ناسا قیمتی سیارچے پر خلائی جہاز بھیجے گا

  وقت اشاعت: 28 مئی 2017

کیلیفورنیا: ناسا نے 2022 میں پلاٹینم اور سونے سے بنے قیمتی سیارچے (ایسٹرائڈ) کی جانب ایک خلائی جہاز روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ناسا کے مطابق سیارچہ سونے اور پلاٹینم سے بنا ہے جس میں فولاد اور جست (نِکل) بھی شامل ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سیارچہ بہت دور نہیں بلکہ مریخ (مارس) اور مشتری ( جوپیٹر) کے درمیان ایک سیارچی پٹی میں گردش کررہا ہے، جو ہمارے سورج کی پیدائش کے ایک کروڑ سال سے بھی کم عرصے میں پیدا ہو گیا تھا۔ ناسا کے مطابق ایسٹرائڈ پر تحقیق سے خود نظامِ شمسی کی تاریخ جاننے میں مدد مل سکے گی۔

ناسا نے سیارچے پر بھیجے جانے والے خلائی جہاز کو ڈسکوری مشن کا نام دیا ہے جسے 2022 میں زمین سے بھیجا جائے گا اور وہ 4 سال بعد 2026 میں ایسٹرائڈ تک پہنچے گا، سیارچے کو ’ 16 سائیکے‘ کا نام دیا گیا ہے جو سونے، چاندی اور پلاٹینم سے مالا مال ہے۔ ماہرین اس کی مالیت کا اندازہ لگانے سے قاصر ہیں تاہم خیال ہے کہ یہ خلا میں تیرتا ہوا خزانہ ہے جس کی مالیت کا تخمینہ 10 ہزار کواڈریلیئن ڈالر لگایا گیا ہے جو 1,000,000,000,000,000,000,0 ڈالر کے برابر ہے۔

ماہرین کے مطابق 16 سائیکے قیمتی دھاتوں کا ایک مجموعہ ہے جو ہمارے پڑوس میں واقع قیمتی ترین شے بھی ہے۔ اسی بنا پر سرمایہ کار حضرات اسے حسرت سے دیکھ رہے ہیں لیکن اس سیارچے کو زمین تک لانا اتنا مہنگا ہو گا کہ خود زمین کا سارا معاشی نظام تباہ ہو کر رہ جائے گا۔

ناسا نے اس سیارچے پر کھدائی اور کان کنی کا تاحال کوئی منصوبہ نہیں بنایا ہے تاہم خلائی کان کنی اور سیارچوں سے سونا نکالنے والی دو کمپنیاں وجود میں آ چکی ہیں۔ ان میں سے ایک ڈیپ اسپیس انڈسٹری جب کہ دوسری پلانیٹری ریسورسز ہے جو 2011 UW158 پر نظر جمائے ہوئے ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا سونے کا سیارچہ ہے جو لندن ٹاور سے دوگنا بڑا ہے اور اس پر 5 ٹریلین ڈالر کا سونا موجود ہے۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...