بھارت پاکستان میں دہشتگردی کا مرتکب، مسئلہ کشمیر پر جوہری جنگ کا خطرہ ہے: جنرل زبیر محمود

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

اسلام آباد: جنرل زبیرمحمود حیات نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر بدستور جوہری جنگ کے خطرات کا پیش خیمہ ہے، بھارت کی جانب سے پاکستان کیخلاف ذیلی روایتی جنگ جاری ہے، جو کسی وقت بھی بڑی جنگ میں بدل سکتی ہے۔ بھارت طالبان ، بلوچ علیحدگی پسندوں اور را کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کرا رہا ہے، وہ آگ اور جنوبی ایشیا کے امن سے کھیل رہا ہے، خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتا لیکن بھارت ایسا کر رہا ہے۔

اسلام آباد میں بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے کہا کہ عالمی سطح پر طاقت کا حصول جنوبی ایشیامیں عدم استحکام کا باعث ہے، جنوبی ایشیا میں علاقائی جہتیں اور خدشات کو دیکھنا ہوگا، جنوبی ایشیا کے جغرافیائی، معاشی، تذویراتی اور سیاسی امور کو بھی دیکھنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیامیں سیاسی و تذویراتی مسائل تنازعات کو بڑھاوا دے رہے ہیں، تذویراتی توازن اور روایتی ہتھیاروں میں مناسبت برقرار رکھی جائے گی کیونکہ عدم توازن ہمیشہ تنازعات کو جنم دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خطے میں سلامتی کے ضامن ہونے کی تگ و دو بھی تذویراتی اہمیت رکھتی ہے، بیرونی طاقتیں بڑے تذویراتی ڈیزائنز کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں۔

جنرل زبیر محمود نے کہا کہ افغانستان کا معاملہ جنوبی اور وسطی ایشیا کے مابین اہم ہے، پاکستان افغانستان میں پائیدار امن کا خواہاں ہے، غیر ریاستی عناصر کے ذریعے جنوبی ایشیا کو عدم استحکام کا شکار کیا جا رہا ہے اور افغانستان میں عدم استحکام خطے کے لیے نقصان دہ ہے، افغان عدم استحکام کی پاکستان بھاری قیمت چکا رہا ہے، افغان سرزمین پر دہشت گردی کے ٹھکانے کلیدی مسائل کا باعث ہیں، افغانستان میں کمزور گورننس اور دراڑ زدہ مفاہمتی عمل مسائل کا پیش خیمہ ہے لیکن پاکستان ہمیشہ سے افغانستان میں پائیدار امن کا خوہاں رہا ہے۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس نے کہا کہ مسئلہ کشمیر بدستور جوہری جنگ کے خطرات کا پیش خیمہ ہے، کشمیر میں بھارتی فوج کا ظلم اور پاکستان کی طرف جنگی ہیجان واضح ہے، مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور پاکستان کے خلاف رویہ اس کی مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر 20 کشمیریوں پر ایک بھارتی فوجی تعینات ہے، 94 ہزار کشمیری شہید کیے جا چکے، 7700 سے زائد کشمیریوں کی بینائی جا چکی۔انہوں نے کہا کہ بھارت سے تعلقات کا راستہ صرف کشمیر سے ہوکر گزرتا ہے، اس میں کوئی باس پاس نہیں، مسئلہ کشمیر کے حل سے جنوبی ایشیا میں دیرپا امن ممکن ہے، پاکستان مسئلہ کشمیر اور افغان مسائل کا حل چاہتا ہے اور تمام ا±مور پر یکساں پیشرفت چاہتے ہیں۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس نے کہا کہ پاکستان تمام تنازعات کا پرامن حل چاہتاہے، پاکستان اپنی ذمے داریوں سے آگاہ مگر دفاع سے غافل نہیں، پاکستان تمام حالات کے تناظر میں کم از کم جوہری صلاحیت برقرار رکھے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت میں انتہاپسندی بڑھ رہی ہے، بھارت سیکولر سے انتہا پسند ہندو ملک بن چکا جب کہ بھارت، پاکستان سے ذیلی روایتی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے،سرجیکل اسٹرائیک جیسے شوشے اس کی ایک اہم مثال ہے جب کہ بھارت نے 1200 سے زائد بار فائر بندی کی خلاف ورزیاں کیں۔ بھارتی فوج کے ہاتھوں پاکستان کے 1000 شہریوں سمیت 300 فوجی شہید ہوئے، یہ بھارتی رویہ کسی وقت بھی بڑی جنگ میں بدل سکتا ہے۔

جنرل زبیر محمود نے کہا کہ بھارت ٹی ٹی پی، بلوچ علیحدگی پسندوں اور ’را‘ کے ذریعے پاکستان میں دہشتگردی کرا رہا ہے، سی پیک کے خلاف بھارتی سازشیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں بھارتی خفیہ ایجنسی، ’را‘ نے سی پیک کے خلاف 500 ملین ڈالرز مختص کررکھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت میزائل ڈیفنس ٹیکنالوجی، جوہری ہتھیاروں اور روایتی ہتھیاروں میں تیزی سے آگے بڑرہا ہے، بھارت پاکستان کا پانی روک رہا ہے، خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتا تاہم بھارت ایسا کررہا ہے، بھارت آگ اور جنوبی ایشیا کے امن سے کھیل رہا ہے۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...