’سندھ میں 1 ہزار غیر قانونی مدارس سرکاری زمینوں پر قائم‘

  وقت اشاعت: 12 اگست 2017

کراچی: صوبہ سندھ کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کو بتایا گیا ہے کہ تقریباً ایک ہزار مدارس غیر قانونی طور پر سرکاری زمینوں پر تعمیر کیے گئے ہیں۔ ان مدارس کے کاغذات کی چھان بین کی جائے گی۔

ایپکس کمیٹی کے 20 ویں اجلاس کی صدارت وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ان مدارس کے کاغذات کی چھان بین کی جائے گی اور کسی کو بھی سرکاری زمینوں پر مدارس تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ اجلاس میں یہ بات بھی زیر غور آئی کہ گذشتہ چار سالوں میں تھر پارکر میں 60 مدارس قائم کیے گئے ہیں جبکہ علاقے کے آبادی کی اکثریت ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہے۔

اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں نئے ناموں کے ساتھ کام کرنے والی کالعدم تنظیموں پر بھی غور کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ انٹیلیجنس ایجنسیاں، پولیس اور رینجرز اس حوالے سے ضروری کارروائی کریں۔

اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال، کور کمانڈر کراچی لیفٹننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا، چیف سیکریٹری سندھ رضوان میمن، آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ، ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد سعید دیگر نے شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے محکمہ داخلہ کو ہدایت کی کہ مقدمات کی جانچ پڑتال اور جائزہ لینے کے بعد ضروری کاغذات کے ساتھ انھیں فوجی عدالتوں میں بھیجا جائے۔

واضح رہے کہ سندھ حکومت 90 مقدمات فوجی عدالتوں کو بھیج چکی ہے، جس میں سے 37 زیر سماعت ہیں جبکہ 21 مقدمات میں سز ا ہو چکی ہے۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...