نقیب اللہ قتل کیس میں چشم دید گواہ لاپتہ

کراچی: نقیب اللہ قتل کیس کے تفتیشی افسر نے سندھ ہائیکورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ راؤ انوار سمیت دیگر ملزمان انتہائی سفاک، چالاک، بااثر اور طاقتور افسران رہے ہیں جنہوں نے واقعے کے اہم چشم دید گواہ کو لاپتا کردیا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ میں نقیب اللہ قتل کیس میں سابق ایس ایس پی راؤ انوار و دیگر کی ضمانتیں منسوخ کرنے سے متعلق معاملے پر سماعت ہوئی۔ دوران سماعت تفتیشی افسر ڈاکٹر رضوان احمد خان نے عدالت میں بتایا کہ نقیب اللہ قتل کیس کے اہم چشم دید گواہ کو لاپتا کردیا گیا ہے۔
تفتیشی افسر ڈاکٹر رضوان نے عدالت میں انکشاف کیا کہ راؤ انوار سمیت ملزمان انتہائی سفاک، چالاک، بااثر اور طاقتور افسران رہے ہیں اور انہوں نے واقعے کے واحد چشم دید گواہ کو لاپتا کرا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چشم دید گواہ ملزمان کے اثرورسوخ کے باعث پہلے ہی بیان سے منحرف کروایا جاچکا تھا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ گواہ کا لاپتا کیا جانا ملزمان کے اثرورسوخ کا یہ منہ بولتا ثبوت ہے۔
تفتیشی افسر نے عدالت میں خدشات کا اظہار کیا کہ اگر ملزمان کی ضمانتیں منسوخ نہ کی گئیں تو سب گواہ منحرف ہو سکتے ہیں جبکہ ملزمان گواہوں کو ڈرا دھمکا کر بیان بدلنے پر بھی مجبور کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتہائی موثر ڈیجیٹل شہادتوں سے ملزمان کو سزا ممکن ہے اور ساتھ ہی عدالت عالیہ سے استدعا کی کہ عدالت راؤ انوار و دیگر ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کرنے سے متعلق مناسب حکم صادر کرے۔
واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے راوُ انوار اور سابق ڈی ایس پی قمر احمد شیخ کی ضمانت منظور کر رکھی ہے۔ ملزمان پر نقیب اللہ اور اس کے ساتھیوں کے اغوا، غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور قتل کے الزامات ہیں۔
جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ نقیب اللہ کو 13 جنوری کو ایس ایس پی راؤ انوار کی جانب سے مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا تھا۔ پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ شاہ لطیف ٹاؤن کے عثمان خاص خیلی گوٹھ میں مقابلے کے دوران 4 دہشت گرد مارے گئے ہیں، جن کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تھا۔
ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی جانب سے اس وقت الزام لگایا گیا تھا کہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے افراد دہشت گردی کے بڑے واقعات میں ملوث تھے اور ان کے لشکر جنگھوی اور عسکریت پسند گروپ داعش سے تعلقات تھے۔
بعد ازاں میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ معاملہ اٹھنے پر 19 جنوری کو چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار نے جعلی پولیس مقابلے کا از خود نوٹس لیا تھا۔

Comments:- User is solely responsible for his/her words