پاک فوج کو سیاست دانوں پر اخلاقی برتری حاصل ہے

پاک فوج پاکستان کا سب سے مضبوط ادارہ ہے اور نہ صرف پاکستان کی سرحدوں کے دفاع بلکہ اندورن ملک امن کی بحالی کی بھی ضمانت ہے۔ دوسری طرف قیام پاکستان سے لے کر اب تک فوجی جرنیل پاکستان کے فیصلوں پر بھی حاوی رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے حقیقی جمہوریت کا فقدان رہا ہے اور پاکستان کے دو لخت ہونے کی بڑی وجہ بھی بنی۔
ملک کے اندر کئی سیاسی راہنما اور دانشور اس بات پر معترض ہیں کہ پاک فوج سیاست دانوں پر ہمیشہ دباؤ رکھتی ہے اور ملک پر اپنی مرضی کے فیصلے مسلط کرتی ہے۔ لیکن ان سیاستدانوں اور دانشوروں نے کبھی اس کی وجہ جاننے اور فوجی طاقت کے راز پر کچھ محنت کی ہوتی اور تاریخ سے سبق سیکھا ہوتا تو شاید آج لوگوں کا سیاستدانوں پر اعتماد ہوتا اور ملک میں جمہوری نظام بھی مضبوط ہوتا۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ فوج اس ملک پر صرف بندوق کے زور پر حاوی نہیں ہے اور نہ ایسا ممکن ہے۔ یہ قانون فطرت بھی ہے اور دنیا کا دستور بھی کہ کوئی بھی قوت صرف بندوق کے زور پر طویل عرصے تک عوام پر حاوی نہیں رہ سکتی بلکہ اس کے لیے عوام کا اعتماد حاصل کرنا از حد ضروری ہے۔
فوج پاکستان کا واحد ادارہ ہے جس کی باقاعدہ تربیت ہوئی ہے اور یہ ڈسپلن میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ فوج اور سول میں ڈسپلن کا کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جمہوری اور سیاسی قوتیں، ڈسپلن فورسز نہیں ہوتیں۔ لیکن کئی لحاظ سے ان کا متحد ہونا بہت ضروری ہے۔ اور اپنے کردار اور اخلاق کے لحاظ سے بھی صف اول میں ہونا لازم ہے۔ مہذب دنیا کا میڈیا اپنے سیاستدانوں کے کردار کی کڑی نگرانی کرتا ہے اور چھوٹی سے چھوٹی غلطی بھی کسی سیاستدان کا مستقبل اور کیریئر خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
میری اکثر مواقع پر پاکستان کی نامور سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں اور مباحث ہوئے ہیں۔ جن کا مرکزی نقطہ سیاستدان بمقابلہ فوجی جرنیل، سیاستدانوں کی لوٹ مار اور سیاستدانوں کے اتحاد کا فقدان ہی ہوتا ہے۔ میں فوج کے کئی افسران سے بھی ملتا رہا ہوں اور ان سے بات چیت بھی ہوتی رہتی ہے۔ اس سے سول اور فوجی طریقہ کے فرق کو سمجھنے کا بھی موقع ملتا ہے۔
آج میں جس ایک نقطے پر لکھنا چاہ رہا ہوں وہ ہے اخلاق۔ میں نے کئی بار یہ بات محسوس کی ہے کہ اخلاق میں فوجی افسران کو سیاستدانوں پر فوقیت حاصل ہے۔ ابھی دو دن پہلے ہماری ملاقات آئی ایس آئی کے ایک برگیڈیر صاحب سے ہوئی ہے۔ ہم ان کی دعوت پر ان سے ملنے اٹک گئے تھے۔ ان کی مہربانی اور شفقت یہ کہ انہوں نے ہمیں دو بار ملاقات کے لئے بلایا لیکن میرے لئے اپنی مصروفیات کی وجہ سے جانا ممکن نہ تھا۔ پھر تیسری بار ان کی دعوت پر ہم جمعرات کے روز صبح سویرے بھمبر سے روانہ ہوئے تو تھوڑی ہی دیر بعد ان کا فون آیا اور انہوں نے کنفرم کیا کہ ہم آرہے ہیں۔
جب ہم راولپنڈی پہنچے تو انہوں نے کال کر کے پوچھا کہ ہم کہاں پہنچے ہیں۔ پھر ان کے سیکرٹری نے ہمیں وٹس اپ پر لوکیشن بھیجی تاکہ ہمیں راستہ ڈھونڈنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ راولپنڈی سے اٹک ان کے دفتر پہنچنے تک برگیڈیر صاحب نے متعدد بار ہمیں فون کیا اور راستے کی راہنمائی کی۔ اور جب ہم وہاں پہنچے تو ان کا سیکرٹری باہر کھڑا تھا۔ ہماری کار جیسے ہی رکی اس نے ہمیں خوش آمدید کہا اور میری گاڑی کی چابی لے کر ڈرائیور کو دی کہ وہ میری گاڑی صحیح سمت میں پارک کر دے۔ اندر گئے تو برگیڈیر صاحب نے بہت گرم جوشی سے ہمارا استقبال کیا۔ کچھ دیر بہت ہی خوشگوار موڈ میں بات چیت کی اور اس کے بعد جب ان کے ملازم نے کھانا لگ جانے کی اطلاع دی تو برگیڈیر صاحب ہمیں ساتھ والے کمرے میں لے گئے جہاں میز پر پیزا اور انواع و اقسام کے سنیکس لگے تھے۔
