روہنگیا پرمظالم، برمی فوج نے خود کو بری الذمہ قرار دیدیا

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

یانگون: میانمار کی فوج نے روہنگیا مسلمانوں پر تشدد، قتل اور اجتماعی زیادتی کے واقعات سے خود کو بری الذمہ قرار دے دیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق فوج کی ایک اندرونی رپورٹ میں کہا گیا کہ گاو¿ں کے لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ سکیورٹی فورسز روہنگیا مسلمانوں کے قتل، جنسی تشدد، خواتین کے ساتھ زیادتی، گاوں کے لوگوں کی قیمتی اشیا چرانے اور گھروں اور مساجد کو نذر آتش کرنے میں ملوث نہیں ہیں۔

مزید کہا گیا کہ یہ روہنگیا کمیونٹی کے کچھ عسکریت پسند تھے، جنہوں نے ریاست رخائن میں بے شمار دیہاتوں کو نذر آتش کیا اور جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ وہاں سے فرار ہوئے کیونکہ انہیں دہشت گردوں سے خطرہ تھا اور انہیں ایسا کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔فوج کی رپورٹ میں 6 لاکھ روہنگیا مسلمانوں کے ملک چھوڑنے کے ذمہ دار فوجی جنرل مونگ مونگ سوئے کے تبادلے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔جنرل مونگ مونگ سوئے میانمار کی ریاست رخائن میں عسکریت پسندی کے خلاف نام نہاد آپریشن کا انچارج تھے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سینئر عہدیدار نے میانمار کی فوج کو اجتماعی زیادتی اور انسانیت کے خلاف دیگر جرائم کا مرتکب قرار دیا تھا۔میانمار فوج کے منظم جرائم کی تصدیق بنگلہ دیش میں پناہ گزین کیمپوں کے دورے کے بعد کی گئی۔

دوسری جانب انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایک ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ میانمار کی فوج نے یہ واضح کردیا ہے کہ اسے احتساب کو یقینی بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اب یہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے اقدامات اٹھائیں کہ اس قسم کے جرائم کرنے والے سزا سے بچ نہ سکیں۔

دوسری جانب برطانوی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کو نسل کشی جیسی صورتحال کا سامنا ہے اور میانمار کی انتظامیہ اور فوج کو حالات کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔جبکہ امریکی وزیر خارجہ کے دورے کے موقع پر میانمار حکومت کو سخت پیغام دیے جانے کا بھی امکان ہے۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...