ڈی این اے سے مصنوعی زندگی کی تخلیق میں کامیابی

  وقت اشاعت: 02 2017

مصنوعی زندگی کی تخلیق پر تحقیق میں اہم پیشرفت، سائنسدانوں نے ایک ایسا خوردبینی جاندار تخلیق کیا ہے جس میں قدرتی اور مصنوعی ڈی این اے شامل ہے اور یہ جاندار مکمل طور پر نئے مصنوعی پروٹین تیار کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈی این اے کی تحقیق کے شعبے میں ہونے والے اس بریک تھرو کے متعلق ریسرچ پیپر ’’نیچر‘‘ میگزین میں شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ریاست کیلیفورنیا کے دی اسکرپس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں نے پروٹین ڈیزائن کرنے کے شعبے میں تاریخی پیش قدمی کی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق محفوظ ہے اور یہ نیم مصنوعی جاندار ، جرثومے لیبارٹری کے ماحول سے باہر زندہ نہیں رہ پائیں گے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ماہرین نے ڈی این اے کے ابجد میں بھی اضافہ کیا ہے۔

اسکرپس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدان فلوئیڈ رومز برگ نے اپنی گزشتہ تحقیق میں بتایا تھا کہ قدرتی ڈی این اے کے الفابیٹ میں اضافہ ممکن ہے، اس کے موجودہ الفابیٹ میں چار حروف ایڈینین (اے)، سیسٹوسین (سی)، گوانین (جی) اور تھائمین (ٹی)ہیں ۔

2014ء میں رومزبرگ کی ٹیم ای کولائی بیکٹیریا کے دو حصے بنا چکے ہیں اور اس مقصد کیلئے انہوں نے ڈی این اے کے دو غیر معمولی حروف ایکس اور وائی استعمال کیے تھے۔ تاہم نئی ریسرچ میں ان کی ٹیم یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے کہ قدرتی ای کولائی بیکٹیریا نئے پروٹین بنانے کیلئے ہائبرڈ جینیاتی الفابیٹ سے ہدایات وصول کرنے صلاحیت رکھتا ہے۔

فلوئیڈ رومزبرگ کا کہنا ہے کہ اگرچہ ماہرین اسے نئی زندگی کی تخلیق قرار دے رہے ہیں لیکن میں اسے ایسا نہیں کہوں گا بلکہ یہ نئی زندگی بنانے کی جانب اتنی زیادہ پیشقدمی ہے جتنی آج تک کسی نے نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ خلیوں نے از خود ایک پروٹین میں قید ہدایت کو سمجھا ہے اور یہ ہدایات ڈی این اے کے عمومی حروف اے، سی، جی اور ٹی کے علاوہ ہیں۔

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...