئرمین تھامس اور ان کے بورڈ نے 17 ماہ کی تحقیقاتی رپورٹوں اور تجاویز کو پڑھنے کے بعد منگل کو اس فیصلے کا اعلان کیا۔

واضح رہے کہ سوئٹزرلینڈ‌ کے سابق صدر سمیول شمڈ کی قیادت میں 17 ماہ تک ان شکایات کی تحقیقات کی گئیں۔

روس کی اولمپک کمیٹی کو معطل کر دیا گیا ہے لیکن آئی او سی نے کہا ہے کہ روسی کھلاڑیوں کو فروری میں ہونے والے کھیلوں میں حصہ لینے کے لیے (روس کے اولمپک ایتھلیٹ) کے نام سے دعوت دی جائے گی۔

روس کے مسلسل انکار کے باوجود سمیول شمڈ کی رپورٹ کو روس کے اینٹی ڈوپنگ قوانین اور سسٹم میں 'ہیرا پھیری' کا ثبوت ملا۔

تھامس نے کہا ' یہ اولمپک گیمز اور کھیلوں میں ایمانداری پر ایسا حملہ ہے جس کی مثال نہیں ملتی ہے۔ اس واقعے کے بعد اینٹی ڈوپنگ میکانزم کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔'

یہ سارا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ڈاکٹر گرگوری روڈچنکاف نے اس بارے میں سوال اٹھایا۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر گریگوری روڈچنکاف 2014 میں سوچی کے سرمائی اولمپکس کے دوران روس کی اینٹی ڈوپنگ لیبارٹری کے ڈائریکٹر تھے۔ انھوں نے روس پر اپنے کھلاڑیوں کے لیے ڈوپنگ کا ایک منظم پروگرام چلانے کا الزام عائد کیا اور دعوی کیا کہ روس نے ایک دوا بنائی جس سے کھلاڑی کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔

عالمی انسداد ڈوپنگ ایجنسی نے یہ الزامات سامنے آنے کے بعد کینیڈا سے تعلق رکھنے والے سپورٹس وکیل ڈاکٹر رچرڈ مکلیرن کی خدمات حاصل کیں جنھوں نے اس بارے میں تحقیقات کیں۔

جنوبی کوریا میں آئندہ برس نو فروری سے سرمائی اولمپکس شروع ہوں گے۔

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...