امریکہ میں میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کا تنازعہ طول پکڑ گیا

واشنگٹن : امریکی صدر اور ڈیموکریٹ رہنماؤں کے درمیان میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لیے رقم جاری کرنے کے معاملے پر بات چیت ناکام رہی ہے اور صدر ٹرمپ نے اس ملاقات کو ’وقت کا ضیاع‘ قرار دیا ہے۔
امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی اور سینیٹ میں ڈیموکریٹ قائد چک شومر نے صدر ٹرمپ کے قوم سے خطاب کے بعد بدھ کو وائٹ ہاؤس میں ان سے ملاقات کی تاہم اس ملاقات میں وہ رقم نہ دینے کے فیصلے کو تبدیل کرنے پر راضی نہیں ہوئے۔ اس ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں کہا کہ انھوں نے اہم ڈیموکریٹ رہنماؤں کو ’بائے-بائے‘ کہہ دیا ہے اور یہ ملاقات مکمل طور پر ان کا وقت ضائع کرنے کے مترادف ثابت ہوئی۔
صدر ٹرمپ اس دیوار کی تعمیر کے لیے ساڑھے پانچ ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس مطالبے سے جو تنازع پیدا ہوا ہے اس کے نتیجے میں حکومت کے مختلف شعبوں کو گذشتہ 19 دنوں سے جزوی ‘شٹ ڈاؤن’ کا سامنا ہے۔ اس بندش کے نتیجے میں آٹھ لاکھ وفاقی ملازمین رواں ہفتے تنخواہ سے محروم رہیں گے۔
ملاقات کے بعد سپیکر پلوسی نے کہا کہ ملازمین کا تنخواہوں سے محروم رہنا صدر ٹرمپ کے لیے ’کولیٹرل ڈیمج‘ کی مانند ہے اور وہ اس معاملے میں ’بےحسی‘ کا مظاہرہ کر رہے ہیں‘۔ سینیٹر چک شومر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب نینسی پلوسی نے یہ کہا کہ وہ دیوار کے لیے رقم کی منظوری نہیں دیں گی تو صدر ٹرمپ نے ملاقات اچانک ختم کر دی۔
ان کے مطابق ٹرمپ نے سپیکر پلوسی سے دریافت کیا کہ کیا آپ میری دیوار کے بارے میں متفق ہیں؟ تو ان کا جواب تھا نہیں۔ پھر وہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ اس صورت میں ہمارے پاس بات کرنے کو کچھ نہیں اور باہر نکل گئے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پرائم ٹائم پر اپنے ٹی وی خطاب میں ڈیموکریٹس پر زور دیا تھا کہ وہ میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لیے فنڈنگ پر راضی ہو جائيں۔ صدر ٹرمپ نے اپنی اس بات پر اصرار کیا کہ سرحد پر دیوار کی تعمیر ملک کی سلامتی کے لیے ضروری ہے اور بہت جلدی یہ خود اپنی ادائیگی کرنے لگے گی۔

Comments:- User is solely responsible for his/her words