موبائل سے امریکیوں کا ڈیٹا چین منتقل

  وقت اشاعت: 06 اگست 2017

واشنگٹن: آن لائن مصنوعات فروخت کرنے والی امریکہ کی کمپنی ایمازون کی جانب سے ایک سال قبل فروخت کے لیے پیش کیے گئے ’بلیو‘ نامی اسمارٹ موبائل کے ذریعے صارفین کا ڈیٹا چوری ہو کر چین منتقل ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

حال ہی میں آن لائن مصنوعات فروخت کرنے والی امریکہ کی کمپنی ایمازون کے بانی نے دنیا کے سب سے امیر ترین شخص ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ایمازون اپنی مصنوعات اور اصولوں کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے، مگر ایک سال قبل ایمازون کی جانب سے فروخت کے لیے پیش کیے گئے ’بلیو‘ نامی اسمارٹ موبائل کے ذریعے صارفین کا ڈیٹا چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔بلیو اسمارٹ موبائل کے ذریعے صارفین کا ڈیٹا چوری ہوکر چین منتقل ہونے کے انکشاف کے بعد کمپنی نے موبائل فون کی فروخت بند کردی۔

کمپنی نے ٹوئیٹ میں بتایا کہ بلیو اسمارٹ موبائل میں سیکیورٹی کمزوریوں کے انکشاف کے بعد موبائل کو ایمازون سے ہٹادیا گیا، اب یہ موبائل مزید فروخت کے لیے پیش نہیں ہوگا۔تاہم کمپنی نے یہ وضاحت نہیں کی کہ جن صارفین کا ڈیٹا چوری کرکے چین منتقل کیا گیا، ان کے ڈیٹا کا کیا ہوگا؟ایمازون نے بلیو موبائل کو فروخت کے لیے پیش کرتے وقت اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ اس کے سافٹ ویئر کی تیاری تیسرے فریق نے کی۔

اطلاعات کے مطابق بلیو اسمارٹ موبائل میں استعمال کیے جانے والے سافٹ ویئر کی تیاری چین میں ہوئی، جب کہ سافٹ ویئر میں سکیورٹی کمزوریوں کی نشاندہی امریکی کمپنی نے کی۔ایمازون نے بلیو کو گزشتہ برس کے آخر میں فروخت کے لیے پیش کیا تھا۔ بعد ازاں اسمارٹ آلات میں سکیورٹی خامیوں پر نظر رکھنے والے ادارے کریپٹو وائر نے یہ خبر دی تھی کہ بلیو موبائل کے ذریعے صارفین کا ڈیٹا چوری کیا جا رہا ہے۔سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کرنے والے ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایمازون کی جانب سے فروخت کے لیے پیش کی جانے والے بلیو موبائل کے صارفین کا ڈیٹا چین منتقل ہو رہا ہے۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ جس کمپنی نے بلیو اسمارٹ موبائل کا سافٹ ویئر تیار کیا، اسی کمپنی کو صارفین کا ڈیٹا منتقل ہو رہا ہے۔کمپنی کے ایسے انکشاف کے بعد امریکی میڈیا میں بھی ایمازون کے موبائل کے بارے میں خبریں شائع ہوئیں، جس کے بعد ایمازون نے موبائل کی فروخت روک دی۔
آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...