برگیڈیر صاحب نے خود تو بہت ہی کم کھایا( برگیڈیر صاحب اپنے خدوخال اور جوانی سے برگیڈئیر نہیں لگتے۔ بہت سمارٹ جوان ہیں۔) لیکن ہماری پلیٹوں میں اپنے ہاتھوں سے چیزیں رکھتے اور زیادہ کھانے کا اصرار کر رہے تھے۔ کولڈ ڈرنک بھی خود گلاسوں میں ڈالی۔ کھانے سے فارغ ہوئے تو ان کے دفتر میں آکر گفتگو کا نیا دور شروع ہوا۔ ہماری گفتگو کا موضوع پاکستان کے موجودہ حالات اور پاکستان کا مستقبل تھا۔ لیکن جموں و کشمیر لیبر پارٹی کے متعلق بھی بات ہوئی۔ اسی دوران ہمیں چائے بسکٹ اور خشک میوہ جات پیش کئے گئے۔ لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹے کی ملاقات اور گفت و شنید کے بعد جب ہم نے رخصت چاہی تو برگیڈیر صاحب ہمارے ساتھ باہر ہماری گاڑی تک تشریف لائے اور ہمیں پرتپاک طریقے سے الوداع کہا۔ ہماری گاڑی احاطے سے باہر نکلنے تک وہاں کھڑے رہے۔ برگیڈیر صاحب کا حسن سلوک اور اعلی اخلاق دیکھنے کے بعد یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں رہا کہ پاک فوج اس ملک میں سب سے مضبوط ادارہ کس طرح بنی اور ملک میں سب سے زیادہ عزت پاک فوج کے حصے میں کیوں آئی ہے۔
اس کے برعکس اگر ہم کسی ایم پی اے، ایم این اے یا ایم ایل اے کے ڈیرے پر چلے جائیں تو اول تو وہ اپنا دیدار دینے سے ہی قاصر ہوں گے اور ان کے ڈیرے پر جگا ٹائپ ملازم آپ کو ٹرخانے کی کوشش کریں گے۔ اور اگر وہ صاحب ملاقات کا شرف بخش دیں تو ان کی بدن بولی سے ایسے لگتا ہے کہ وہ مالک اور عوام ان کے غلام ہیں۔ ہمارے سیاستدانوں کا آپس میں کوئی اتفاق ہے نہ عوام کے ساتھ اچھا سلوک، اسی لیے تو تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد عوام گھبرا کر فوج کی طرف دیکھتے ہیں۔
میں ذاتی طور پر فوج کے سیاسی کردار کے سخت خلاف ہوں اور برملا کہتا ہوں کہ یہ ملک عوام کا ہے اور عوام ہی کا حق ہے کہ وہ اس ملک کے فیصلے کریں۔ لیکن اس کے لئے باصلاحیت اور ایماندار سیاسی قیادت کی ضرورت ہے۔ جو ہمہ وقت وطن عزیز میں سیاسی افہام و تفہیم، بدعنوانی کے خاتمے، ذاتیات سے بالاتر سوچ، اداروں کی تطہیر اور جدید تربیت اور جمہوری نظام کو مضبوط کرنے کے فیصلے کر سکے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عوام سے قریبی رابطہ استوار کیا جائے، عوام کو حکومتی فیصلوں میں شامل کیا جائے۔ اور انسانی حقوق اور عوام کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے۔
تمام حکومتوں کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ عوام کو درست اطلاعات تک رسائی نہیں دی گئی۔ جس کی وجہ سے ملک میں مختلف افواہیں گردش میں رہتی ہیں اور لوگ سازشوں پر یقین کرنے لگتے ہیں۔ آج بھی ملک میں کئی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ ایک طرف ایک نئے این آر او کی بازگشت سنائی دے رہی ہے تو دوسری طرف حکومت کے دن گنے جانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ نظریے کی بجائے شخصیات کو اہمیت دی جاتی ہے۔
سیاسی لیڈر اپنی کمزوریوں پر قابو پالیں اور عوام کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوکر کام کریں تو عوام کبھی امور مملکت کے معاملے میں فوج کی طرف نہیں دیکھیں گے۔

Comments:- User is solely responsible for his/her words