معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

عاصمہ جہانگیر کی یاد میں فرینکفرٹ میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس

  وقت اشاعت: 09 مارچ 2018

رپورٹ: منورعلی شاہد

انسانی حقوق کی علمبردار اور نامور خاتون وکیل عاصمہ جہانگیر کی یاد میں دنیا بھر میں تعزیتی ریفرنسوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ فرینکفرٹ جرمنی میں بھی ان کی یاد میں ایک تعزیتی ریفرنس اردو جرمن کلچرل سوسائٹی فرینکفرٹ کے زہر اہتمام منعقد ہوا ۔ اس تقریب کی صدارت وومن رائٹر فورم کی صدر اور بون یونیورسٹی میں اردو کی استاد  بشری اقبال ملک نے کی۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے پروفیشنل و ابستگی کی بنیاد پر عاصمہ جہانگیر کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ۔ برسلز سے خصوصی طور پر تشریف لانے والے جیو و جنگ کے بیورو چیف و معروف تجزیہ نگار خالد حمید فاروقی اور صحافی و معروف دانشور شیراز راج کے علاوہ ڈیلی ٹائمز کے بیوروچیف یورپ افنان خان لودھی اور جرمنی میں روزنامہ مشرق کے نمائندہ منور علی شاہد شامل تھے۔

تقریب کے ابتدا میں پاکستانی طالبہ یوسر افتخار نے انگریزی میں تقریر کی اور کہا کہ یہ دنیا فانی ہے، لوگ گزر جاتے ہیں لیکن یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اچھے، نیک اور بنیادی حقوق کے لئے آوازاٹھانے والوں کا مشن جاری رکھیں۔ عاصمہ جہانگیر کو یاد کرتے وقت ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم کس طرح آگے بڑھ سکتے ہیں۔ خالد حمید فاروقی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کو کمزور کرنے والوں کے خلاف اظہار رائے میں عاصمہ جہانگیر نے کبھی بخل سے کام نہیں لیا ۔ اس حوالے سے ان کا ذہن بالکل صاٖف تھا۔ ان کو متعدد بار سیاسی جماعت بنانے کی ترغیب دی جاتی رہی لیکن انہوں نے ہمیشہ انکار کیا تھا کیونکہ وہ عوام کی سیاست کی قائل تھیں۔ شیراز راج نے عاصمہ جہانگیر کے ساتھ پچیس سالہ انسانی حقوق کی جدوجہد کی رفاقت کی روشنی میں ان کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عاصمہ کا سب کے ساتھ انسانیت کا رشتہ تھا۔ انہوں نے بلا امتیاز رنگ ونسل ہر مظلوم کی مدد کی۔ شیراز راج نے کہا کہ جو معاشرہ عاصمہ جہانگیر پیدا کرتا ہے اس معاشرے سے ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عاصمہ جہانگیر لوگوں کو قریب لانے اور قبول کرنے میں یقین رکھتی تھیں اور وہ پاکستان میں جمہوریت پسند قوتوں کا ایک حسین چہرہ تھیں۔

یورپ میں ڈیلی ٹائمز کے بیوروچیف افنان خان لودھی نے عاصمہ جہانگیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کی زندگی پاکستانی عوام کے لئے بالخصوص اور ساری انسانیت کے لئے بالعموم بے لوث محبت سے عبارت تھی۔ ان کا مشن یہ تھا وہ تمام لوگوں کے لئے بلا تفریق رنگ، طبقہ اور نسل کے یکساں حقوق کی فراہمی کو یقینی بنا سکیں۔ عاصمہ جہانگیر نے نئی نسل کو جمہوری رویوں کے مطابق ایک مربوط جدوجہد کرنے کا سبق دیا ۔ جرمنی میں روزنامہ مشرق لاہور کے نمائندہ منور علی شاہد نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر سب کے لئے ایک ایسی ڈھال کی حثیت رکھتی تھیں جن کے پیچھے رہ کر سبھی قدامت پسند معاشرے میں مظلوم طبقوں کی آواز بلند کرتے رہتے تھے۔ عاصمہ جہانگیر کی موجودگی ان سب کارکنوں، خصوصا خواتین کے لئے انتہائی حوصلے اور راہنمائی کا باعث تھی۔ ان کی بے باک طرز گفتگو نے ان کو دنیا میں متعارف کرانے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ عاصمہ جہانگیر جب تک زندہ رہیں انہوں نے فتویٰ فروشوں کو ہر دم بے نقاب کیا ۔

اجلاس کی صدر بشری اقبال نے تعزیتی اجلاس کی کارروائی  سمیٹے ہوئے کہا کہ ہم جو پردیس میں بیٹھے ہیں، ان میں ہر کوئی نہ کوئی زخم لے کر آیا ہے لیکن عاصمہ جہانگیر ایک ایسی شخصیت تھیں کہ وہ زخم کھا کر حالات کا مقابلہ آخری سانس تک کرتی رہیں۔ پاکستان میں بیگم رعنا لیاقت علی خاں، فاطمہ جناح، بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے بعد عاصمہ جہانگیر کی شخصیت ایسی ہے جس کی مثالیں دی جایا کریں گی۔ اردو جرمن کلچرل سوسائٹی کے صدرعرفان احمد خان نے اختتام پر تمام مقررین اور شرکا کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ عاصمہ جہانگیر کا جرمنی کے ساتھ گہرا تعلق تھا اس لئے ضروری تھا کہ ان کی یاد میں تعزیتی ریفرنس میں ان کو خراج عقیدت پیش کیا جائے۔ اور ان کی خدمات کا ذکر کیا جائے۔ اس موقع پر اسحاق اطہر اور میر نسیم الرشید نے منظوم کلام بھی پیش کیا۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...