بلوچستان: اختر مینگل کے گھر پر راکٹ حملہ

  وقت اشاعت: 19 جون 2017

خضدار: بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے وڈھ میں سابق وزیراعلی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کے گھر راکٹ حملے میں گھر کا مرکزی دروازہ متاثر ہوا۔دوسری جانب حملہ کے خلاف آج وڈھ میں مکمل شٹر ڈاﺅن ہڑتال رہی۔ مظاہرین نے صوبائی حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق راکٹ علی الصبح نامعلوم مقام سے فائر کیا گیا۔ وڑھ کے ایس ایچ او عبداللہ بلوچ نے بتایا کہ راکٹ سردار اختر مینگل کے گھر کے مرکزی دروازے کے قریب آکر پھٹا، تاہم واقعے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔جس وقت راکٹ حملہ کیا گیا، سردار عطا اللہ مینگل اور سردار اختر مینگل گھر میں موجود نہیں تھے۔ایس ایچ او کے مطابق سردار اختر ملک ان دنوں ملک سے باہر ہیں جبکہ سردار عطااللہ مینگل وڑھ سے باہر گئے ہوئے ہیں۔تاہم واقعے کے وقت سردار مینگل کے گارڈ اور دیگر عملہ گھر کے اندر ہی موجود تھا۔

واقعے کے بعد قلات ڈویژن کے کمشنر محمد غلزئی، ایف سی کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل فضل رسول قادری، خضدار رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل محمد ظفر علی، ڈسٹرکٹ پولیس افسرعبدالرف باریچ اور دیگر افسران نے جائے وقوع کا دورہ کیا اور شواہد اکٹھے کیے۔دوسری جانب پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ راکٹ حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ کی جانب سے قبول نہیں کی گئی۔

دوسری جانب بلوچستان نیشنل پارٹی وڈھ کے زیر اہتمام پارٹی سربراہ سردار اخترجان مینگل کے گھر حملہ کے خلا ف آج وڈھ میں مکمل شٹر ڈاﺅن ہڑتال رہی، مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے ،ریلی کے شرکاءنے صوبائی حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کرتے ہوئے مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی وڈھ پریس کلب کے سامنے جلسہ کی شکل اختیار کی۔

بی این پی وڈھ کے زیر اہتمام پارٹی قائد سردار اخترجان مینگل کے گھر پر بم حملہ کے خلا ف آج وڈھ بازار میں مکمل شٹرڈاﺅن ہڑتال رہی ۔ پارٹی کے زیر قیادت ایک ریلی نکالی گئی ریلی کی قیادت بی این پی وڈھ کے صدر مجاہد عمرانی ، نائب صدر عبدالجبار مینگل کررہے تھے۔ ریلی میں بی این پی آڑنجی کے پریس سیکرٹری الٰہی بخش محمود زئی، ٹکر ی محمد یوسف گرگناڑی ،فنائنس سیکرٹری کامریڈ محمد اقبال لہڑی اور عبدالرب بلوچ سمیت دیگر پارٹی کارکنوں اور عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

احتجاجی مظاہرہ سے بی این پی وڈھ کے صدر مجاہدعمرانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ صرف سردار مینگل کے کو ٹ پر حملہ نہیں بلکہ پورے بلوچستان پر حملہ ہے دشمن یہ جان لے کہ یہ ایک چنگاری ہے اس کو ابھی سے سمبھا لاجائے جب یہ معمولی چنگاری حکومت کی غفلت اور لاپروائی کی باعث بھڑک اٹھی تو اس کے شعلے دور دور تک جا ئیگی۔ سردار عطاءاللہ مینگل کو پورے بلوچستان میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے مظاہرین نے کہا کہ مخالفین بی این پی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے گھبراہٹ کا شکار ہوکر اب منفی ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں جو کہ قابل مذمت اقدام ہے۔

مظاہرین نے کہا کہ یہ چار دیواری سردار عطاءاللہ مینگل کا نہیں بلکہ پورے قوم کا گھر ہے اس کی حفاظت کرنا ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔ مظاہر ین نے پولیس اورلیویز انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امن امان نام کی کوئی چیز نہیں انتظامیہ کو لوگوں کی امن سے کوئی سروکا رنہیں ۔وہ صرف اپنے ذاتی کاموں مصروف عمل ہے پولیس اسٹیشن سے چند فرلانگ کے فاصلے پر بم دھماہونا پولیس کی نااہلی منہ بولتا ثبوت ہے۔
 مظاہر ین اعلان کیا کہ انتظامیہ جب تک مینگل کوٹ پر حملہ کرنے والے ملزمان کو گرفتا ر نہیں کیا جاتا تو اس وقت تک ہم اپنا احتجا ج کوجاری رکھیں گے ۔ریلی کے موقع پر پولیس اور لیویز کی بھاری نفری موجود تھے۔

سردار اختر مینگل بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ ہیں، جو90کی دہائی میں وزیراعظم نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت میں وزیر اعلی بلوچستان رہے۔گیارہ مئی 2013 کے عام انتخابات میں وہ بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ان کا آبائی علاقہ وڈھ ہے جہاں سے انہوں نے کامیابی حاصل کی۔ واضح رہے کہ وڈھ اور خضدار بلوچستان کے حساس ترین علاقوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...