وفاقی حکومت کا آرٹیکل 62 اور 63 میں ترمیم کا اعلان

  وقت اشاعت: 22 اگست 2017

وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 میں ترمیم کا اعلان کر دیا۔ حکومت کے مطابق وہ یہ معاملہ پارلیمینٹ کی مرکزی کمیٹی میں لے کر جائے گی۔

منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں انتخابی اصلاحات کے بل کی شق وار منظوری کے دوران وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ حکومت آئین کی شق 62 ون ایف میں ترمیم کا ارداہ رکھتی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس شق میں نااہلی کی کوئی مدت متعین نہیں ہے۔ زاہد حامد نے کہا کہ اس شق کے تحت ہونے والی نااہلی کی مدت پانچ سال سے کم ہونی چاہیے۔
 
 
حزب مخالف کی جماعتوں جن میں جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف شامل ہیں نے کہا ہے کہ وہ اس ترمیم کی مخالفت کریں گی۔ خیال رہے کہ آئین کی یہ شق رکن پارلیمان کے صادق اور امین ہونے سے متعلق ہے۔ اسی شق کے تحت حقائق چھپانے یا جھوٹ ثابت ہونے کی صورت میں کسی بھی رکن پارلیمان کو نااہل قرار دیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ پاناما لیکس کے مقدمے میں28 جولائی کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کی جانب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی آئین کی اسی شق کے تحت کی گئی تھی۔
 
 
حزب مخالف کی جماعتوں جن میں پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت کا کہنا ہے کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے دوران آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 میں ترمیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن اس وقت نواز شریف نے اس کی مخالفت کی تھی۔
 
دوسری جانب انتخابی اصلاحات سے متعلق بل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ہے جبکہ حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے پیش کی جانے والی ترامیم کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
 
ان ترامیم میں آئندہ برس ہونے والے عام انتخابات میں جنرل نشستوں پر خواتین کو دس فیصد نشستیں دینے کے علاوہ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے جیسی ترامیم بھی شامل تھیں۔
 
خواتین کو عام نشستوں پر دس فیصلد کوٹہ مقرر کی ترمیم رائے شماری کے ذریعے مسترد کی گئی۔
 
اس کے علاوہ عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور بائیومیٹرک مشین کے استعمال کے حوالے سے بھی اپوزیشن کی ترمیم مسترد کر دی گئی ہیں۔
 
قومی اسمبلی نے پارٹی فنڈنگ کے ذرائع ظاہر نہ کرنے سے متعلق تحریک انصاف کی ترمیم مسترد کر دی ہے جبکہ سیاسی جماعت کی جانب سے جمع کروائی گئی پارٹی فنڈنگ اور حسابات کی تفصیل الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر شائع کرنے کی شق حذف کرنے کی حکومتی ترمیم منظور کر لی گئی ہے۔
 
قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد آئینی اصلاحات کا بل سینیٹ میں پیش کیا جائے گا جہاں سے منظوری کے بعد اس کو قانون کا درجہ مل جائے گا۔
 
انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی تین سال قبل بنائی گئی تھی اور اس ضمن میں سیاسی جماعتوں کے علاوہ غیر سرکاری تنظیموں، سول سوسائٹی اور وکلا برادری سے بھی تجاویز لی گئی تھیں۔
 
اس بل کی231 شقیں تھیں جن کی قومی اسمبلی کے اجلاس میں مرحلہ وار منظوری لی گئی۔
آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...