’بھارت سے بڑے ٹورنامنٹ میں ہارنے کا داغ دھو دیا‘

  وقت اشاعت: 19 جون 2017

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کا کہنا ہے اس فتح کے ساتھ ہی انھوں نے یہ داغ بھی دھو دیا کہ پاکستان آئی سی سی ٹورنامنٹ میں بھارت سے ہمیشہ ہار جاتا ہے۔

پاکستانی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے یہ یاد گار فتح پاکستان قوم کے نام کی ہے۔  سرفراز احمد اور کوچ مکی آرتھر نے میچ کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں سرفراز نے ابتدائی کلمات میں کہا کہ یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہے ان کے لیے ٹیم کے لیے اور پوری پاکستان قوم کے لیے۔
 
سرفراز احمد نے کہا کہ اس فتح کے ساتھ ہی انھوں نے یہ داغ بھی دھو دیا کہ پاکستان آئی سی سی کے بڑے ٹورنامنٹ میں انڈیا سے ہمیشہ ہار جاتا ہے۔ سرفراز نے کہا کہ یہ طعنہ اب ٹیم کو کوئی نہیں دے سکے گا۔ ویراٹ کوہلی سے ٹاس ہارنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ٹاس ہار کر ان کا پہلا ردعمل یہ تھا کہ اچھا ہوا کہ وہ ٹاس ہار گئے۔ انھوں نے کہا کہ وہ ایک مشکل فیصلے سے بچ گئے لیکن انھیں یقین تھا کہ تین سو کے قریب سکور کر کے وہ میچ کو پھنسا سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جب پاکستان کی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے آئی تھی تو رینکنگ میں نمبر آٹھ پر تھی اور آج وہ ٹیم چیمپیئن ہے۔ فخر زمان اور اظہر علی کی اننگ کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ان کی اننگ میں ٹیم میں قوی امید پیدا کر دی تھی کہ وہ یہ میچ جیت سکتے ہیں۔ انھوں ایک ایک کھلاڑی کی تعریف کی اور کہا کہ جس انداز میں محمد حفیظ اور عماد وسیم نے اننگز ختم کی وہ بھی بہت قابل تعریف ہے۔
 
مکی آرتھر نے کہا کہ انھوں نے جنوبی افریقہ ٹیم کے ساتھ بحیثیت کوچ پانچ سیمی فائنل کھیلے لیکن کوئی فائنل نہ کھیل سکے اور پاکستان کے ساتھ ایک فائنل میں ساتھ تھے اور اس جملے کو انھوں نے اپنے گلے میں لٹکا میڈل دکھایا۔
 
پہلے میچ میں انڈیا سے ہار کے بعد ٹیم کی کارکردگی کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ان کی ٹیم کے ساتھ سخت گفتگو ہوئی اور ٹیم کو یہ کہا گیا کہ وہ اپنے اوپر یقین اور اعتماد رکھ کر کھیلیں۔
 
آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کا دفاع کرنے میں ناکامی اور پاکستان کے ہاتھوں فائنل میں شکست کے بعد انڈیا کے کپتان ویراٹ کوہلی نے بڑی خندہ پیشانی سے اپنی شکست کا اعتراف کیا اور پاکستان ٹیم کی تعریف کی۔
 
میچ کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بڑے اطمینان اور پر اعتماد طریقے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہ وہ کسی بھی میچ کو آسان نہیں لیتے۔
 
انھوں نے کہاکہ میچ دو ٹیموں کے درمیان ہوتا ہے اور جو ٹیم اچھا کھیلتی ہے وہی جیتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج ان کے ہارنے کا دن تھا اور ایسا دن تھا جس دن وہ ہار گئے۔ انھوں نے کہا کہ 'کبھی کبھی آپ کو اپنے مد مقابل کی بھی تعریف کرنی چاہیے۔'
 
ویراٹ کوہلی سے پاکستان کے اوپنگ بلے بازوں کے بارے میں ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ اظہر علی روایتی طرز کی کرکٹ کھیلتے ہیں اس لیے ان کی شاٹس کے بارے میں احتیاط پر مبنی یا دفاعی حکمت علمی اختیار کی جاسکتی ہے لیکن فخر زمان غیر روایتی بلے باز ہیں اور انھوں نے جو شاٹس کھیلیں وہ 80 فیصد ایسی شاٹس تھیں جھنیں 'ہائی رسک' یا خطرہ لے کر کھیلنے والی شاٹس کہا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایسے بلے باز کے خلاف دفاعی فیلڈ کھڑی کرنا کافی مشکل ہے۔ انھوں نے انڈیا کی بیٹنگ کے بارے میں کہا کہ پاکستانی بولر انھیں غلطیاں کرنے پر مجبور کیا۔
 
ایشون کے بارے میں ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ چوکے چھکے ہر بولر کو پڑتے ہیں اور ان سے ٹیمیں اور بولر پریشان ہیں ہوتے دیکھنا صرف یہ ہوتا کہ بلے باز وہیں کھیل رہا ہے جہاں بولر اسے کھلا رہا ہے یا بلے باز خراب بالوں کو فائدہ اٹھا رہا ہے۔
 
پاکستان کی فتح پر ایک اور سوال ک جواب میں انھوں نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم کو اس طرح کی فتوحات کی سخت ضرورت ہے۔
 
پاکستان کے ساتھ کرکٹ کی بحالی کے بارے میں ایک مرتبہ پھر ان سے سوال پوچھا گیا جس کا انھوں نے جواب دینے سے انکار کر دیا۔
 
برمنگھم میں میچ جیتنے کے بعد بھی ان سے یہی سوال کیا گیا تھا جس کے جواب میں انھوں نے کہا تھا کہ یہ ایسا معاملہ ہے جس کا فیصلہ حکام نے کرنا ہے ان کا کام کرکٹ کھیلنا ہے چاہیے ان کا مدمقابل کوئی بھی ہو۔

 

loading...
آپ کا تبصرہ

Conflicts in Conflict

The conflict of Jammu and Kashmir (J&K) is one of the long standing issues of the world. The unfortunate but this unique multi-ethnic, multilingual and multi-religious po

Read more

loading...